بیانیوں کی موت :’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے’’ حقیقی آزادی‘‘ تک

09:05 AM, 13 Feb, 2026

سیاسی بیانیہ وہ موقف ٗ سوچ یا کہانی ہوتی ہے جو سیاسی جماعت ٗ رہنما یا گروہ عوام کے سامنے کسی مسئلے ٗ واقعے یا پالیسی کے بارے میں پیش کرتا ہے تاکہ عوام اُس کو خاص زوایے سے دیکھ اور سمجھ لیں ۔درحقیقت سیاسی بیانیہ وہ طریقہ ہے جس سے سیاست دان عوام کو قائل کرنے کے لیے کسی معاملے کی تشریح کرتے ہیں۔ ایک ہی موضوع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے مختلف بیانیے ہوتے ہیں مثلا اگر مہنگائی بڑھ جائے تو ایک جماعت کہے گی:’’مہنگائی پچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘جبکہ دوسری جماعت شور مچا دی گی: ’’مہنگائی عالمی حالات کی وجہ سے ہے، ہم اسے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
سیاسی بیانیے مسائل کی تشریح ٗذمہ داروں کا تعین ٗاپنے آپ کو حل کے طور پر پیش کرنا اور عوام کے جذبات کو متاثر کرنا ہوتا ہے تاکہ انتخابات میں اپنی تقاریر کے دوران ہر جماعت اپنے بیانیے کا حوالہ دے کر زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کرسکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بیانیہ عوامی رائے بناتا ہے ٗانتخابات پر اثر انداز ہوتا ہے ٗمیڈیا کی بحث کا رخ متعین کرتا ہے اور مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لاکر کھڑا کر سکتا ہے۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ ابھی کل عوام کے سامنے تھا جو مسلم لیگ نون کی جانب سے سامنے آیا جس کا مطلب او ر مقصد عوام کو یہ باور کروانا تھا کہ اصل طاقت عوام کے ووٹ کی ہے۔ بچپن کی دوستی کی طرح بنتی ٹوٹتی اسمبلیاں او ر مری کے موسم کی طرح بدلتے منتخب نمائندوں کی مدت پوری کرنے کا بیانیہ عوام کے سامنے رکھا گیا ۔یہ بیانیہ بنانے کا مقصد عوام کو اس حوالے سے اپنے ساتھ جوڑنا تھا کہ منتخب حکومتوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔جس کیلئے غیر منتخب قوتوں کو موردِالزام ٹھہرایا گیا ۔مقصد یہ بتایا گیا کہ جمہوریت کو مضبوط کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا جاسکے ۔ پاکستانی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ اُن کے ووٹ کی توہین ہو رہی ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیانیہ جمہوری بالادستی کے گرد گھومتا تھا۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا اثر شہری مڈل کلاس ٗجمہوریت پسند حلقوں ٗپنجاب کے مخصوص علاقوں میں تو یقینا بہت زیادہ ہوا ۔ یہ بیانیہ اصولی اور آئینی بات کرتا دکھائی دے رہا تھااور جمہوری بالادستی کا نعرہ بھی تھا۔جذباتی جوش کم اور آئینی بحث زیادہ تھی۔ابھی یہ بیانیہ مکمل طور پر بک بھی نہیں پایا تھا کہ تحریک انصاف ’’حقیقی آزادی‘‘ کا بیانیہ لے کر میدان میں اتر آئی ۔آزادی سے بڑا نعرہ کوئی نہیں ہوتا جس کی زندہ مثال آزاد وطن کا نعرہ تھا سو پاکستان کو بیرونی مداخلت سے آزاد کروانے کا نعرہ دیکھتے دیکھتے پاکستان کے طول و عرض میں پھیل گیا ۔عوام کو یقین دلایا گیا کہ فیصلے اُن کی مرضی سے ہوںگے نہ کہ بیرونی دباؤ سے ۔موجودہ حکومت کو’’امپورٹڈ‘‘ قراردے دیا گیا۔ عوام کو بتایا گیا کہ حکومت بیرونی سازش کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔اندرونی سہولت کاروں اور بیرونی طاقتوں کے نام لے لے کر عوام کو ورغلایا گیا ۔تحریک انصاف کے بیانیے کے نتیجہ میں سامنے آنے والے مطالبات میں نئے انتخابات اور خودمختار فیصلہ سازی سر فہرست تھی ۔اپنے بیانیے اورمطالبات کو مزید تقویت دینے کیلئے قومی غیرت، خودداری اورآزادی سے جوڑا گیا اور نوجوانوں کی ایک نسل کو گمراہ کرکے اپنے ہی اداروں کیخلاف کھڑا کردیا گیا جس کیلئے سوشل میڈیا ٗجلسوں اور عوامی اجتماعات میں جذباتی تقاریر کی گئیں۔ یقینا یہ ایک سکرپٹ تھا جس کے لکھاری پاکستان میں تو موجود نہیں تھے لیکن اُن کی لگائی ہوئی آگ اپنے ہی محافظوں تک بہرحال پہنچ گئی اور 9مئی کا سیاہ دن دیکھنا پڑا ۔قومی غیرت اور آزادی جیسے الفاظ ایک آزاد ریاست میں مہلک ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیے گئے ۔جس میں سوشل میڈیا کا مرکزی کردار رہا ۔ 
جذباتی سطح پر ’’حقیقی آزادی‘‘ زیادہ متحرک کرنے والا بیانیہ ثابت ہواجبکہ نظریاتی اورآئینی سطح پر: ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ زیادہ واضح جمہوری مؤقف رکھتا تھا۔سیاسی بیانیے مستقل نہیں ہوتے اور یہ وقت اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی بیانیہ مستقل ہوجائے تو وہ سیاسی جماعت کی فکری اساس بن جاتا ہے جیسا کہ تحریک انصاف کا طالبان کے حوالے سے بیانیے میں رتی بھر بھی فرق آج کے د ن تک تو نہیں آیا اور میں نہیں سمجھتا کہ مستقبل قریب میں بھی کوئی فرق آئے گا ۔ جبکہ اپنے تمام دوسرے بیانیوں پر عمران نیازی کے یوٹرنز نے جتنی شہرت پائی خود اتنی شہرت عمران نیازی کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ عافیہ صدیقی کے حوالے سے نیازی بیانیہ یکسر بدل گیا ٗ پینتیس پینکچرز کو اُس نے خود ’’ سیاسی بیان ‘‘ قرار دے دیا ۔ عوام میں بے چینی پیدا کرنے کیلئے سول نافرمانی جیسے احمقانہ اعلانات کرتا رہا ۔ معاشی اور سیاسی بحران پیدا کرنے کیلئے اوورسیز کو پاکستان ڈالر بھیجنے سے منع کرتا رہا اور سیاسی بے چینی پھیلانے کیلئے افواج پاکستان ٗ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو اُس نے سوشل میڈیا کی تلوار پر لٹکا دیا ۔سیاسی مطالبے اور سیاسی بیانیے بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان میں بہت سادہ سا فرق ہے۔ سیاسی مطالبہ ہمیشہ واضح اور عملی ہوتا ہے جو کوئی جماعت یا رہنما حکومت یا اداروں سے مانگ رہا ہو۔مثلا نئے انتخابات کرائے جائیں ٗمہنگائی کم کی جائے ٗکسی قانون کو ختم کیا جائے یاکسی شخص کو رہا کیا جائے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مطالبہ ہمیشہ واضح ہوتا ہے ٗماپا اور تولا جا سکتا ہے یا رد کیا جا سکتا ہے جبکہ سیاسی بیانیہ وہ کہانی یا نظریاتی 
فریم ہوتا ہے جس کے ذریعے مطالبے کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ بیانیہ مسئلے کی اپنی تشریح کرتا ہے ٗ واقعات کے ذمہ داران کا تعین کرتا ہے ٗجذبات کو ابھارتا ہے ٗاپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کیلئے دنیا بھر کے ممالک کی مثالیں دیتا ہے خواہ اُس کا معروض اپنے ملک سے مختلف ہو ۔ فوری الیکشن کروانے کی بابت بیان دینا بیانیہ نہیں مطالبہ ہوتا ہے ۔قیدی کی رہائی مطالبہ ہوتا ہے نہ کہ بیانیہ ٗ مذاکرات اسٹیبلشمنٹ سے کروں کا بیانیہ نہیں مطالبہ ہے لیکن طالبان سے مذاکرات مطالبہ نہیں بیانیہ ہے۔ ’’دو قومی نظریہ‘‘ مسلمانوں کا الگ وطن کیلئے بیانیہ اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی مطالبہ ہے ۔اکثر بیانیے جذباتی اور نظریاتی ہوتے ہیںلیکن مطالبات عملی اور فوری نوعیت کے ہوتے ہیں۔ موجود ہ حالات میں بیانیوں کی موت کے بعد اب بات مطالبات پر آ گئی ہے لیکن یہ مطالبات بھی چونکہ ملک دشمنی سے جڑے ہیں سو میں نہیں سمجھتا کہ آنے والے دنوں میں وزیر اعلیٰ کے پی کے اپنے کسی وعدے پر قائم رہ سکے گا ۔کیونکہ کے فیصلوں کا اختیار جب چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس نہیں تو بے چارے سہیل آفریدی کے پاس کہاں سے آئے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ بات بیانیوں سے مطالبات پر آ گئی ہے سو اب دینے والوں کی مشیت پر ہی مبنی ہے کہ وہ کیا ٗ کتنا اور کب دیتے ہیں ۔ادارے وقت گزار رہے ہیں اور یہی وقت شاید پی ٹی آئی اور اُس کی افغان سپاہ کو درکار ہے۔

مزیدخبریں