بلوچستان میں پنجابی مزدوروں اور مسافروں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ محض انسانی جانوں کے زیاں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاستی رٹ، قومی وحدت اور بین الصوبائی اعتماد کی سنگین ناکامی بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں ان حملوں میں جو منظم اور پے در پے شدت آئی ہے، وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم جذباتی ردعمل سے آگے بڑھ کر اس مسئلے کو سنجیدہ، غیر جانب دار تجزیے اور پائیدار حل کے تناظر میں دیکھیں تاکہ نفرت کے اس سلسلے کو روکا جا سکے اور متاثرہ انسانوں کو انصاف مہیا کیا جا سکے۔بلوچستان میں پنجابی مسافروں اور مزدوروں کے خلاف پرتشدد حملوں کی شروعات 2013 میں ہو چکی تھی جب بولان کے علاقے مچھ میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والی آٹھ مسافر بسوں کو روک کر شناختی کارڈز چیک کیے گئے اور چودہ پنجابی مسافروں کو الگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ کسی گروہ نے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن شبہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں پر ظاہر کیا گیا۔ یہ واقعہ صوبے میں نسلی بنیادوں پر قتل کے پہلے بڑے سانحات میں سے تھا۔
اپریل 2024 میں ضلع نوشکی میں کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر سلطان چڑھائی کے مقام پر ایک مسافر بس کو روکا گیا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اغوا کر کے پل کے نیچے گولی مار دی گئی۔ ان میں سے اکثر محنت کش تھے جو ایران کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں تھے۔ بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ مقتولین خفیہ ایجنسیوں سے منسلک تھے، مگر بعد ازاں یہ الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ اگست 2024 میں ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں سب سے ہولناک واقعہ پیش آیا، جب ٹرکوں اور بسوں سے 23 افراد کو اتار کر شناخت کے بعد قتل کیا گیا۔ ان میں سے 17 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ حملہ آوروں نے دس سے زائد گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا۔ اس سانحے کی ذمہ داری بی ایل اے کے بشیر زیب گروپ نے قبول کی اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ مقتولین "ریاستی اداروں سے وابستہ" تھے۔ فروری 2025 میں ضلع بارکھان میں ایک بس روکی گئی اور سات پنجابی مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان کا تعلق لاہور، شیخوپورہ اور فیصل آباد سے تھا اور وہ ذاتی مصروفیات کے سلسلے میں بلوچستان آئے تھے۔ بی ایل اے نے اس کارروائی کو عسکری حملہ قرار دیا تاہم مقتولین کے پس منظر سے ثابت ہوا کہ وہ عام شہری تھے۔
اسی ماہ کی 19 تاریخ کو بارکھان میں ایک رہائشی عمارت میں گھس کر سات پنجابی مزدوروں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ لوگ یا تو علاج کی غرض سے آئے تھے یا مزدوری کی تلاش میں۔ حملہ آور نامعلوم تھے مگر طریقہ واردات سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ کارروائی بھی علیحدگی پسند تنظیم سے منسلک گروہ کی جانب سے کی گئی۔رواں ماہ ژوب کے علاقے سرہ ڈاکئی میں دو مسافر بسوں سے نو افراد کو اتارا گیا اور شناخت کے بعد قتل کیا گیا۔ مقتولین میں دو سگے بھائی بھی شامل تھے جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے دنیا پور جا رہے تھے۔ یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ شناخت کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بنانا اب بلوچستان کے مخصوص حصوں میں ایک معمولی حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں علیحدگی پسند گروہوں کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ ایسے افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو ریاستی اداروں کے لیے "کام کرتے ہیں"، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشانہ بننے والے بیشتر افراد عام شہری ہوتے ہیں جن کا سیاست یا سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان حملوں کے بعد جاری کیے جانے والے ویڈیو بیانات، اعترافی دعوے اور سوشل میڈیا پر وائرل کیے گئے مناظر کا مقصد صرف تشہیر اور خوف کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ریاستی سطح پر ردعمل عموماً روایتی انداز میں آتا ہے۔ مذمتی بیانات، سکیورٹی آپریشنز کے اعلانات اور وقتی ہدایات لیکن ان تمام کا زمینی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ حملوں میں کمی آتی ہے، نہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملتا ہے اور نہ ہی یہ سلسلہ رکنے کا نام لے رہا ہے۔ ان واقعات کے پیچھے کئی محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عنصر سیاسی تناؤ ہے ،جو بلوچ علیحدگی پسند گروہوں اور وفاقی حکومت کے درمیان دہائیوں پر محیط تصادم کا نتیجہ ہے۔ یہ گروہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو وفاقی اداروں کے نمائندے یا معاون تصور کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں "نرم ہدف" سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حملوں کے ذریعے نہ صرف طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے بلکہ قومی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی جاتی ہے۔ اکثر ان واقعات کی ویڈیوز یا بیانات سوشل میڈیا پر جاری کیے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خوف اور اشتعال پیدا ہو۔دوسرا بڑا محرک معاشی احساسِ محرومی ہے۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کا یہ دیرینہ مؤقف ہے کہ صوبے کے وسائل پر غیر مقامی افراد کا قبضہ ہے اور مقامی آبادی کو ان وسائل کا خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس تناظر میں پنجاب سے آنے والے مزدور یا تاجر بعض حلقوں کی نظر میں "معاشی استحصال" کی علامت ہیں۔تیسرا اہم محرک نسلی منافرت ہے، جو مخصوص بیانیے کے تحت پروان چڑھائی گئی ہے۔ علیحدگی پسند گروہ نوجوان نسل کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ پنجابی صرف دشمن ہیں، چاہے وہ عام مزدور ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حملوں میں نشانہ بننے والے افراد کی اکثریت عام شہری، مزدور اور مسافر ہوتے ہیں جن کا عسکری یا سیاسی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ان حملوں کے بعد حکومتی ردعمل عمومی طور پر مذمتی بیانات اور سکیورٹی اقدامات کی حد تک محدود رہتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حالیہ واقعات کو "غیر انسانی" قرار دیا اور مجرموں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا۔ وفاقی حکومت نے بھی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور سکیورٹی اداروں کو سخت اقدامات کی ہدایات دیں لیکن زمینی حقائق میں تبدیلی کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔ ان اقدامات کے باوجود، سکیورٹی خلا بدستور موجود ہے جس کا فائدہ عسکری گروہ اٹھاتے ہیں۔ ان سانحات کو صرف "سکیورٹی خطرہ" قرار دینا معاملے کی سنگینی کو کم کرنا ہے۔ یہ واقعات دراصل ایک وسیع تر سماجی، سیاسی اور نسلی پیچیدگی کی علامت ہیں جن کا حل صرف عسکری طاقت یا وقتی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ یاد رکھئے ایک ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف بندوق نہیں، بلکہ وہ احساسِ بیگانگی ہوتا ہے جو شہریوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کے قتل کے یہ واقعات نہ صرف قانون کی عملداری پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ایک ایسا بیانیہ درکار ہے جو نفرت کی بجائے احترام، انصاف اور شراکت پر مبنی ہو۔ تب ہی ان زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے جو برسوں سے رستے چلے آ رہے ہیں۔
بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل
09:41 AM, 13 Jul, 2025