بنگلہ دیش میں جولائی 2024ءکے انقلاب کے بعد فروری 2026ءمیں عام انتخابات ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیشی نوجوانوں نے ایک ظالم اور غیر جمہوری حکومت کو طاقت کے زور پر ایک پرامن انقلاب کے ذریعے ختم کیا۔ حسینہ واجد بنگالیوں کے بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہیں۔ شیخ مجیب الرحمن ایک سیاستدان تھے۔ جینئن سیاستدان تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کے حقوق کی جنگ لڑی۔ نظریاتی اور عملی طاقت کے ذریعے انہوںنے بنگلہ دیش تخلیق کیا۔ اس دور کی عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت خداداد کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اسی سانحے کے تین اہم کردار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو، جنرل یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمن۔ یہ تمام کردار پاکستانی تھے جبکہ بنگلہ دیش کی تخلیق میں حتمی کردار بھارتی لیڈر اندراگاندھی نے ادا کیا۔ اس سانحے کے حوالے سے بہت سی آراءپائی جاتی ہیں۔ ہم نے تو اس سانحے کو کلیتہً بھلا دیا ہے۔ ہماری نئی نسل مشرقی پاکستان سے متعلق شاید باخبر نہیں ہے لیکن بنگالیوں نے اس سانحے سے متعلق شیخ مجیب الرحمن کو قتل کر کے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ بنگلہ دیش کا قیام جہاں ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھا وہاں غیروں کی سازشوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ بنگالیوں نے شیخ مجیب کے پورے گھرانے کو قتل کر کے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ حسینہ واجد کیونکہ اس وقت ملک سے باہر تھی اس لئے اپنی قوم کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئیں۔ قوم نے جولائی 2024ءکے انقلاب کے ذریعے شیخ مجیب الرحمن خاندان کا سانحہ مشرقی پاکستان میں گھناﺅنا کردار ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ حسینہ واجد نے بھارت میں پناہ لے کر سانحہ مشرقی پاکستان میں بھارتی کردار کے تاثر پر حقیقت کی مہر ثبت کر دی ہے۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہو چکے۔ بنگلہ دیش کی نیشنلسٹ پارٹی واضح اکثریت سے جیت چکی ہے۔ طارق رحمن جو بیگم خالدہ ضیاءکے بیٹے ہیں، بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم ہوں گے۔ بنگلہ دیش ایک بار پھر پاکستان کی طرف لوٹ رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی، سیاسی اور معاشی تعلقات بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ بھارت کے اپنے کسی بھی ہمسائے کے ساتھ تعلقات ہموار اور متوازن نہیں ہیں۔ بھارت بڑے بھائی کی بجائے بدمعاش اور غنڈے کی طرح سوچتا اور برتاﺅ کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو علاقے کا چودھری سمجھتا ہے۔ پاکستان تو چلو ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے بھارت کو چیلنج کرتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ جنگیں بھی کرتا ہے، کبھی ہارتا ہے، کبھی جیت جاتا ہے۔ پاکستان بھارتی عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، دیگر چھوٹے ممالک بشمول نیپال، سری لنکا وغیرہ بھی بھارتی چودھراہٹ قبول نہیں کرتے ہیں۔ حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکمرانی میں بھارت بنگلہ دیش پر چھایا رہا۔ بنگالیوں نے بابائے بنگلہ دیش کی بیٹی حسینہ واجد کی ایسی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا اور پھر جولائی 2024ءمیں انہیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ حسینہ واجد فرار ہو کر اپنے مربی و سرپرست کے پاس بھارت پناہ گزین ہوئیں۔
الیکشن 2026ءکے نتیجے میں دو جماعتیں واضح انداز میں سامنے آئی ہیں۔ بیگم خالدہ ضیا کی بی این پی اور جماعت اسلامی، جن نوجوانوں نے انقلاب برپا کیا تھا، ان کی نیشنل سٹیزن پارٹی کو انتخابات میں پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کو اپنے ووٹ سے اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا موقع ملا ہے۔ اب جو حکمران ہوں گے وہ بھی عوامی رائے کے مطابق ہیں اور جو اپوزیشن میں بیٹھیں گے وہ بھی بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ ہوں گے۔الیکشن 2026ءکے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت اور اپوزیشن کی ایک اور بہت اچھی بات یہ ہے کہ دونوں عوام کے بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ پاکستان دوست ہوں گی۔ خطے کی سیاست میں پاکستان پہلے ہی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ مئی 2025ءمیں بھارت کو عبرتناک شکست دے کر پاکستان اپنی حیثیت منوا چکا ہے۔ حسینہ واجد کے زوال کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک بھرپور انگڑائی لے چکے ہیں۔ سفارتی اور معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی رابطے شروع ہیں۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی ایک اہم پل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور جماعت اسلامی پاکستان کو تنظیمی طورپر الگ الگ جماعتیں ہیں لیکن نظری و فکری طور پر ایک ہیں۔ 90 سال سے زائد تاریخی تسلسل میں یکجہتی پائی جاتی ہے۔ بنگالی مسلم لیگ کے بانی تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے ڈھاکہ میں جنم لیا تھا۔ ہندوﺅں کے خلاف جدوجہد میں بھی بنگالی ہراول دستہ تھے۔ قرارداد پاکستان پیش کرنے والے شیر بنگال تھے اور تحریک پاکستان میں قربانیاں دینے کی لازوال داستانیں بھی بنگالیوں نے رقم کی تھیں۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت خداداد تخلیق کرنے کی جدوجہد میں بھی بنگالی صف اول میں کھڑے تھے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کو تھوڑی دیر سے اگر بھول جائیں تو بنگالیوں کے ساتھ ہماری طویل خوشگوار یادیں ہیں۔ مشترکہ سیاسی جدوجہد کی یادیں انگریزوں اور ہندوﺅں کے خلاف جدوجہد کی یادیں اور سب سے بڑھ کر مذہبی و دینی اشتراک عمل کی یادیں ہمارا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ جماعت اسلامی اس
حوالے سے ایک اہم اور موثر کڑی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ایسے اثاثہ جات کی بازیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ 2024ءکے انقلاب میں بنگال کی اسلامی جمعیت طلبہ نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس طرح پاکستان کو متحد رکھنے کے لئے جماعت اسلامی کے نوجوانوں نے البدر اور الشمس کے پرچموں تلے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ انقلاب 2024ءکے بعد تعلیمی اداروں میں ہونے والے سٹوڈنٹ یونین انتخابات میں بھی جمعیت نے شاندار فتوحات حاصل کی ہیں۔ پاکستان دوست عناصر کی کامیابیاں آنے والے دنوں میں پاک، بنگلہ دیشی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ثابت ہوں گی۔ خطے کی سیاست پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارتی منصوبے خاک میں بھی مل سکتے ہیں۔ بھارتی چودھراہٹ کا خواب بکھر بھی سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بدلے ہوئے حالات کو پاکستان کے قومی مفادات کے مطابق استعمال کرنے کی موثر منصوبہ بندی کی جائے۔ اس حوالے سے ہمارے پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے سوچنے اور لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے اور دو برادر ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو عوامی سطح پر فروغ دینے کے لئے جماعت اسلامی پاکستان کو لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔
بنگلہ دیشی انتخابات : حکومت اور جماعت اسلامی کی ذمہ داریاں
09:03 AM, 14 Feb, 2026