کرکٹ کے تیز ترین بولر شعیب اختر 51 سال کے ہوگئے

09:31 AM, 13 Aug, 2026

لاہور : پاکستان کے سابق سٹار فاسٹ بولر شعیب اختر آج 51 سال کی عمر کو پہنچ گئے۔ اپنی غیرمعمولی رفتار اور جارحانہ باؤلنگ کے باعث شعیب اختر نے عالمی کرکٹ میں منفرد مقام بنایا اور "راولپنڈی ایکسپریس" کے نام سے شہرت حاصل کی۔

شعیب اختر 13 اگست 1975 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں انہیں جسمانی مشکلات کا سامنا رہا، لیکن انہوں نے اپنی محنت، حوصلے اور عزم سے ان مشکلات کو شکست دی اور کرکٹ کے میدان میں ایک ایسا مقام حاصل کیا جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ان کے دونوں پاؤں کے تلوے پیدائشی طور پر سیدھے تھے، جس کی وجہ سے انہیں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں دشواری پیش آتی تھی۔ تاہم یہ مشکلات ان کے عزم کو کم نہ کرسکیں اور وہ آگے چل کر دنیا کے خطرناک ترین فاسٹ بولرز میں شمار ہونے لگے۔

شعیب اختر نے نومبر 1997 میں راولپنڈی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا۔ کچھ ہی عرصے میں ان کی رفتار اور باؤلنگ نے انہیں پاکستان کے اہم ترین فاسٹ بولرز میں شامل کر دیا۔

ان کی تیز رفتار گیندوں کا سامنا کرنا دنیا کے کئی بڑے بلے بازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا۔ ان کا جارحانہ انداز اور وکٹ حاصل کرنے کی صلاحیت شائقین کرکٹ کو خاص طور پر متاثر کرتی تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے باؤلنگ اسپیلز کا شائقین کو بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق شعیب اختر نے 46 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 178 وکٹیں حاصل کیں۔ ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے 163 میچز کھیل کر 247 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

شعیب اختر کا سب سے بڑا عالمی اعزاز 2003 کے ورلڈ کپ کے دوران سامنے آیا، جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ، یعنی 100.23 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی۔ یہ گیند آج بھی کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین ریکارڈ شدہ گیند کے طور پر جانی جاتی ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کے باوجود شعیب اختر کی شہرت اور مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ ان کی برق رفتاری، منفرد باؤلنگ ایکشن اور میدان میں جارحانہ شخصیت انہیں پاکستان کرکٹ کے یادگار ترین کھلاڑیوں میں شامل کرتی ہے۔

شعیب اختر کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی رفتار کے ذریعے فاسٹ باؤلنگ کو ایک نئی شناخت دی اور دنیا بھر میں پاکستانی کرکٹ کے مداحوں کو یادگار لمحات فراہم کیے۔

مزیدخبریں