ایف آئی اے کے نئے ڈی جی ڈاکٹر عثمان انور کی کچھ خامیوں کے بارے میں اس وقت میں نے لکھا جب وہ آئی جی پنجاب تھے، خصوصاً ان کے دور میں ایک سیاسی جماعت کے لوگوں کے ساتھ جو ناجائز ظلم اور زیادتیاں ہوئیں اس پر بہت ہی کھل کر لکھا، ظل شاہ کی موت جو میرے نزدیک ایک قتل تھا اس پر بھی لکھا جس کی زد میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور بھی آئے مگر مجال کیا کبھی کوئی گلہ شکوہ انہوں نے مجھ سے کیا ہو یا اتفاقاً کسی محفل کسی تقریب میں مل گئے ہوں اپنی ناراضی کا احساس دلایا ہو، اس حوالے سے میں نے انہیں ایک بڑے ظرف والا انسان پایا ہے، ہمارے کچھ افسروں کی صرف کرسیاں یا عہدے ہی بڑے ہوتے ہیں، ظرف بہت چھوٹے ہوتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ ایسے ناراض ہوتے ہیں ایک ذاتی رنجش اور دشمنی دل میں پال کر بیٹھ جاتے ہیں، ایک بار میں نے ایک آئی جی کے بارے میں لکھا ”وہ بہت دیانت دار ہیں یہ بات اکثر لوگوں کو وہ خود بتاتے ہیں“، اتنا معصومانہ اور بے ضرر سا جملہ بھی وہ برداشت نہیں کر سکے پھر وہ جہاں بھی بیٹھتے میرے خلاف زہر اگلتے، انتقامی کارروائیاں کرتے، پنجاب کے ایک اور آئی جی بلکہ ”سپاہی جی“ نے میرے خلاف باقاعدہ ایک محاذ قائم کیے رکھا، اپنے ایک ماتحت ڈی پی او کی عزت کا جب وہ رکھوالہ نہ بن سکا، اس ڈی پی او کو سیاسی حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، میں نے اس کے اس کردار پر تنقید کی اور اس عزت دار دلیر ڈی پی او کے حق میں نہ صرف کالم لکھا بلکہ اس کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا اہتمام بھی کیا جس میں بہت سے دوست پولیس افسروں نے شرکت کی، اس آئی جی نے اس عشائیے میں شرکت کرنے والے تمام پولیس افسروں کو بلا بلا کر ڈانٹا کہ آپ اس قلم کار کے عشائیے میں کیوں گئے جس نے میرے خلاف لکھا ہے؟ یہ دھمکیاں بھی دیں میں آپ کی اے سی آر خراب کر دوں گا، آپ کا تبادلہ کر دوں گا، دوسری طرف وہ اپنے کچھ سینئر افسروں کو میرے پاس بھجواتا رہا کہ میں اس کی ناقص پالیسیوں یا اس کے متکبرانہ مزاج پر لکھنا بند کر دوں، پھر ایک روز میں بیرون ملک تھا جب ا±س کا اپنا فون آ گیا، وہ مجھ سے پوچھنے لگا ”میرا آپ سے کیا جھگڑا ہے؟“ میں نے کہا، کوئی جھگڑا نہیں ہے، سوائے اس کے آپ کی فطرت ظرف اور مزاج آپ کے عہدے کے مطابق نہیں ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور کا ظرف بہت بڑا ہے، انہیں من پسند پوسٹنگ شاید اسی لئے ملی ہے، یہ اعلیٰ ظرفی ان کی فطرت ،ہے جو کبھی نہیں بدلے گی، اسی بڑے ظرف کا مظاہرہ وہ بطور آئی جی پنجاب اپنے ماتحتوں کے لیے بھی کرتے رہے، ماتحتوں کو جتنی ترقیاں انہوں نے دیں اور ان کی فیملیز کو جتنی عزتیں انہوں نے دیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، بعض ماتحتوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سالہا سال سے ترقیاں رکی ہوئی تھیں، انہوں نے ان کی غلطیاں نظر انداز کیں، ا±نہیں معاف کر کے ترقیوں سے ہمکنار کر دیا۔ پنجاب پولیس کم از کم اپنی ترقیوں کے حوالے سے انہیں کبھی نہیں بھولے گی، مگر اس سلسلے میں میرے ایک اعتراض کو ڈاکٹر عثمان انور بھی شاید جائز سمجھیں گے، جتنی ترقیاں ا±نہوں نے اپنی ماتحت فورس کو جائز ناجائز دیں ا±س کی لاج نہیں رکھی گئی، ماتحت پولیس کے رویے میں رتی بھر فرق نہیں آیا، رشوت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی لوگوں کے ساتھ بدتمیزیاں بداخلاقیاں پہلے سے زیادہ بڑھ گئیں، ظلم پہلے سے زیادہ بڑھ گیا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی ڈاکٹر عثمان انور سزا اور جزا کے نظام میں توازن نہیں رکھ سکے جس کا بھرپور ناجائز فائدہ ا±ن کی ماتحت فورس نے ا±ٹھایا، بطور ڈی جی ایف آئی اے اب ہم ان سے یہ توقع کرتے ہیں وہ سزا اور جزا کے نظام میں توازن قائم کریں گے۔ ایف آئی اے کا قبلہ پنجاب پولیس سے زیادہ خراب ہے، یہاں کرپشن پنجاب پولیس سے زیادہ ہے، عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے جو تین چار برس تک ایف آئی اے کی نوکری یا افسری کر لے پھر اسے مزید نوکری یا افسری کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، اپنی اگلی چار پانچ نسلوں کے لیے مالی آسودگی کا بندوبست اس دوران وہ بڑی آسانی سے کر لیتا ہے، نئے ڈی جی ڈاکٹر عثمان انور سے ہم یہ توقع نہیں کرتے وہ اس کرپشن پر مکمل قابو پا لیں گے، البتہ اس کرپشن میں تھوڑی بہت کمی کر کے یہ پیغام وہ ضرور دے سکتے ہیں وہ ایف آئی اے کے کچھ سابقہ ڈائریکٹر جنرل صاحبان سے مختلف کردار کے حامل ہیں، ڈاکٹر عثمان انور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے بطور آئی جی پنجاب ان کا عرصہ سب سے طویل تھا، وہ تقریباً تین برس تک مسلسل آئی جی پنجاب رہے، اس دوران ان کے خلاف کئی سازشیں ہوئیں، سب سے زیادہ سازشیں لاہور میں تعینات عہدے کے اعتبار سے بڑے مگر کردار کے اعتبار سے انتہائی چھوٹے پولیس افسر نے کیں، شاید ان ہی سازشوں کے نتیجے میں وہ ایڑی چوٹی و دیگر اعضاءکا پورا زور لگا کر بھی آئی جی پنجاب نہیں بن سکا، کچھ اور وجوہات بھی ہوں گی، ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے لاہور سے پرتگال تک کرپشن کہانیاں زباں زد عام ہیں، ابھی ا±س کی ریٹائرمنٹ میں کچھ برس شاید باقی ہیں، آئندہ اپنے سینئرز کے خلاف سازشیں وہ بند کر دے، اپنی طمع، ہوس اور حرص پر تھوڑا کنٹرول کرے، شاید ا±س کی کچھ گریس بحال ہو جائے اور مستقبل میں آئی جی پنجاب بننے کی خواہش بھی پوری ہو جائے، اپنے موجودہ عہدے سے ا±س نے اتنا کمایا اور کمائی جا رہا ہے سوائے آئی جی پنجاب کے اور کوئی عہدہ ہی ا±سے نہیں بھاتا۔ ڈاکٹر عثمان انور کے تبادلے پر مختلف صحافیوں اور اینکرز نے مختلف کہانیاں گھڑیں، مجھے اپنے ان دوستوں کی ”ناقص معلومات“ پر ہنسی آتی تھی، ا±ن کے فوری تبادلے کی اصل کہانی مجھے ایک وفاقی سیکرٹری نے اس شرط پر بتائی میں اس کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا، میں اپنے وعدے پر قائم ہوں مگر مجھے یقین ہے یہ کہانی کبھی نہ کبھی خود ہی منظر عام پر آ جائے گی، بطور ڈی جی ایف آئی اے اسلام آباد میں اپنی تعیناتی کے دوران بائیسواں گریڈ بھی اب شاید انہیں آسانی سے مل جائے، اتنی خدمات کے بعد اب یہ ان کا حق بنتا ہے، ان سے پہلے ڈی جی راجہ رفعت مختار کو شاید ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مقرر کیا گیا تھا، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس ”کم کماﺅ عہدے“ پر اپنا تبادلہ انہوں نے قبول نہیں کیا، ممکن ہے اب انہیں آئی جی ریلویز لگا دیا جائے، یہ سیٹ خالی پڑی ہے، دوسرا جو نام آئی جی ریلویز کے لیے چل رہا تھا وہ اپنے موجودہ کماﺅ عہدے پر ہی خوش ہے، اس سے بس ایک گزارش ہے اب موجودہ انتہائی دیانت دار انتہائی نفیس آئی جی راﺅ عبدالکریم کے خلاف ویسی سازشیں نہ کرے جیسی ڈاکٹر عثمان انور کے خلاف وہ کرتا رہا ہے، ورنہ مستقبل د±ور میں تھوڑا بہت چانس ا±س کے آئی جی پنجاب بننے کا جو ہے وہ بھی نہیں رہنا۔۔ ہیں جی
ڈاکٹر عثمان انور
09:05 AM, 14 Feb, 2026