آزادی ایک ایسی انمول نعمت ہے جس کی قدر وہی قوم کر سکتی ہے جس نے غلامی کے تاریک ادوار دیکھے ہوں۔ قیامِ پاکستان کے پیچھے وہ تڑپ اور جذبہ کارفرما تھا جو غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آزاد، خودمختار ریاست کے قیام کا سبب بنا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقا کی قیادت میں ملنے والا یہ وطن ہمیں اپنے عقیدے، اقدار اور شناخت کے مطابق جینے کا حق دیتا ہے۔ 14اگست کا دن ہمیں قربانی، جدوجہد اور عزم و استقلال کی وہ داستانیں یاد دِلاتا ہے جس کے نتیجے میں اسلامیانِ ہند نے اپنے لیے ایک الگ وطن کے خواب کی تعبیر دیکھی۔ یہ دن نہ صرف بحیثیتِ قوم اپنی آزادی کا جشن منانے کا دن ہے بلکہ یہ ہم سے اس خود احتسابی، تجدیدِ عہد اور قومی فرض شناسی اور اس وطنِ عزیز کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے عہد و پیماں کو یاد کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے جن کو پورا کرنے کا عہد ہم نے اس مملکتِ خداداد کے قیام کے وقت کیا تھا۔ آج 78 سال گزرنے کے بعد بحیثیت قوم یہی سوال درپیش ہے کہ کیا ہم نے ان تقاضوں کو پورا کیا جس کے لیے ہمارا پیارا وطن پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا؟ کیا ہم نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا جس کی تعبیر بانیانِ پاکستان اور اسلامیانِ برصغیر پاک و ہند نے دیکھی؟ کیا ہم نے اس ریاستِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی، خوشحال، انصاف پسند اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کیا؟ بدقسمتی سے آج بھی ملک کا ایک بڑا طبقہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہے۔ توانائی کا بحران، تعلیمی نظام کی تنزلی، مہنگائی، بے روزگاری، صحت سہولیات کا فقدان، ناقابلِ برداشت ٹیکس اور دہشت گردی جیسے مسائل آج بھی ایک اژدھا بن کو پاکستانی قوم کے سروں پر مسلط ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، لیکن دوسری طرف اس ملک کے حکمران ہیں جن کی تنخواہوں اور مراعات میں ہوشربا اور غیرمعمولی اضافوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سنجیدگی سے اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور ملک کو اس سمت میں لے جانے کے لیے سنجیدہ اور بامقصد اقدامات کریں جن کے لیے یہ ملک لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے حاصل کیا گیا تھا۔ جب ہم ان ممالک کو دیکھتے ہیں جو پاکستان کے بعد آزاد ہوئے اور آج ترقی یافتہ دنیا میں مقام رکھتے ہیں، تو ہمارے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کونسی کمزوریاں اور خامیاں جو ہمیں بحیثیتِ قوم دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح تعمیر و ترقی کے راستے پر گامزن ہونے سے روکنے کا باعث ہیں۔ ہماری قومی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے یا اِن پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے پرعزم اور باصلاحیت و باکردار قیادت کی کمی؟ اور کیا ہم ابھی بھی گزشتہ پون صدی کی غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں مسائل کو سمجھنے، ان پر سنجیدہ انداز میں غور و خوض کرنے اور اور پھر اِن مسائل کے حل کے لیے دیرپا اور دوررس نتائج کے حامل اقدامات تجویز کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے صرف تنقید ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ لائحہ عمل اور اصلاح کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ملک کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آئین پاکستان کی اصل روح کو اپنانے کی ضرورت ہے، آئین پاکستان ریاست کے ہر شہری کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے، آئین کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔ موجودہ آئین قومی اتفاقِ رائے کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ تمام مکاتبِ فکرکے اکابرین، دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماں اور پوری پارلیمنٹ نے اس آئین کو بنانے میں کردار ادا کیا۔ اب عوام کے حقیقی نمائندہ ہونے کے ناطے اپوزیشن قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین پر حرف نہ آنے دے اور اس کو بچانے، اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی جدوجہد جاری رکھے۔ پہلے بھی عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی اور آئندہ بھی ضرورت پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جمہوریت کا اصل مقصد ہی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہے، جمہوریت پسند قوتوں نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔حقائق اور پے در پے تجربات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلامی نظریہ حیات ہی ہماری قومی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس کے بغیر نہ ہم اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں اور نہ اپنی تعمیرنو کو صحت مند بنیادوں پر استوار کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں جاری کش مکش سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ اب مقابلہ محض چند افراد، کچھ قوموں اور بعض ملکوں میں نہیں بلکہ مقابلہ دراصل ہدایتِ الٰہی کے پیروکاروں اور طاغوت کی پیروی کرنے والوں کے درمیان ہے۔ اہلِ مغرب کے پاس فلاحِ انسانی سے متعلق کوئی قابلِ عمل نظریہ حیات نہیں ہے، اِسی لیے وہ جمہوریت، سیکولرزم، لبرلزم، آزادی حقوقِ انسانی اور تحفظ فرد کے پرفریب نعروں کے سہارے اپنا وجود قائم رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ موجودہ عالمی سامراجی قوتیں دراصل مادہ پرستی کے نظریے کی حامل سوچ کی پیداوار ہے ۔اس کے مقابلے میں ہمارے کے پاس اسلام کی صورت میں ایسا عادلانہ نظام اور نظریہ حیات موجود ہے جس کے ذریعے ہم سیکولر فسطائیت سمیت ہر باطل نظام کا ہر دور میں مقابلہ کرسکتے ہیں اور باقی دنیا کو بھی کامیاب زندگی کی وہ راہ دکھا سکتے ہیں جو پائیدار، حقیقی، ٹھوس بنیادوں پر قائم اور ابدی زندگی تک کے لیے راہنما اصول اور طریقہ ہائے کار پر مبنی ہے۔، قدیم و جدید دور میں رونما ہونے والے واقعات و حالات اس بات پر شاہد ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اسلام کے آفاقی اور ہمہ گیر پیغام کو عام کرنے کی بجائے اغیار کے دامن میں پناہ لینے کو ہی اپنا مطمعِ نظر بنالیا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامتوہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیروخلاصہ یہ ہے کہ 14 اگست یومِ آزادی پاکستان برصغیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مبارک دن ہے ۔ پاکستان ایک نعمت ہے، ایک ذمہ داری ہے اور ایک آزمائش بھی۔ آئیں مل کر اس کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن، پرامن اور باوقار پاکستان چھوڑ کر جائیں۔ اللہ تعالی ہمیشہ پاکستان کو سر سبز وشاداب اور قیامت کی صبح تک قائم ودائم رکھے۔آمین!پاکستان زندہ باد!
آزادی کی نعمت اور اس کے تقاضے
09:15 AM, 13 Aug, 2025