دنیا بھر کے تمام ممالک کی حکومتوں کے سربراہوں اور اہم ترین عہدوں پر متمکن شخصیات، کاروباری ایمپائرز کے مالکان اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے مرد اور خواتین کو میری طرف سے دلی مبارک کہ ان کا نام ایپسٹائن فائلز میں نہیں آیا۔ میری جانب سے دی گئی مبارک حتمی نہیں بلکہ وقتی ہے۔ کسی بھی شخصیت کا نام نئے ریلیز ہونے والے ایڈیشن میں آنے کے بعد دی گئی مبارک واپس کی جا سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بچے گڑیا گڈے کی شادی میں اختلاف پیدا ہونے پر اپنے کھلونے سمیٹ کر اپنے اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں۔ ایپسٹائن فائلز میں دنیا کے چاروں کونوں سے اہم مرد و خواتین کے نام سامنے آرہے ہیں جس پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آرہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر بھی ان میں سے ایک ہیں وہ خود تو کسی سنگین الزام کی زد میں نہیں آئے لیکن انہیں شریک جرم قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ برطانوی سیاست میں جب کسی کے کردار پر انگلیاں اٹھیں تو اس کا اقتدار کمزور پڑنے لگتا ہے اور اسے استعفیٰ دیئے بنا جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے۔ کیئر اسٹارمر نے ایک ایسے شخص کو اہم ملک میں سفیر مقرر کیا جو جیفری ایپسٹائن کے جزیرے پر متعدد مرتبہ اس کا مہمان بنا، یہی معاملہ کیئر اسٹارمر کی عہدے سے رخصتی کا باعث بن سکتا ہے جس کے بعد برمنگھم سے تعلق رکھنے والی شبانہ محمود نئے برطانوی وزیراعظم کے انتخاب کی دوڑ میں شامل ہیں جو مسلمان ہیں اور وزارت داخلہ جیسی اہم اور مشکل وزارت کو کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ وہ لیبر پارٹی کے تمام دھڑوں میں مقبول ہیں۔ کوئی تنازع یا اسکینڈل ان کے قریب سے نہیں گزرا۔
کیئر اسٹارمر یقینا دوھ کے دھلے نہیں ہیں لیکن ان کا نام اس مرحلے پر کیسے آیا اور اب ان پر مستعفی ہونے کے لئے دبائو کیوں بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ میرے خیال میں برطانوی وزیراعظم کے برے دن اسی روز شروع ہو گئے تھے، جب انہوں نے ٹرمپ پالیسیوں سے اختلاف شروع کیا لیکن وہ اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے تشکیل کردہ پیس بورڈ میں شامل نہیں ہوں گے حالانکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ جوں ہی بورڈ بنانے کا اعلان ہو گا برطانیہ چھلانگ لگا کر آگے آئے گا اور سب سے پہلا ممبر بننے کا اعزاز حاصل کرے گا، ایسا نہ ہوا ان کا دوسرا قصور یہ ہے کہ انہوں نے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے برطانوی فوج بھجوانے کے لئے بھی حامی نہیں بھری، ان کا تیسرا اور سب سے بڑا قصور ان کا دورہ چین ہے جس میں چین کے ساتھ تعلقات بڑھانے، تجارت کو فروغ دینے میں سرگرمی دکھائی گئی۔ ان کا یہ قصور ناقابل معافی ہے کیونکہ برطانیہ کا مقام امریکہ کے سب سے بڑے اور سب سے مضبوط اتحادی کا ہے۔ اس اتحاد سے برطانیہ کے سرکنے کے بعد اور چین کی طرف منہ کرنے سے امریکہ کے مفادات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ برطانیہ اگر چین کے قریب ہو جاتا ہے تو اس کی دیکھا دیکھی مزید کئی ملک یہی روش اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی اداروں نے یقینا محسوس کیا ہو گا کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اب ان کے کام کے نہیں رہے لہٰذا ان پر ایسے ایام میں مزید بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جب امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کشتی اس عالمی بحران میں گھری ہے جو دراصل خود ان کا پیدا کردہ ہے۔
امریکہ اس وقت بھی برطانیہ سے سخت ناامید ہوا جب امریکہ کے ایران پر حملے کے منصوبے میں اس کے ہاتھ مضبوط کرنے اور اس کے موقف کو تقویت دینے کی بجائے پارٹی بننا مناسب نہ سمجھا اور مختلف طریقوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس خودکشی مشن سے باز رہے جس میں کامیابی کم اور جگ ہنسائی کا اندیشہ زیادہ ہے۔ برطانوی وزیراعظم کو منظر سے ہٹانے کا اشارہ بنیادی طور پر اسرائیل سے آیا ہے جبکہ پراجیکٹ پر عمل درآمد امریکی ایجنسیاں کرائیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیئر اسٹارمر کی اپنی سیاسی جماعت کے ارکان ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ وہ درگزر کر کے انہیں مزید کام کرنے کا موقعہ دیتے ہیں یا ’’ملک و قوم کے وسیع تر مفاد‘‘ میں ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے نئے برطانوی وزیراعظم کے انتخاب کی طرف جاتے ہیں۔
برطانیہ ہو یا برطانوی تسلط میں دی ان کی سابق کالونیاں، دونوں طرف حکومتیں بدلنے میں ایک جیسے ہتھکنڈے استعمال ہوتے نظر آتے ہیں۔ برطانیہ کی کالونیوں میں بھارت واحد ملک ہے جہاں قدرے مختلف منظر ہے۔ فوجی انقلاب کے ذریعے وہاں حکومت نہیں بدلی جاتی۔ شاید اسی لئے کہ برطانوی بادشاہت مضبوط ہے۔ برطانوی جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں، وہاں بھی فوجی انقلاب کی گنجائش نہیں۔ بھارت برطانوی جمہوریت کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارتی رہنما چاہتے تو وہ ایک نمائشی بادشاہ بنا سکتے تھے، ان کی دانشمندی کہ انہوں نے اس گریز کیا جبکہ ہم نے شخصی بادشاہت کے لئے ہر زمانے میں راہ ہموار کی۔ ہمارے بادشاہ تخت نشین نہیں ہوتے لیکن دربار تشکیل پاتا ہے۔ نو کی بجائے انیس رتن نظر آتے ہیں۔ ہر قسم کی مشاورت ان ہی سے ہوتی ہے۔
برطانوی کالونیوں میں ایک خوش نصیب ادنیٰ کنیز ہوتی ہے جو سلطنت سے بھی زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کبھی کبھار منظرعام پر آتی ہے، عموماً غائب ہی رہتی ہے۔ حکومتیں بدلنے کے بعد نئی آنے والی حکومت ان کنیزوں کے چہروں سے نقاب اٹھاتی ہے۔ جاری دور میں ہم گزشتہ حکومتی دور کی خوش نصیب کنیزوں کے کارناموں سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ آج کے معاملے کل پر جیفری ایپسٹائن اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ وہ زندہ ہوتا تو اپنی صفائیاں پیش کرتے ہوئے کہتا کہ وہ تو دنیا میں امن کے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ اس نے یہ جزیرہ اسی لئے خریدا اسے آراستہ کیا، ذاتی جیٹ خریدا تاکہ دنیا بھر کے اہم اور متمول لوگوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کر کے انہیں سمجھا سکے کہ دنیا فانی ہے۔ ہمیں ایک روز لوٹ کر اپنے خدا کے حضور پیش ہونا ہے، پس ہماری بہتری ہے کہ ہم نفرتیں ختم کریں، پیار اور محبت تقسیم کریں۔ اسے ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں، عین ممکن ہے وہ امن کا نوبل پرائز حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا اور کوئی عقلمند ترین اسے اس کے لئے نامزد کر دیتا۔ کچھ لوگ ایپسٹائن کو نئے دور کا راسپوٹین قرار دے رہے ہیں۔ یہ درست نہیں راسپوٹین قابل نفرت تھا لیکن وہ ایپسٹائن جیسا گھٹیا نہیں تھا۔ راسپوٹین نے جو کیا خود کیا، اپنے لئے کیا جبکہ جیفری ایپسٹائن مال سپلائی کرنے والا دلال تھا۔ عورتیں اور کمسن بچے سپلائی کرنے والا دلال، اس دلال کے کوٹھے پر جانے والے اس سے زیادہ گھٹیا نکلے۔
دلال جیفری ایپسٹائن
09:05 AM, 13 Feb, 2026