امریکہ و اتحادی، مسلم امہ، نصف صدی کی خونیں داستاں

09:04 AM, 13 Jan, 2026

یہ داستان محض حالیہ برسوں کی نہیں، بلکہ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، جس میں مسلم دنیا نے اپنی معاشی خود مختاری، سیاسی وقار اور قدرتی وسائل کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔ یہ وہ قصہ ہے جس کا محور تیل ہے، اور تیل کے گرد گھومتی عالمی سیاست، طاقتور ریاستوں کے مفادات، اور وہ مسلم رہنما ہیں جنہوں نے اس طاقت کو پہچانا، اسے استعمال کرنے کی کوشش کی، اور اس کی قیمت جانوں کی صورت میں ادا کی۔
یہ کہانی 1960 میں شروع ہوتی ہے، جب اوپیک (OPEC) کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے پانچ بنیادی اراکین ایران، سعودی عرب، عراق، کویت اور وینزویلا نے مغربی تیل کمپنیوں کی اجارہ داری کے خلاف کھڑے ہو کر عالمی معیشت میں توازن بدلنے کی بنیاد رکھی۔ اوپیک صرف ایک اقتصادی اتحاد نہیں تھا، یہ مسلم دنیا کی بیداری، وقار اور خود مختاری کی علامت تھا۔ تیل صرف دولت نہیں بلکہ طاقت کی کنجی بن چکا تھا، اور جس ملک نے اس کنجی پر قبضہ کیا، وہ عالمی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگا۔
ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی، سعودی عرب میں شاہ فیصل، عراق اور کویت کی قیادت اور وینزویلا کی قوم پرست حکومت نے بخوبی سمجھا کہ تیل کے بغیر عالمی سیاست میں اثر و رسوخ ممکن نہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ مسلم دنیا اگر متحد ہو جائے تو عالمی طاقت کے مراکز لرز سکتے ہیں۔ اوپیک کی طاقت کا عملی مظاہرہ 1973 میں ہوا، جب سعودی عرب کے فرمانروا شہید شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے عرب۔اسرائیل جنگ کے پس منظر میں تیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ تیل کی سپلائی میں کمی نے مغربی معیشتوں کو لرزا دیا اور واضح کر دیا کہ مسلم دنیا کے فیصلوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ فیصل کی قیادت صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی تھی۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو مسلم دنیا کے اجتماعی ضمیر سے جوڑا اور دکھا دیا کہ مظلوموں کے حق میں استعمال نہ ہو تو طاقت بے معنی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو رہنما عالمی طاقتوں کے مفادات کو للکارتا ہے، اس کے لیے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔ شاہ فیصل کی شہادت آج بھی اسی جرا¿ت مندانہ مو¿قف سے جڑی ہے۔ اسی دہائی میں مسلم دنیا کو ایک اور غیر معمولی رہنما میسر آیا گریٹ ذوالفقار علی بھٹو۔ اگرچہ پاکستان اوپیک کا رکن نہیں تھا، مگر بھٹو نے مسلم ممالک کو ایک وسیع تر سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اسی وژن کا عملی مظاہرہ تھا۔ یہ اجلاس محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ مسلم امہ کے سیاسی اتحاد اور مشترکہ موقف کا اعلان تھا۔
گریٹ ذوالفقار علی بھٹو نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایک طاقتور پلیٹ فارم پر جمع کیا، جس میں معمر قذافی، حافظ الاسد اور دیگر رہنماو¿ں کی شمولیت نے اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔ بھٹو کا خواب تھا کہ مسلم دنیا معاشی، دفاعی اور سفارتی طور پر خود مختار ہو۔ ایٹمی پروگرام اسی خود مختاری کی علامت تھا، جسے بھٹو نے پاکستان کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ مگر یہ خواب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا، آزاد خارجہ پالیسی کا حامل اور مسلم دنیا کو متحد کرنے والا رہنما عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے خطرہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گریٹ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا، اور ان کی شہادت مسلم دنیا کے ایک مشترکہ خواب کی قیمت ثابت ہوئی۔
یہی کہانی عراق میں دہرائی گئی، جہاں صدام حسین نے تیل کو قومی ملکیت میں لے کر ریاستی طاقت میں اضافہ کیا۔ صدام حسین نے مغربی دباو¿ کے باوجود خود مختاری کی پالیسی اپنائی، مگر امریکی محاذ آرائی، خلیجی جنگیں، پابندیاں اور بالآخر براہِ راست حملے نے عراق کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ صدام کا انجام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تیل پر حقِ ملکیت عالمی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
لاطینی امریکا میں یہی تجربہ وینزویلا کے ساتھ ہوا۔ آزاد خارجہ پالیسی اور قومی کنٹرول کے باعث وینزویلا پر معاشی پابندیاں، سیاسی دباو¿ اور عالمی تنہائی مسلط کی گئیں۔ امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ دباو¿ نے وینزویلا کے عوام کو مہنگائی، ادویات کی کمی اور بے روزگاری کے طوفان میں مبتلا کر دیا۔ یہاں جنگ بندوقوں سے نہیں بلکہ معاشی اور سفارتی دباو¿ کے ذریعے لڑی گئی۔ آج ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اسی نصف صدی کی جدو جہد کا تسلسل ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا اثر و رسوخ اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت بظاہر تنازع کے اسباب ہیں، مگر اصل مسئلہ وہی ہے: مسلم ممالک کے وسائل پر اختیار اور آزادانہ فیصلے کا حق۔ ایران کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ جو ملک خود مختاری کی بات کرتا ہے، اسے پابندیوں، تنہائی اور دباو¿ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ نصف صدی کی خونین داستاں ہمیں ایک تلخ مگر واضح سبق دیتی ہے۔ جب بھی مسلم دنیا کے رہنماو¿ں نے تیل کو صرف دولت نہیں بلکہ طاقت سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کی، انہیں اندرونی سازشیں اور بیرونی دباو¿ برداشت کرنا پڑا۔ شہید شاہ فیصل، گریٹ ذوالفقار علی بھٹو، قذافی، صدام یہ سب اس جدوجہد کی مختلف کڑیاں ہیں۔ کچھ تاریخ میں امر ہو گئے، کچھ عبرت بن گئے، مگر پیغام ایک ہی رہا: مسلم دنیا کے وسائل کی حفاظت اور خود مختاری کے لیے قربانیاں دینا لازمی ہیں۔ آج بھی سوال وہی ہے: کیا مسلم امہ اس تاریخ سے سبق سیکھ پائے گی؟ کیا تیل اور وسائل کو مشترکہ طاقت میں بدلا جا سکے گا، یا یہ دولت بدستور مداخلت، دباو¿ اور کمزوری کا سبب بنی رہے گی؟ نصف صدی کی یہ خونین داستان محض ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کا امتحان بھی ہے۔

مزیدخبریں