تقسیم ہوتا بھارت

09:15 AM, 13 Aug, 2025

دیکھا جائے تو پاکستان بھارت کے حالیہ تصادم کے بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات بتدریج اسلام آباد کے حق اور نئی دہلی کے خلاف رونما ہوئے ہیں۔ بھارت کو دنیا بھر میں ہزیمت اُٹھانا پڑ رہی ہے۔ ہندو توا کی نفرت انگیز پالیسی میں گھری ہوئی مودی سرکار کو داخلی اور بین الاقوامی محاذ پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت میں کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کے خلاف ایک بڑی احتجاجی تحریک چلانے کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن اور حکومت پر ریاست بہار میں جلد ہونے والے اہم انتخابات میں ووٹر لسٹوں میں نہ صرف بڑی جعلسازی کا الزام لگا رہی ہیں بلکہ انہوں نے گزشتہ الیکشن میں مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر 100 سے زائد نشستوں پر دھاندلی کرنے کے سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ ووٹ چوری کے ان الزامات بھارت میں سماجی، معاشی، مذہبی اور سیاسی محاذوں پر گہری دراڑیں جنم لیتی نظر آتی ہیں جنہوں نے بھارتی معاشرے کو تقسیم در تقسیم کے عمل کی جانب دھکیل دیا ہے۔ مودی حکومت کی نفرت انگیز حکمت ِعملی کے باعث بھارت کے طول و عرض میں موجود اقلیتیں بالخصوص مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی محاذ پر امریکہ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد کیے جانے کے اقدام نے بھارتی معیشت خاص طور پر آئی ٹی کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کے بڑے بزنس مین جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ مودی سرکار کو اقتدار میں لانے کیلئے انہوں نے الیکشن کے دوران اپنی بوریوں کے منہ کھول دیئے تھے، مودی سرکار اور اس میں موجود اجیت دوول سمیت چند سر پھرے بوڑھے وزیروں اور مشیروں سے خوش نظر نہیں آتے۔ گودی میڈیا کی پاکستان کیخلاف دُشنام طرازی اور جھوٹے پروپیگنڈے نے بھارت عوام کے ایک بڑے حصے کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ اس وقت وہ مودی اورگوڈی میڈیا کے خلاف سیخ پا نظر آتے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ انڈیا اس وقت خود اپنی ہی نفرت انگیز پالیسیوں کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ افواج پاکستان کی حالیہ وارننگ کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی نئی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہونگے اور اس بار پاکستان اپنی جوابی کارروائی بھارت کے مشرق سے شروع کرے گا، مودی سرکار اور اسکے حواریوں کو لرزہ براندام کر رکھا ہے۔ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو دُنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے جبکہ بھارت کا خطہ کا تھانیدار بننے کا خواب بُری طرح چکنا چور ہو چکا ہے۔ ایسے میں افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حالیہ دنوں میں دو اہم دوروں نے بھارتی قیادت کو صدمے کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ یوں کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت انڈیا میں اس پر صف ماتم بچھی نظر آتی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے جھوٹے دعووں کو کہ بھارت نے جنگ کے دوران پاکستان کے چھ طیارے مار گرائے ہیں خود بھارت میں بھی کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکہ میں موجودگی کے دوران ایک اور اہم کامیابی یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے 11 اگست کو یہ اعلان کیا گیا کہ امریکی محکمہ خارجہ بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرتا ہے۔ یہ وہی کالعدم مجید بریگیڈ ہے جس کی پشت پناہی بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کرتی ہے۔ مجید بریگیڈ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کی سیکڑوں وارداتوں میں ملوث بلوچ لبریشن آرمی کا خودکش بمبار ونگ ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد 2019 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم 2019 کے بعد سے، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق حالیہ عرصے میں 2024 میں بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس نے کراچی میں ایئر پورٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے قریب خودکش حملے کیے تھے۔ مارچ 2025 میں بی ایل اے نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کے ہائی جیکنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں 31 شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا اور 300 سے زیادہ مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ امریکہ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دینا دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کا حصہ ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی حمایت کو روکنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ پاکستان نے 2024ء میں مجید بریگیڈ، جو کہ بی ایل اے کا خودکش سکواڈ ہے، کو کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ جبکہ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل کو 2006ء میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل پاکستان نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ مجید بریگیڈ کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے۔ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بلوچستان میں متحرک ہے اور حالیہ برسوں میں اس کالعدم تنظیم کی جانب سے کیے گئے حملوں میں وسعت اور شدت نظر آئی ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کی امریکہ سے سرد مہری کے بعد حالیہ قربت نے بھارتی قیادت اور میڈیا کو پاگل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں چین سے دیرینہ تعلقات اور روس کی جانب دوستی کا سفر بھی عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں معیشت بہتری کی جانب گامزن تو نظر آتی ہے تاہم عام آدمی کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ اگر پاکستانی قیادت اس پہلو کو بہتری کی جانب لے آئے اور معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی کو منتقل ہو جائیں تو پھر ہم کہہ سکیں گے کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

مزیدخبریں