جیلوں میں منشیات کیسے پہنچتی ہے

09:07 AM, 13 Feb, 2026

مجرموں کی اصلاح کیلیے انہیں سزا کے عمل سے گزارا جاتا ہے اور سزا کیلیے انہیں جیلوں میں بھیجا جاتا ہے مگرجیلیں اصلاح کے بجائے جرائم اور منشیات کے استعمال کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ ان جیلوں میں ہر قسم کی منشیات سے عام قیدیوں سے سیاسی قیدیوں تک سب فیض یاب ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری ہی نہیں بلکہ قانون کی عملداری کیلیے سنگین سوالیہ نشان بھی ہے۔
پاکستانی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 65 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ قیدیوں کی اصل تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے یعنی گنجائش سے 35 فیصد زیادہ قیدی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد ہے جن میں 70 فیصد زیرِ سماعت قیدی شامل ہیں۔
اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی گنجائش دو ہزار ہے لیکن یہاں اکثر چھ ہزار سے بھی زیادہ قیدی موجود ہوتے ہیں۔ اڈیالہ میں گنجائش سے تین گنا تعداد میں قیدیوں کی موجودگی نہ صرف سیکیورٹی کیلیے خطرہ ہے بلکہ نگرانی کے نظام کو بھی کمزور کرتی ہے جس کا براہ راست فائدہ منشیات فروشوں اور اندرونی جرایم پیشہ نیٹ ورکس کو پہنچتا ہے۔ سخت نگرانی کے باوجود ملاقاتوں کے دوران جیلوں کے اندر منشیات کی سپلائی عام ہے۔ اکثز مجرموں کے اہلِ خانہ اور ملاقاتیوں کے ذریعے قیدیوں تک منشیات پہنچتی ہیں۔ منشیات فروش نشئی قیدیوں کو منشیات مہیا کرکے جیل کے اندر پیسہ کماتے ہیں۔ ملاقاتی کپڑوں کے پوشیدہ خانوں میں منشیات چھپا کر لے آتے ہیں اور جیلوں کا عملہ رشوت لیکر اس دھندے میں ملوث ہو جاتا ہے۔ عدالتوں میں پیشی کے موقع پر بھی رابطوں کے ذریعے منشیات کی سپلائی ممکن ہو جاتی ہے۔ جب تک جیلوں میں باڈی اسکینرز، نگرانی کا جدید نظام اور شفاف احتسابی ڈھانچہ متعارف نہیں کرایا جاتا منشیات 
کی سپلائی کا یہ سلسلہ رکنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
 جیلوں میں عام قیدیوں تک منشیات پہنچ سکتی ہیں تو با اثر قیدی اس سے کیسے محروم رہ سکتے ہیں؟ جیلوں میں قید بعض سیاسی شخصیات کے بارے میں منشیات کے استعمال کی خبریں بھی گردش میں رہتی ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بھی جیل میں منشیات کے استعمال سے متعلق خبریں اخباروں کی زینت بنتی رہیں۔ تاہم جب تک کوئی طبی رپورٹ موجود نہ ہو کسی بھی قیدی خصوصا سیاسی قیدی کو منشیات کا عادی قرار دینا درست نہیں۔ الزامات اور سیاسی بیانیے اپنی جگہ مگر صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ دعووں کو ثبوتوں سے الگ رکھا جائے۔
 جیلوں میں موجود ہر قیدی کا باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ اور ڈرگ اسکریننگ کی جائے تاکہ منشیات کے استعمال کے علاوہ دیگر بیماریوں کی علامات کی تصدیق بھی ہو سکے۔ یہ اقدام تمام قیدیوں کے بر وقت علاج معالجے اور شفافیت کیلیے مفید ہو سکتا ہے۔ جیل میں قید عمران خان اپنے اوپر لگے منشیات کے استعمال کے الزامات کو اپنا بلڈ ٹیسٹ کروا کر غلط ثابت کر سکتے ہیں لیکن جب بھی انہیں بلڈ کا سیمپل دینے کیلیے کہا جاتا ہے تو وہ سیمپل دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں جس سے انکے جیل میں منشیات کے استعمال کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔ ویسے بھی اگر ایک عام قیدی محدود اثر و رسوخ کے ساتھ جیل میں کھلے عام منشیات استعمال کرتا ہے اور دوسرے قیدیوں کو بھی آسانی سے سپلائی کرتا ہے تو سیاسی قیدی کیلیے کیا مشکل ہے؟۔
بلا تخصیص تمام قیدیوں کی صحت یقینی بنانے کیلیے انکا بلڈ ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی بیماری کی صورت میں انکا بر وقت علاج کیا جا سکے۔ فوری علاج کی معیاری سہولیات محض سیاسی قیدیوں کو ہی فراہم نہ کی جاییں بلکہ علاج کی سہولت تو ہر عام قیدی کا بھی آینی حق ہے۔ بر وقت طبی معاینہ نہ ہونے کیوجہ سے عام غریب قیدی علاج کے بغیر ہی جیلوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔
 چین کی جیلوں میں قید مجرموں کی بحالی کے نظام سے استفادہ کیا جائے۔ میں تین بار چین کی جیلوں کا دورہ کر چکا ہوں جہاں میں قیدیوں کی بحالی کا نظام دیکھ کر حیران رہ گیا۔ چینی جیلوں میں قیدی جیل سے واپسی پر تربیت یافتہ, ہنر مند اور معاشرے کیلیے نارمل انسان بن چکے ہوتے ہیں جبکہ ہماری جیلوں میں عام قیدیوں سے لیکر  سیاسی قیدیوں تک پہلے سے بھی بڑے مجرم بن کر لوٹتے ہیں۔  یہ صورتحال ہمارے معاشرے کیلیے دوہرا نقصان ہے۔ قید کے دوران منشیات کے استعمال سے قیدیوں کی صحت اور ذہنی حالت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور رہائی کے بعد وہ معاشرے کیلیے مزید وبال بن جاتے ہیں۔ جیلوں کے حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کو بڑے اور مزید خطرناک مجرم بنانے کی بجائے انہیں بہتر اور اصلاح یافتہ انسان بنایں۔ جیل کے عملے کی سخت مانیٹرنگ اور احتساب , سی سی ٹی وی اور باڈی اسکینرز کی تنصیب , عدالتی نگرانی کے تحت باقاعدہ انسپکشن اور زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد کم کرنے کیلیے عدالتی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔
ملک کی مختلف جیلوں میں منشیات کی سپلائی انتظامی ناکامی ہی نہیں قانون کی عملداری کا امتحان بھی ہے۔ عام قیدیوں سے لیکر سیاسی قیدیوں تک منشیات کی سپلائی ممکن ہے تو یہ نظام کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ جیلوں کو حقیقی معنوں میں اصلاح گاہ بنایا جائے۔ منشیات کے خاتمے کیلیے سخت نگرانی، شفاف احتساب اور بحالی پروگرامز ناگزیر ہیں۔ تمام قیدیوں کے بلڈ ٹیسٹ کیے جایں اور انکی ڈرگ اسکریننگ تواتر سے کی جائے تو اسے قانون، انسانی وقار اور طبی رازداری کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ نظام کی طاقت مجرموں کو صرف سزا دینے میں ہی نہیں بلکہ انکی اصلاح کرنے میں بھی ہے۔ اگر جیل کے دروازوں کے اندر بھی قانون کمزور ہو جائے تو باہر معاشرے میں انصاف کی امید کیسے باقی رہے گی؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب سب کو دینا ہوگا۔

مزیدخبریں