گزشتہ روز آپریشن بنیان مرصوص کے تین ماہ بعد جب ہندوستان کے ایئر چیف سردار امر پریت سنگھ ہوش میں آئے تو فرمانے لگے کہ ہم نے بھی پاکستان کے چھ طیارے گرائے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ ہم نے چونکہ پاکستان کی بہت سی ایئر بیسز تباہ کی تھیں تو یہ طیارے وہیں کھڑے تھے۔ ایئر چیف پاکستان میں تو ایک بہت ذمہ دار شخص ہوتا ہے جس کا ہر لفظ ساری ایئر فورس کا بیانیہ ہوتا ہے لیکن شاید ہندوستان میں آرمی چیف، ایئر چیف، نیول چیف، وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سمیت تمام اہم عہدوں پر فائز لوگ کپل شرما شو سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہندوستان میں چونکہ ٹھیکے شیکے ہر گلی میں موجود ہوتے ہیں عین ممکن ہے کہ ایئر چیف صاحب وہاں چلے گئے ہوں یا پھر گھر پر ہی کسی چاہنے والے نے مکڈاول کی بوتل تحفے میں دے دی ہو اور سردار جی نے ساری کی ساری ہڑپ لی ہو یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دس مئی کو پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے چھبیس مقامات پر یکمشت بڑے حملوں اور رافیل کی تباہی نے انہیں برین ہیمرج میں مبتلا کر دیا ہو اور اب اس پریشر سے نکل کر صحت یاب ہوئے ہوں یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس عبرت ناک شکست کے بعد محترم ایئر چیف عوام میں نکلنے کے قابل نہ رہے ہوں تو انہوں نے سوچا یا پھر کسی نے مشورہ دیا ہو کہ آپ ایسے کہیں گے تو انڈین ایئر فورس کی عزت بحال ہو سکتی ہے، اگر پکڑے گئے تو کہہ دیں گے ’’کیسا لگا میرا مذاق؟‘‘۔ لیکن انہیں کیا پتہ تھا کہ پاکستان میں موجودہ آرمی چیف حافظ قران ایک سچا اور بہادر مسلمان ہے جو ایسا مذاق ہرگز برداشت نہیں کرتا کہ کوئی پاکستان کی سلامتی پر حملہ آور ہو جائے اور پھر وہ اپنے گھر میں آرام سکون سے بیٹھ جائے انہیں کیا خبر تھی کہ جیسے ہی یہ بیان ان کی زبان سے نکلے گا پاکستان ان کے حلق میں ڈنڈا ڈال دے گا۔ پاکستان نے ہندوستان کو کھلا چیلنج دیا ہے کہ کوئی متفقہ ثالث مقرر کرتے ہیں اور جہازوں کی انونٹری چیک کرا لیتے ہیں لیکن ہندوستان ایسا ہرگز نہیں کرے گا کیونکہ اگر ان کے سر پر جنگ کا جنون سوار نہ ہوتا تو یہ پہلگام واقعے کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر راضی ہو جاتے اور دوسرا یہ کہ جب فرانس نے رافیل کی گنتی کے لیے اپنا وفد بھیجا تھا تو انڈین گورنمنٹ نے انہیں بھی جہازوں تک رسائی نہیں دی تھی۔ یہ پاکستان کی اس دعوت کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ ہماری ایک سیاسی جماعت کی طرح ان کا بھی یہ کلیہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولو اتنا جھوٹ بولو کہ ایک وقت پر وہ سچ لگنے لگے لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہو سکا۔ جس طرح ہندوستانی میڈیا مئی میں ساری دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوا تھا اسی وجہ سے انہوں نے اپنے ایئر چیف کے جھوٹ کو سہارا نہیں دیا۔ انڈین میڈیا خوف زدہ تھا کہ کہیں مئی والی کہانی پھر سے نہ دہرائی جائے۔ ایئر چیف کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان نے انڈین ایئر فورس کی بچی کھچی عزت کو بھی خاک میں ملا دیا اور ساتھ ہی دنیا پر یہ بھی عیاں کر دیا کہ ہندوستانی کس قدر جھوٹے اور مکار ہیں۔ اگر ان کے ایئر چیف کے بیان میں ایک فیصد بھی سچائی ہوتی تو کچھ گھنٹے بعد کسی یونیورسٹی میں تقریر کرتے انڈین آرمی چیف بھی ان کے بیان کی تائید کرتے۔ طلبا کے سامنے ایک لمبی تقریر میں آرمی چیف نے ایک بار بھی کسی پاکستانی طیارے کے تباہ ہونے کی بات نہیں کی ان کے وزیراعظم، وزیر خارجہ، وزیر دفاع نے کسی پلیٹ فارم پر بھی کسی پاکستانی طیارے کے گرنے کی بات نہیں کی تو پھر وہ مکڈاول والی بات ہی ہو سکتی ہے۔ انڈین ایئر چیف کے بیان کو پاکستان غیر سنجیدہ نہ لے، میرا خیال ہے کہ یہ خبریں سچ ہیں کہ ہندوستان پاکستان پر کسی بڑے حملے کی تیاری میں مصروف ہے خبریں یہ بھی ہیں کہ اب کی بار وہ لاہور پورٹ، چیچہ وطنی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ کراچی پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ پاکستان پر حملہ کرنے کا شوق مودی اپنے دورہ چین سے پہلے پورا کرے کیونکہ جب یہ امریکہ سے بھاگ کر چین جائے گا تو وہ بھی شرائط کی ایک فہرست ان کے سامنے رکھیں گے۔ جن میں پاکستان کے ساتھ لمبا عرصہ جنگ بندی اور کشمیر کی شرط بھی ہو سکتی ہے۔ اب ٹرمپ (مائی فرینڈ) مودی سے خاصا ناراض ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے انڈیا پر ناقابل برداشت پابندیاں عائد کر دی جائیں اب ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ چین اور روس کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ مودی صاحب اگست
کے آخری ہفتے میں چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں ان کی خواہش ہو سکتی ہے کہ چین جانے سے پہلے پہلے پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کر کے اپنی تذلیل کا بدلہ لیا جائے تاکہ آئندہ الیکشن میں جیت کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کر لی جائے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر ان دو ہفتوں میں وہ پاکستان پر کوئی بڑا حملہ نہ کر سکا تو پھر کبھی نہیں کر سکے گا۔ اس لیے امکان ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں آنے والے چند دنوں میں ایک مختصر لیکن بہت شدید جنگ ہو جائے عین ممکن ہے کہ اس بار ہندوستان اپنی نیوی کے ذریعے حملہ کرے۔ مودی صاحب اگر آپ نے واقعی یہ فیصلہ کر لیا ہے تو آپ اپنے وکرانت کو نہلا دھلا کر، ناریل توڑ کر، سندور لگا کر، بنا سنوار کر پاکستان کی طرف روانہ کرنا اور کوئی الوداعی پارٹی بھی دے دینا کیونکہ عین ممکن ہے کہ یہ آپ کی وکرانت سے ہمیشہ کے لیے جدائی کا مہورت ہو۔ اس بار اگر آپ نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی تو آپ کو اندازہ نہیں کہ اس کے نتائج کتنے سنگین ہوں گے۔ اس بار پاکستان کا جواب اتنا شدید ہو گا کہ ہندوستان کا نقشہ دنیا کے گلوب پر تبدیل ہو جائے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس جنگ سے دونوں اطراف میں نقصان ہو گا لیکن ہندوستان کا نقصان زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس پر مشرق مغرب شمال جنوب آسمان زمین سمندر ہر طرف سے حملہ ہو گا۔ یہ اسرائیلی ٹیکنالوجی کے سر پر کود رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے سامنے اسرائیلی ٹیکنالوجی کی کوئی حیثیت نہیں اور اسرائیل بذات خود بھی یہ جانتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس بار اسرائیل براہ راست پاکستان پر حملہ کرنے آئے کیونکہ وہ بھی کسی طرح ایران سے شکست کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے۔ جناب نریندر مودی صاحب! بہتر ہو گا کہ آپ اپنے دورہ چین کی تیاری کریں پاکستان چین اور روس کے ساتھ مل کر بہترین تجارتی منصوبہ بندی کریں۔ دونوں ملکوں کی سلامتی اسی میں ہے کہ آئندہ دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیں اور جو رقم جنگ پر خرچ کرنی ہے وہ اپنی اپنی قوم کی فلاح اور بہتر معیار زندگی کے لیے خرچ کریں۔ اس وقت ہندوستان کے موجودہ حالات میں آپ اگلی دفعہ وزیراعظم بنتے نظر نہیں آ رہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنی انا کے بدلے ہندوستان کی نوجوان نسل کو قربان نہ کریں۔ اگر آپ نے اب کی بار پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو پھر کبھی سوچنے سمجھنے اور دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ حضرت علامہ اقبال نے تو بہت پہلے آپ کو تنبیہ کی تھی کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ہندوستان والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے
09:15 AM, 13 Aug, 2025