قومی بیانیے پر اتفاقِ رائے، ڈی جی آئی ایس پی آر اور این پی اے سی کی ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف

03:18 PM, 13 Jan, 2026

راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر اور نیشنل پیس اینڈ کوآرڈینیشن (این پی اے سی) کے درمیان جی ایچ کیو میں 13اہم ملاقات ہوئی، جس میں قومی سلامتی، ریاستی بیانیے کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

این پی اے سی کے وفد نے پاک افواج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قومی بیانیے کے استحکام کے لیے ہر سطح پر تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ ملاقات میں فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فکری ہم آہنگی اور متفقہ بیانیہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سلامتی کے تناظر میں فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے پر ہونے والی گفتگو سے دونوں فریقین کا مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے۔

ملاقات کے دوران کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور اخلاقی مؤقف کی بھی توثیق کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مظلوم عوام کی حمایت پاکستان کی خارجہ اور اخلاقی پالیسی کا اہم ستون ہے۔

این پی اے سی نے منبر و محراب کے ذریعے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کے پیغام کو عام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ نفرت انگیز، فرقہ وارانہ اور تکفیری بیانیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا اور سچ پر مبنی بیانیہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ این پی اے سی نے ریاستی مؤقف کی ترویج کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستوں میں اضافے کی تجویز پیش کی۔

ملاقات کے اختتام پر اسے مثبت اور بامقصد قرار دیا گیا، جبکہ مستقبل میں باہمی اعتماد اور عملی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

مزیدخبریں