اہلِ ترکیہ قونیہ کو بڑے فخر سے شہرِ نور کہتے ہیں۔ ان کا یہ فخر بجا ہے۔ مولانا رومی ایسی روحانی شخصیت نے اس شہر کو ایک روحانی شہر بنا دیا ہے۔ روح کے مقام سے نور کا فاصلہ کم ہی رہ جاتا ہے۔ سارے فاصلے شعوری فاصلے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی نعت کا ایک شعر اِس امر کی تائید کر رہا ہے:
اس نظر میں فاصلے صدیوں کے بھی حائل نہیں
اپنے درویشوں سے وہؐ ہر دور میں آ کر ملے
روح کو متجلی کرنا اس لیے ضروری ہے کہ انسان نور تک رسائی کی اہلیت حاصل کر سکے۔ کوشش، مجاہدت اور ریاضت کا مقصدِ وحید یہی ہے۔ دینی زبان میں اسے تزکیہِ نفس کہتے ہیں۔ تزکیہِ نفس روح کو جسم کی کثافت سے آزاد کرانے کی تدبیر ہے۔ تدبیر سالک پر فرض ہے، تدبیر کا اپنی تقدیر تک پہنچنا کاتبِ تقدیر کے اذن سے ہے۔
قونیہ کسی زمانے میں سلجوق سلطنت کا دارالخلافہ تھا، آج کل مولانا رومی کے زیرِ نگیں ہے۔ قونیہ کی فضا ترکی کے کسی بھی اور شہر کی فضا سے مختلف ہے بہت مختلف! اس ’’مختلف‘‘ ہونے میں مولانا رومی اور انکے چاہنے والوں کا تصرف شاملِ حال ہے۔ اِس شہر کی بوباس میں مادیت نہیں، روحانیت ہے۔ یہاں پیار ہی پیار نظر آتا ہے۔ یہاں ہر شے اپنے مخصوص ردھم میں بہتی چلی جا رہی ہے۔ کوئی ہڑبونگ نہیں، کسی کو کوئی جلدی نہیں، ہر چیز ایک طے شدہ امر کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک نظم ہے، ضبط ہے اور یہ ضبط کسی بیرونی ضابطے یا حکومتی جبر کی وجہ سے نہیں ہے۔ سارا شہر روحانیت کے غلاف میں ملفوف نظر آتا ہے۔ لگتا ہے یہاں مولانا کی روح ہر آن متوجہ ہے۔ دل کی آنکھ کھولیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آپ مدینہ منورہ میں گھوم پھر رہے ہیں۔ وسیع وادی کے ارد گرد دور تک نظر آنے والے درمیانی قامت کے سرمئی پہاڑ اسے مدینہ منورہ کی جغرافیائی ہیئت سے مشابہ کر رہے ہیں۔ جس طرح شہرِ مکہ کعبۃ اللہ کے گرد طواف کرتا ہے اور شہرِ طیبہ کے راستے ایک سرشاری کے عالم میں گنبد خضریٰ کے گرد محوِ ہیں، اسی طرح قونیہ شہر مولانا کے مزار کے گرد محوِ رقص ہے۔ ظاہر ہے، والی مدینہؐ کی عاشق روح اپنے زورِ عشق سے مدینے کی آب و ہوا بھی اپنے شہر میں ساتھ لے جاتی ہے۔
ترکیہ میں نو برس قبل جب آنا ہوا تھا، تب بھی قونیہ میں حاضری ترجیحات میں سرفہرست تھی۔ وہ عیدالفطر سے اگلا دن تھا۔ استنبول سے قونیہ کی فاسٹ ٹرین کی ٹکٹیں نہیں مل رہی تھیں۔ چنانچہ بائی ایئر سفر اختیار کیا گیا۔ استنبول سے قونیہ کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ جہاز جب قونیہ لینڈ کر رہا تھا تو حسنِ اتفاق سے کھڑکی سے مولانا کا مزار بھی نظر آ
گیا۔ میں جوش میں چلا اٹھا: وہ دیکھو، مولانا کا مزار، مولانا کا مزار اس بے محابہ انداز کی بے تابی دیکھ کر میری بیگم نے مجھے اجنبی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: ’’یہیں سے چھلانگ لگا دو!‘‘ اس بار کی حاضری میں پہلی حاضری کی یادداشتیں بھی گڈ مڈ ہو رہی ہیں۔ زیارت بھی عجب چیز ہے، سو بار بھی کی جائے تو نئی کیفیات اور نئی سے نئی معنوی جہات سامنے لے کر آتی ہے۔ زیارت اور سیاحت میں ایک فرق یہ بھی ملحوظ رہے۔ جس طرح روحانی کلام ہر بار پڑھنے سے معانی و مفاہیم کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے، اس طرح روحانی مقامات پر حاضری بھی ہر بار شعور کا ایک نیا طبق روشن کرتی ہے۔ سو! پہلی زیارت کی باتیں پہلے کر لیتے ہیں۔ ان دنوں ہمارا عبدالرحیم عرف رومی یونیورسٹی میں نووارد تھا۔ اسے یہاں آئے ہوئے ابھی دو برس ہی ہوئے تھے۔ ہمارا پروگرام بیٹے کے ساتھ عید منانے کا تھا۔ سو، عید سے چند روز قبل رمضان کے آخری عشرے میں ہم اس کے پاس آن وارد ہوئے۔ عید کی چھٹیوں میں قونیہ کی حاضری مقصود تھی۔ جب ٹرین کی ٹکٹ نہ ملی تو بس کے بارے میں جانکاری حاصل کی، معلوم ہوا کہ چودہ گھنٹے کی مسافت ہے۔ چنانچہ طے پایا کہ ہوائی سفر ہی مناسب ٹھہرے گا۔ روانہ ہونے سے قبل اس نے استنبول ہی سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ کی چابیاں لے لیں، اس کا دوست یہاں عید کر رہا تھا اور قونیہ میں اس کا فلیٹ خالی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ کچھ دن قیام کرنا ہو گا، اس لیے ہوٹلوں کے خرچے کی بچت کی جائے۔ ائیرپورٹ سے ٹیکسی لی اور اس کے فلیٹ کی طرف چل دئیے۔ وہاں سامان وغیرہ رکھا، تازہ دم ہوئے، تھکاوٹ تو تھی ہی نہیں۔ شوق کے پاؤں میں تھکن نہیں ہوتی۔ کچھ کھائے پیے بغیر ہی مزار رومی کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں بیٹے سے کہا کہ ڈرائیور مقامی ہے، اس سے تعارف کریں اور اسے کہیں کہ یہاں ہمارا گائیڈ بن جائے، راستوں اور عمارتوں کا تعارف کراتا رہے۔ چنانچہ وہ ترکی میں کمنٹری کرتا رہا اور ہمارے برخوردار ساتھ ساتھ اردو ترجمہ کرتے رہے۔ راستے میں پرانے قلعے نظر آئے، ان کی شکستہ دیواریں اور برج نظر آئے، یہ سلجوق سلطنت کی عظمت ِ رفتہ کے آثار ہیں۔ اتنے میں ایک سڑک مڑتے ہوئے اس نے سرسری کہا کہ دائیں طرف مولانا رومی کے مرشد حضرت شمس تبریز کا مزار ہے۔ یہ سننا تھا کہ میں چونک گیا۔ فوراً اسے کہلوایا کہ ٹیکسی موڑ لے اور پہلے ہمیں شمس تبریز کے مزار پر لے جائے۔ پہلے مرشد کے حضور سلام ہو گا، پھر مرید کے پاس حاضری ہو گی۔ چنانچہ وہ ایک لمبا چکر کاٹ کر واپس ہو لیا اور ہمیں ایک مسجد کے پاس اتار دیا، ڈرائیور نے بتایا کہ اس مسجد کے اندر حضرت شمس تبریز کی تربت ہے۔ یہاں باادب حاضری نصیب ہوئی، دو رکعت نفل تحی المسجد ادا کیے اور دو رکعت حضرت شمس تبریز علیہ الرحمہ کی روح اقدس کو ہدیہ کیے اور ان سے ان کے مرید کے ہاں حاضری کے لیے سفارش لے کر رخصت لی۔ یہاں عید سے اگلا دن تھا، شہر کا شہر باہر نکلا ہوا تھا، مولانا کے روضے پر فی الواقع عید کا سماں تھا۔ اگرچہ مزارِ اقدس کو حکومتِ ترکیہ نے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن یہاں آ کر سیاح اور زائر از خود الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ سیاح لوگ یہاں شیشوں کے شو کیس میں قید قدیم کتب اور پوشاکیں دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور زائر اپنا رخ تربت مبارک کی طرف کر لیتے اور دل پر ہاتھ رکھ کر مولانا کے ساتھ دل کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے مولانا حاضر و موجود ہیں، قصہ ماضی نہیں کہ کسی میوزیم میں حنوط کیے جائیں۔ اس روز جب ہم سلام کے بعد باہر نکلے تو بھوک زوروں پر تھی۔ سامنے بہت سے ریستوران ایک سیدھی قطار میں ایستادہ تھے۔ ایک ریسٹورنٹ کا نام تھا: ’’مولانا کا دستر خوان‘‘۔ ہم تو ناموں پر فدا ہو جانے والے لوگ ہیں، ہم نے کہا: بس! یہیں کھانا تناول کریں گے۔ اوپر کی منزل پر جگہ ملی، سیڑھیوں کا راستہ بہت خوبصورت تھا، ہر سیڑھی پر کسی زبان میں خوش آمدید ایسا استقبالیہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے کافی زبانیں پہچان لیں، اردو، فارسی، عربی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن بس اس ’’جی آیاں نوں‘‘ ذہن میں رکھا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کافی زبانوں پر ’’عبور‘‘ حاصل کر لیا۔ کھانے کے بعد جب رومی کے دوست کے فلیٹ پر واپس جانے لگے تو میں نے کہا: بس اب واپس چلتے ہیں۔ آنے کا مقصد پورا ہو گیا ہے، اب یہاں رات ٹھہر کر کیا کرنا ہے۔ بیٹا بڑے تعجب سے میری طرف دیکھنے لگا، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا مختصر دورہ اتنی دور آنے کے بعد اتنی جلد واپسی۔ بس کے ذریعے قونیہ سے چناکلے کی مسافت سولہ گھنٹے کی تھی۔ میں نے دانستہ زمینی راستے کا سفر اختیار کیا۔ دراصل مجھے یہ دیکھنا مقصود تھا کہ ترکیہ کے مضافاتی علاقوں میں ترقی کا کیا عالم ہے۔ بس سٹینڈ کی طرف جاتے ہوئے، بیٹا بار بار یہ جملہ زیرلب دہراتا رہا: ہم صرف حاضری کے لیے آئے تھے! گویا ہم صرف حاضری کے لیے آئے تھے!! بڑی عجیب بات ہے، ہم صرف سلام کرنے کے لیے آئے تھے! اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا لمبا سفر صرف حاضری کے لیے بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ میں اس کے تعجب خیز جملوں سے لطف لے رہا تھا۔ تعجب نہیں کہ خالص سفر، خالص جذبہ اور خالص تعلق لوگوں کو متعجب کیا کرتے ہیں۔
قونیہ… شہرِِ نور
09:14 AM, 13 Aug, 2025