انسانی مشاغل بھی ان گنت ہیں۔ تمام کھیلیں بنیادی طور پر مشاغل ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح شکار صدیوں پرانا مشغلہ ہے اور شیر کا شکار انتہائی قابل فخر مشغلہ ٹھہرتا ہے۔ آنے والی نسلیں ڈرائنگ روم میں شکار شدہ شیر کی کھال لٹکائے رکھتے ہیں۔ شیر کا شکار انسانی مشغلہ اور اگر شیر پنجہ مار دے تو اس کی درندگی! درندگی اور مشغلے میں فرق جان کر جئیں۔
Athiest یعنی Non believer منکر اللہ کو نہ ماننے والا۔ کیا عملی طور پر اس کی انتہائی کثیر تعداد مذاہب کو ماننے والوں میں نہیں ہے۔ جہاں انسانی قتل عام ہوتا آیا اس میں اسلام، عیسائیت، یہودیت کے پیروکار حکمرانوں کا طرزعمل دیکھ لیں۔
٭لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَن±تَ سُب±حَانَکَ اِنِّی± کُن±تُ مِنَ الظَّالِمِی±نَ قرآنی آیت مبارکہ ہی نہیں ہر شخص کی کہانی بھی ہے۔
٭دین اسلام آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک مکمل ہے باقی تمام باتیں زمینی ثقافت و تاریخ، اجماع و مصلحت کے حوالے سے وراثت میں ملی ہیں اور ثقابت بن گئیں۔ ٭توحید پر ایمان صرف یہ نہیں کہ انسان اللہ کو ایک مانے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کسی کو شریک ٹھہرانا بھی توحید کی نفی اور شرک ہے۔ ٭موت کے خوف کی جگہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور مالک دو جہاں سے ملاقات کا شوق پیدا ہو جائے تو انسان ولی اللہ اور زندگی آسان ہو جائے۔ ٭انسان کے بس میں اتنا ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے بس تسلیم کر لے۔ ٭اپنے منفی کردار کے بیجوں کی بوئی ہوئی فصل کاٹنا انسان کو سب سے بُرا اور تکلیف دہ عمل لگتا ہے۔ ٭ ”جان حاضر ہے“ کہنے والوں سے ان کی دولت کا صرف ایک فیصد ہی مانگ لیں تو وہ جان لینے کے درپے ہو جائیں گے۔ ٭انسانی عمل گنبد کی آواز ہے جو لوٹ کر آتی ہے، جیسی صدا اور آواز دی جائے گی ویسی ہی واپس کانوں کو آئے گی۔ ٭دکھ کے چند لمحے سالہا سال کی عبادت کے مقابلے میں انسان کو کہیں زیادہ اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ ٭اس سے بڑھ کر کوئی سانحہ اور لطیفہ نہیں کہ ہر انسان موت اور انجام کی طرف بھاگ رہا ہے یہ سمجھ کر کہ وہ انجام اور موت پیچھے چھوڑ آیا یا اس سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ٭خدا کے بنائے ہوئے رشتے فطری طاقت اور انسان کے بنائے ہوئے رشتے بشری کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں۔ ٭اس کائنات میں سب سے ناپائیدار صرف انسانی زندگی ہے اور جانداروں میں انسانی زندگی خواہشات اور حسرتوں کے سبب سب سے زیادہ عبرتناک انجام سے وابستہ ہے۔ ٭جس نے زندگی کو ناپائیدار اور فانی سمجھا اسی نے زندگی کا راز پا لیا۔ ٭زندگی کا حاصل وہ تذکرہ ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے چھوڑ دیا۔ ٭غم اور خوشی سوچ کے ہی دو انداز ہیں۔ ایسے واقعات جن کا تصور ہی ہلا کر رکھ دے جن کے سوچنے کی ہمت بھی نہ ہو وہ وقوع پذیر بھی ہو جاتے ہیں اور انسان کو احساس بھی باقی نہیں رہتا کہ وہ برداشت بھی کر چکا ہے۔ ٭روح کا روح سے تعلق ہی دائمی ہوا کرتا ہے جس کے ابلاغ کے لیے کسی رابطے کی ضرورت نہیں۔ ٭جس بندگی میں خشوع و خضوع اور مکمل حاضری اور عرفان نہیں وہ عبادت و ریاضت محض مشقت و عادت ہے یا زیادہ سے زیادہ فرض کی ادائیگی۔ ٭نیکی وہ ہے جو کسی کو بغیر استحقاق، خوف، لالچ کے سکھ، آسانی، سکون اور ضرورت میسر کر دی جائے، اگر کسی کا استحقاق ہے جو ادا کر دیا تو وہ فرض ہے، ادا نہ کرنا گناہ اور قرض ہے۔ ٭سکھ، دکھ، سکون، عزت، ادب، ذلت، عظمت، راحت رد عمل کی صورت میں لوٹتے ہیں۔ ٭شکوے کی صورت میں دل و دماغ اور شعور میں پیدا ہونے والے الفاظ، فقروں، خیالات اور احساسات کا اظہار نہ کرنا صبر ہے۔ کچھ کرنے کی ہمت و تدبیر ہونے کے باوجود خلاف نفس حالات کو قبول کرنا صبر کی معراج ہے اور اس پر شکر کرنا، تزکیہ نفس اور نفس مطمئنہ کی معراج ہے۔ ٭جس کو سکھ نہ دیں اس کی دعا پر یقین کامل اور جس کو دکھ نہ دیا ہو اس کی بددعا سے خوف بے معانی اور بے اثر ہے۔ ٭پاس ہوتے ہوئے بھی اداس رہنا محبت و روحانی تعلق اور ہم آہنگی کا مظہر ہے جسے محبتوں کی معراج کہا جا سکتا ہے۔ ٭زندگی کا راز اس کو فانی اور کردار کو لافانی جان لینے میں ہے۔ ٭روح کا روح سے تعلق دائمی ہے جو ابلاغ کے لیے رابطہ کی محتاج نہیں اس کی تقویت و گہرائی خواہش نفس اور ضرورت جسم و جان کی نفی میں مضمر ہے۔ انسانی وجود کا سفر موت تک ہے جبکہ روح کا سفر ہمیشہ کے لیے ہے۔ ٭خاموشی میں ابلاغ ہونا محبت و ہم آہنگی کا نقطہ عروج ہے۔ ٭فطرت سے ٹکرانا بدنصیبی اور نتیجہ شکست و ریخت۔ ٭ہم اپنے عزیز و اقارب کے لیے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اپنے اسلاف کے متعلق غیر مصدقہ تاریخی حوالے لے آتے ہیں جبکہ عشق و تقلید کا تقاضا بھرپور جانبداری ہے۔ ٭زندگی کے متعلق صدیوں اور برسوں کا تصور اور احساس لمحوں کے لیے ہو جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ سال صدیاں مہینے اجتماعی پروگرام کے لیے اور لمحے ذاتی معاملہ کے لیے مختص ہو جائیں تو انسانیت کے اصولوں پر مبنی معاشرہ کے ثمرات حاصل ہو جائیں۔ ٭آج کا سانحہ بے حسی ہے۔ ٭آج کے کردار کا معیار ہے کہ افراد کے اعمال ایسے ہو گئے، پس غیر موجودگی میں سچ بولنے والے غیبت کے گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ٭یوں تو لوگ عجز و انکساری کا زبانی دعویٰ کرتے ہیں لیکن اگر ان سے اتفاق کر لیا جائے تو شدید غصہ کر جاتے ہیں۔ ٭خدا کسی عقاب کو غذا اور پناہ کے لیے کسی چرند پرند کے گھونسلے میں نہ لے جائے۔ ٭حق، اصول اور انا کی خاطر مرنے کے بعد اکڑنے سے
بہتر ہے مرنے سے پہلے ہی اکڑ جائیں۔ ٭دنیا کی ہر شے فانی ہے مگر ماضی لافانی ہے۔ ٭ہر چیز پر قدرت ہو سکتی ہے بلکہ ہو گی لیکن ماضی پر نہیں۔ ٭انسان اپنے حسب نسب کے تعارف کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور اپنے کردار و عمل کی پہچان کے ساتھ اس دنیا سے جاتا ہے۔ ٭قہقہے اور بلک بلک کر رونے میں لمحے بھر کا فاصلہ ہوتا ہے پھر صدیوں کا گمان کیوں ہو۔ ٭انسان اگر اپنا عمل اور طرز عمل ایسا بنائے کہ اس کا Replay بھی دیکھ سکے تو کسی ایسی غلطی کا احتمال نہیں بلکہ تصور بھی نہیں کر سکتا جس سے اس کی دنیا اور آخرت میں گرفت ہو سکے۔ ٭عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے۔ ٭جھکنے سے پھل نہیں بلکہ پھل لگنے سے درخت جھکتے ہیں۔ ٭چند لمحوں میں نہیں، چند سال میں نہیں نظریات و اقدامات اور افراد کے بارے میں منفی اور مثبت، کامیاب اور ناکام ہونے کا فیصلہ صدیوں تک بھی زیر بحث رہ سکتا ہے۔ ٭کئی معززین معاشرہ ایسے ہیں جن سے پیسہ اور مال و متاع الگ کر لیا جائے تو ایک بھی انسانی صفت باقی نہیں بچتی۔ ٭والدین خواہ مخواہ گلا مند ہوتے ہیں عورت (حوا) کی محبت میں تو آدم نے ممنوعہ شجر سے پھل کھا لیا تھا۔ ٭وقتاً فوقتاً اپنی ڈائری میں درج کیے ہوئے کچھ الفاظ اور خیالات پیش کر دئیے ہیں یہ جملے دل میں کتنے گہرے اثرات رکھتے ہیں یہ آپ جانیں۔
دعوتِ سخن
09:04 AM, 14 Feb, 2026