ڈھاکہ: بنگلہ دیشی عوام نے ایک بڑے فیصلے کے ذریعے ملک کے سیاسی نظام کی بنیادیں بدل دی ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے قومی ریفرنڈم میں 73 فیصد اکثریت نے ان آئینی اصلاحات کی توثیق کر دی ہے جو اب کسی بھی وزیراعظم یا صدر کو لامحدود اختیارات استعمال کرنے سے روکیں گی۔
اس ریفرنڈم کی کامیابی کے بعد بنگلہ دیشی آئین میں درج ذیل انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ اب کوئی بھی سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر اپنی مرضی سے آئین میں بڑی تبدیلیاں نہیں کر سکے گی۔ اہم آئینی ترامیم کے لیے اب براہِ راست عوامی ریفرنڈم سے رجوع کرنا قانونی طور پر لازم ہوگا۔
صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو نئے سرے سے وضع کیا گیا ہے تاکہ نظام میں توازن (Checks and Balances) قائم رہے۔ صدرِ مملکت کے پاس سزا یافتہ مجرموں کو بلا جواز معاف کرنے کا جو خصوصی اختیار تھا، اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ اب معافی کا عمل سخت قانونی ضوابط کے تابع ہوگا۔
عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے نتائج کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی عوام نے ماضی کی آمریت اور ناانصافی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ انہوں نے اس دن کو "نئے بنگلہ دیش" کی پیدائش کا دن قرار دیا، جہاں آئین کی حفاظت اب خود عوام کے ہاتھ میں ہوگی۔
کل ووٹرز کی حمایت 73% (اصلاحات منظور)
کل ووٹرز کی مخالفت 33%
بنیادی تبدیلی وزیراعظم کے اختیارات محدود، ریفرنڈم لازمی
تجزیہ: مستقبل کی سیاست پر اثرات
ان اصلاحات کا سب سے بڑا اثر نومنتخب بی این پی حکومت پر پڑے گا۔ اب طارق رحمان کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت کو ہر بڑے قومی فیصلے اور آئینی تبدیلی کے لیے عوام کی دہلیز پر جانا پڑے گا۔ یہ تبدیلیاں بنگلہ دیش کو جنوبی ایشیا میں ایک منفرد جمہوری ڈھانچے کی حامل ریاست کے طور پر ابھار رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں شخصی اقتدار کا خاتمہ: ریفرنڈم کے ذریعے ’عوامی حاکمیت‘ کی منظوری
03:38 PM, 13 Feb, 2026