رات کے دس بجے کا وقت ہے۔ ایک متوسط طبقے کا شہری اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ تھانے کے باہر کھڑا ہے۔ اس کی موٹر سائیکل چھین لی گئی ہے۔ وہ انصاف کے لیے آیا ہے، مگر تھانہ کے دروازے پر کھڑے اہلکار کی نظریں اور لہجہ اسے پہلے ہی لمحے احساس دلا دیتا ہے کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔
کل آنا… ابھی افسر مصروف ہیں۔
یہ جملہ مصیبت زدہ شہری کے لئے کسی سزا سے کم نہیں۔
ایف آئی آر درج نہ ہونا، پرچہ روک لینا، درخواست کو ادھر سے ادھر گھمانا، سائل کو بٹھائے رکھنا یا بعض اوقات تھانے کے اندر داخل نہ ہونے دینا ،یہی وہ رویے ہیں جنہوں نے ’’تھانہ کلچر‘‘ کو ایک منفی اصطلاح بنا دیا جس کا ذمہ دار ایس ایچ او کسی حد تک ہو سکتا ہے لیکن زیادہ قصور دانستہ و غیر دانستہ اس کے افسر کا ہوتا ہے۔ راقم الحروف اوپر فرضی اور اب حقیقت کی منظر کشی کرنے کی جرات کررہاہوں۔ حال ہی میں ایک کیس سامنے آیا، یہ کیس کسی دور دراز کا نہیں بلکہ وزیر اعلی پنجاب مریم نوازکے شہر لاہور کا ہے‘ متاثرہ شہری کی جانب سے ایک کال موصول ہوئی، ایس ایچ او گن پوائنٹ پر ہونے والی واردات کو جھپٹا میں بدل رہا ہے، اس طرح کی درجنوں کالیں متاثرین کسی نہ کسی وائے سے کرتے ہیں، مقدمات کا اندراج نہ ہونا‘ تاخیری حربے استعمال کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کر تھانہ سے باہر نکال دینا معمول ہے۔ عام طور پر الزام کانسٹیبل یا محرر پر ڈال دیا جاتا ہے مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ افسران بالا جوابدہ ہونگے۔ گن پوائنٹ پر ہونے والی خطرناک واردات کو معمولی قرار دیتے ہوئے جھپٹے میں بدل کر جھوٹی اور چھوٹی دفعات کے تحت مقدمہ کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے تاکہ بڑے افسر کی کارکردگی متاثر نہ ہو سکے۔ اسی طرح پھر کہیں نہ کہیں ایس ایچ اوز اپنے بالا افسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہت سے ایسے فیصلے لے لیتا ہے کہ اس کی بھی کارکردگی متاثر نہ ہو اور ایس ایچ او شپ چلتی رہے۔
اب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ پولیس نظام کو درست کیا جائے گا اور تھانہ کلچر میں بنیادی تبدیلی لائی جائے گی۔ ڈیجیٹل ایف آئی آر اور مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے گا تاکہ ڈکیتی، چوری جیسے واقعات کے پرچہ روکنے کی گنجائش کم ہو۔ اسکے ساتھ آزاد احتسابی نظام جو افسرانِ بالا تک جوابدہی یقینی بنائے اور شہریوں کی عزت کو پامال کرنے والے پولیس ملازمین کے رویوں کی باقاعدہ تربیت جیسے فیصلے لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سنجیدہ ہے‘ پولیس شہریوں سے خوش اسلوبی اور شائستہ انداز سے سر، میڈم یا جناب آپ کہہ کر مخاطب کریں۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے بھی ایس ایچ اوز، تھانیداروں اور کانسٹیبلز کے رویوں میں بہتری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو رات دس بجے تھانے کے باہر کھڑا ہے، اسے واقعی فرق محسوس ہوگا؟
برسوں سے عوام کی بڑی شکایت یہ رہی ہے کہ تھانوں میں رویے سخت، ماحول خوف زدہ اور کارروائی تاخیر کا شکار ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں گورننس کو بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ محکمہ پولیس کو درست سمت میں لانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر انتظامی دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں اس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن و امان کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور پولیس اس ذمہ داری کا عملی چہرہ ہے۔ یہ اقدام اس لیے اہم ہے کیونکہ جرائم پر قابو پانا ایک پہلو ہے، مگر عوام کا اعتماد بحال کرنا اس سے بھی بڑا چیلنج ہے۔ اگر شہری کو تھانے میں عزت اور فوری شنوائی ملے تو انصاف کے نظام پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ پولیس کے رویے، زبان اور اندازِ گفتگو عوامی اعتماد کی تعمیر یا تباہی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے موجودہ اقدامات ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ میں کارکردگی کا دعویٰ اگر زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ درست حکمت عملی سے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اب اصل امتحان تھانہ سطح پر ہے، جہاں عام آدمی روزانہ کی بنیاد پر نظام کا سامنا کرتا ہے۔
اب توجہ کا مرکز تھانہ کلچر ہے، وہ مقام جہاں عام شہری کا ریاست سے پہلا براہِ راست رابطہ ہوتا ہے۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے لئے جانے والے فیصلے اور اقدامات کے مطابق تربیتی پروگرامز، نگرانی کے نظام اور احتسابی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر کام کیا جائے۔ آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ شہریوں سے بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا جس پر تمام افسران بالا نے موبائل پر مختلف اضلاع سے ویڈیو بنا کر بھیجی کہ انہوں نے پولیس ملازمین کو سامنے کھڑا کر کے آئی جی پنجاب عبدالکریم کا پیغام پہنچا دیا ہے، ایسا نہیں ہوتا نہ ہی اتنی جلدی تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہ نظام بدلنا، محکمہ میں اصلاحات لانا خواب دیکھنے کے مترادف ہے اور ہاں اگر یہ پالیسی عملی طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسی بنیادی مسئلے کو ہدف بنایا ہے۔ ان کی ہدایت پر ایس ایچ اوز، تھانیداروں اور کانسٹیبلز کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس کلچر کی حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب قانون کی عملداری بلا امتیاز ہو۔ اگر مریم نواز کی قیادت میں پولیس اصلاحات کا یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہا، اور آئی جی پنجاب عبدالکریم کی سطح پر لیے گئے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد ہوا، تو پنجاب میں ایک نئے پولیس کلچر کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ایسا کلچر جو خوف کے بجائے اعتماد اور طاقت کے بجائے خدمت کی علامت ہو۔ وقت گواہ ہوگا کہ یہ عزم کس حد تک عملی کامیابی میں بدلتا ہے، مگر آغاز ایک واضح پیغام وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کا عزم ایک مثبت شروعات ہے، لیکن تبدیلی کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ اصلاحات افسرانِ بالا تک پہنچیں۔شہری روزمرہ میں فرق محسوس کریں۔اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو…۔
مریم نواز کا بڑا اقدام اور آئی جی پنجاب پْرعزم
09:08 AM, 13 Feb, 2026