نئی دہلی: بھارتی حکومت نے اپنی دفاعی تاریخ کا ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے فرانسیسی کمپنی 'ڈسالٹ' سے 114 رافیل طیارے خریدنے کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کی فضائی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیرس اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے ہوئے سٹریٹجک تعلقات کا مظہر ہے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں 39 ارب ڈالرز کے مجموعی بجٹ کی منظوری دی گئی، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ 114 نئے طیارے بھارتی فضائیہ کے اسکاڈرنز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شامل کیے جائیں گے۔ یہ وہی منصوبہ ہے جو 13 سال قبل شروع ہوا تھا مگر سرخ فیتے کا شکار رہا، اب اسے ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی گئی ہے۔ صرف طیارے ہی نہیں بلکہ خلا سے نگرانی کے لیے سیٹلائٹ سسٹمز اور جدید ترین میزائلوں کی خریداری بھی اس پیکیج کا حصہ ہے۔
فرانسیسی رکن پارلیمنٹ میرین لاپین نے اس سودے کو فرانسیسی ٹیکنالوجی کی عالمی جیت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل بین الاقوامی مقابلے میں فرانسیسی دفاعی صنعت کی دھاک بٹھاتی ہے۔
یہ فیصلہ انڈیا اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جو خودمختاری اور باہمی مفادات کے احترام پر مبنی ہے۔
بھارتی وزارتِ دفاع کا موقف ہے کہ اس خریداری کا مقصد سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور بحریہ و کوسٹ گارڈز کی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ڈیل بھارت کے 'میگ (MiG)' اور پرانے طیاروں کی جگہ لے گی، جس سے فضائی دفاع کا معیار عالمی سطح کے برابر ہو جائے گا۔
بھارت اور فرانس کے درمیان 39 ارب ڈالرز کا دفاعی معاہدہ: فضائیہ کے لیے 114 رافیل طیاروں کی منظوری
02:58 PM, 13 Feb, 2026