بانی کی صحت

09:04 AM, 14 Feb, 2026

 عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کے حکم پر Friend of Supreme Courtکی حیثیت سے ان سے ساڑھے تین گھنٹے کی ملاقات کے بعد جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے اس میں ککڑ کڑاہیوں سے لے کر ایئر کولر اور ہیٹر تک ان تمام سہولتوں کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جمع کروائی تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو میڈیا میڈیا کھیلنا آتا اور اس میدان میں دور دور تک ان کا کوئی ثانی بھی نہیں ہے ۔ خان صاحب سے جب بھی ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی تو ان کی صحت کے حوالے سے اس قدر پروپیگنڈا کیا گیا کہ حکومت کو یہ بتانے کے لئے کہ ان کی صحت ٹھیک ہے مجبوری کے عالم میں ملاقات کروانی پڑی لیکن اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان ہوں یا کوئی بھی کسی کی بھی صحت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی یا غفلت کسی صورت نہیں ہونی چاہئے اور عمران خان چونکہ ملک کے ایک سابق وزیر اعظم ہیں اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد بھی ہیں تو ان کی صحت کے متعلق تو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور حکومت کو چاہئے کہ عمران خان کے ذاتی معالج یا جس ڈاکٹر سے وہ چاہتے ہیں اور جہاں سے وہ چاہتے ہیں ان کی مرضی و منشا کے مطابق ان کی آنکھ کا علاج کروائیں ۔ اس کے علاوہ ان کی فیملی سے بھی جیل قوانین کے تحت ملاقات ہونی چاہئے اور ان کے دونوں بیٹے سلمان اور قاسم سے بھی ان کی بات ہونی چاہئے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی جانب کہ اول بانی کی صحت کے حوالے سے ان کی آنکھ کے متعلق تحریک انصاف کی جانب سے جو کہا جا رہا ہے اس میں کس حد تک صداقت ہے اور دوسرا تحریک انصاف کے اپنے دور میں جب اس وقت کی کم و بیش پوری حزب اختلاف ہی جیل میں تھی تو ان کی صحت اور جیل میں ان کو دی گئی سہولتوں کے حوالے سے تحریک انصاف اور عمران خان کا کیا رویہ تھا ۔
آج جو لوگ اس بات کا شکوہ کر رہے ہیں کہ خان صاحب کی ان کی بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی اور خود خان صاحب نے اس بات کا گلہ کیا ہے کہ ان کی بیٹوں سے بات نہیں کروائی جا رہی تو کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ مکافات عمل ہے ۔ کسی کو اگر یاد نہیں تو ہم یاد کروا دیتے ہیں کہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ بستر مرگ پر تھیں تو میاں نواز شریف کی بار بار درخواست کے باوجود بھی ٹیلی فون پر ان کی بات نہیں کروائی گئی بلکہ اس وقت تحریک انصاف کی جانب سے جو کچھ کیا گیا اسے سوچ کر انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ لندن میں جس ہسپتال میں محترمہ کلثوم نواز صاحبہ زیر علاج تھیں تحریک انصاف کے کارکن اس ہسپتال میں گھس گئے صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ واقعی بیمار ہیں یا یہ کوئی سیاسی ہتھکنڈا ہے ۔ اس کے علاوہ جب ان کا جسد خاکی پاکستان لایا جا رہا تھا تو سوشل میڈیا پر خدا معاف کرے اسے پارسل کہہ کر تمسخر اڑایا جا رہا تھا اور خان صاحب خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ۔سعد رفیق اور احد چیمہ کی بیرکوں میں آگ لگی اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ سب وفاداری بدلنے کے لئے کیا جا رہا تھا ۔رانا ثنا اللہ کی بیرک میں شیرہ ڈالا گیا تاکہ وہاں پر چیونٹیاں آئیں ۔ آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو چاند رات کو آدھی رات کے وقت ہسپتال سے گھسیٹ کر جیل لے جایا گیا ۔ مریم نواز کو جیل میں قید میاں صاحب کے سامنے گرفتار کیا گیا ۔ محترمہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو مزار قائد کا تقدس پامال کرنے کے نا کردہ جرم میں ہوٹل کا دروازہ توڑ کر کراچی سے گرفتار کیا گیا ۔ اس کے علاوہ کوئی اور نہیں بلکہ خود عمران خان اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ نواز شریف مجھے ملک آ جانے دو تیرا اے سی تو میں اتراﺅں گا اور زرداری میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا تم بھی میری نشست (شست) پر ہو اور رانا ثنا اللہ میں تمہیں نہیں چھوڑں گا۔ 
یہ وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا 
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں 
دامن کالم میں گنجائش نہیں رہی ورنہ یہ تفصیل بڑی لمبی ہے لیکن اب بات کرتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کس حد تک سچائی ہے ۔ چونکہ معاملہ کسی کی صحت کا ہے توہم اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے اسے من و عن درست تسلیم کرتے ہیں لیکن بس چند سوالات ہیں ان کا جواب نہیں مل رہا کہ بقول تحریک انصاف کہ خان صاحب کو آنکھ میں تکلیف اکتوبر سے ہے تو کیا اس حوالے سے ان کے طبی معائنہ کے لئے جیل احکام یا قومی اسمبلی یا سینٹ یا سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک کسی عدالت میں کوئی تحریری درخواست دی گئی ۔ اکتوبر میں خان صاحب سے 9ملاقاتیں ہوئیں ۔2اور4 نومبر کو ملاقاتیں ہوئیں ۔ پھر 2دسمبر کوڈاکٹر عظمیٰ کی ملاقات ہوئی اور 8دسمبر کو بھی ملاقات ہوئی ۔ ان تمام ملاقاتوں کے وقت اگر عمران خان کی آنکھ میں کوئی مسئلہ تھا تو جیل سے باہر آ کر ان کی صحت کے متعلق ” سب ٹھیک ہے “ کی رپورٹیں کیوں دی جا رہی تھیں لیکن اب سپریم کورٹ نے 16دسمبر تک ان کے میڈیکل چیک اپ اور اس کی رپورٹ مانگ لی ہے امید ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی۔

مزیدخبریں