”پالیسی“ اور ”پبلک“ کے درمیان کم ہوتی دیوار

09:03 AM, 14 Feb, 2026

ریاستی ادارے جب اپنے دروازے کھولتے ہیں تو صرف عمارتوں کے در نہیں کھلتے، سوچ کے دریچے بھی وا ہوتے ہیں۔ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (NSPP) میں ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی کی جانب سے منعقدہ این آئی پی پی پبلک پالیسی اور بک فیسٹ میں شرکت میرے لیے محض ایک تقریب میں حاضری نہ تھی، بلکہ ایک بدلتے ہوئے ادارہ جاتی مزاج کا مشاہدہ تھا۔ وہاں دوستوں اور ساتھیوں سے پ±رخلوص ملاقاتیں ہوئیں.... اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، اور سینئر سول سرونٹ و سابق چیف ریکٹر این ایس پی پی ڈاکٹر اعجاز منیر اور ڈکٹر سعید الہی سے تبادلہ خیال نے اس نشست کو فکری وقار عطا کیا۔
یہ فیسٹیول ایک خیال سے شروع ہوا.... اور ہر بڑا قدم پہلے خیال ہی ہوتا ہے۔ ڈین NIPP ڈاکٹر نوید الٰہی نے جس وژن کے تحت اسے تصور دیا، ریکٹر NSPP ڈاکٹر جمیل آفاقی اور ڈائریکٹر NIPP محترمہ عشرت اختر نے اسے عملی صورت میں ڈھال کر ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو ادارے روایت کی زنجیروں کو توڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کے پالیسی منظرنامے میں یہ ایک نئی روایت کی بنیاد تھی.... جہاں پالیسی ساز، دانشور اور عام شہری ایک ہی چھت تلے مکالمہ کرتے دکھائی دیے۔
ہمارے ہاں پالیسی سازی اکثر بند کمروں کا استعارہ رہی ہے۔ فیصلے ہوتے ہیں، فائلیں چلتی ہیں، اور عوام کو نتائج سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ مگر اس فیسٹیول نے ایک مختلف راستہ دکھایا.... یہ پیغام دیا کہ پالیسی محض سرکاری نوٹ شیٹ کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ مکالمہ ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات کی آواز شامل ہونی چاہیے۔
اس تقریب میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کی موجودگی نے اسے سیاسی گہرائی دی۔ دونوں شخصیات نے مختلف کتابی سٹالز کا دورہ کیا۔ نظریہ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کی نمائشیں دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ اور حال ایک دوسرے سے ہم کلام ہوں۔ نظریات اگر کتابوں میں مقید ہو جائیں تو جامد ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ عصری مباحث سے جڑتے ہیں تو نئی توانائی پیدا کرتے ہیں۔
تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف بیوروکریسی یا پالیسی ساز طبقہ ہی نہیں، بلکہ صحافی، ماہرین تعلیم، ادیب، اور سیاسی کارکن بھی شریک تھے۔ یہ وہ نادر لمحہ تھا جب “پالیسی” اور “پبلک” کے درمیان حائل دیوار کچھ کم ہوتی محسوس ہوئی۔ پہلی بار اس فیسٹیول کو عام شہریوں کے لیے کھولنا محض انتظامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک علامتی اعلان تھا کہ ریاستی ادارے شفافیت اور شمولیت کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔
پینل مباحثوں کے موضوعات بھی وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے تھے۔ بلدیاتی نظام کا مستقبل.... جو جمہوریت کی نرسری سمجھا جاتا ہے.... ہمیشہ سے بحث طلب رہا ہے جس پر مقررین نے کھل کر گفتگو کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نچلی سطح پر اختیارات کی حقیقی منتقلی کے لیے تیار ہیں یا اب بھی مرکزیت کے حصار میں قید ہیں؟ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر سکیورٹی کا مسئلہ محض تکنیکی موضوع نہیں رہا، بلکہ قومی سلامتی اور شہری آزادیوں سے جڑا معاملہ بن چکا ہے۔ پاک.... بھارت تعلقات پر گفتگو نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ خطے کا امن صرف سرحدوں پر نہیں، ذہنوں میں بھی طے ہوتا ہے۔
کتب پر ہونے والی نشستوں نے فیسٹیول کو محض پالیسی مکالمہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری اور ادبی وسعت عطا کی۔ سابق آئی جی پنجاب ذولفقار چیمہ کی کتاب ”جہد مسلسل“ اور احسن رانا کی کتاب ”ہیں کواکب کچھ“ پر گفتگو نے یہ احساس تازہ کیا کہ ادب اور پالیسی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ادب انسانی احساسات اور معاشرتی تجربات کا آئینہ ہے، جبکہ پالیسی ان تجربات کو عملی سمت دینے کا ذریعہ۔ جب دونوں کا امتزاج ہوتا ہے تو مکالمہ زیادہ گہرا اور بامعنی ہو جاتا ہے۔
اس فیسٹیول کا سب سے بڑا پیغام یہی تھا کہ ریاستی ادارے اگر چاہیں تو عوام سے دوری کی خلیج پاٹ سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ایک تقریب سے نظام نہیں بدلتے، مگر سمت کا تعین ضرور ہو جاتا ہے۔ اگر یہ روایت تسلسل اختیار کرے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں پالیسی سازی کا عمل زیادہ شفاف، زیادہ جامع اور زیادہ عوامی ہو۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی درجہ حرارت اکثر بلند رہتا ہے، وہاں سنجیدہ مکالمے کی روایت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے، اور تنقید کو بغاوت۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ کھلے مباحث کا اہتمام کرے تو اسے سراہا جانا چاہیے۔ کیونکہ مکالمہ ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
ڈاکٹر نوید الٰہی اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے نوجوان نسل کو پالیسی مباحث میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ آج کا طالب علم صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا؛ وہ سوال کرنا چاہتا ہے، سمجھنا چاہتا ہے، اور اپنے حصے کی رائے دینا چاہتا ہے۔ ایسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ محض تماشائی نہیں بلکہ قومی بیانیے کا حصہ ہیں۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا اسی وقت قائم ہوتی ہے جب دونوں کے درمیان مکالمہ جاری رہے۔ اگر NSPP جیسے ادارے اس روایت کو مضبوط کریں تو یہ نہ صرف پالیسی سازی کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ جمہوری اقدار کو بھی تقویت دے گا۔
میں اس تقریب سے لوٹا تو میرے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا: کیا یہ ایک وقتی تجربہ ہے یا ایک مستقل روایت کی ابتدا؟ اگر یہ تسلسل اختیار کر گیا تو یقیناً پاکستان کے پالیسی افق پر ایک روشن لکیر ثبت ہو جائے گی۔
ریاستی اداروں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں، ان کی سوچ میں ہوتی ہے۔ اور جب سوچ میں وسعت آتی ہے تو دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ این آئی پی پی پبلک پالیسی اور بک فیسٹیول اسی وسعت کی ایک جھلک تھا.... ایک ایسا قدم جو پالیسی کے ایوانوں کو عوام کی آواز سے جوڑنے کی جانب اٹھایا گیا۔
اگر ہم واقعی ایک باشعور، باخبر اور متحرک معاشرہ چاہتے ہیں تو ایسے مکالموں کو فروغ دینا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف فیصلوں سے نہیں، فہم و ادراک سے آگے بڑھتی ہیں۔ اور فہم اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب گفتگو کا در وا ہو۔
یہ فیسٹیول اسی کھلے در کا استعارہ تھا.... اور امید ہے کہ یہ در اب بند نہیں ہوگا۔

مزیدخبریں