چینی راہداری منصوبے اور برکس فیصلوں نے امریکی پالیسی سازوں کو پریشان کر رکھا ہے کیونکہ یہ منصوبے ایسے کثیر قطبی منظر نامے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس سے امریکی اہمیت کمی ہونا یقینی ہے اگر امریکی دفاعی، تجارتی اور معاشی غلبہ ختم ہوتا ہے تو اُسے مختلف ممالک کا محتاج ہونا پڑے گا جو اُسے ناپسند ہے مستقبل کے منظر نامے میں نئی جگہ بنانے سے زیادہ وہ اپنی حالیہ حثیت بحال رکھنا چاہتا ہے مگر قرائن سے ظاہر ہے کہ عالمی منظرنامے پر جنم لیتی تبدیلیاں بہت کچھ بدلنے والی ہیں جن سے عالمی تقسیم کا عمل تیز ہو گا جس کے نتیجے میں طاقت کے نئے مراکز وجود میں آ سکتے ہیں جنہیں محصولات بڑھانے اور دبائو سے روکنا اب ممکن نہیں رہا۔موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنیت تاجرانہ ہے وہ دھونس و دبائو سے امریکی منافع بڑھانا چاہتے ہیں اُن کے پاس دفاعی طاقت کا بھی ہتھیار ہے وہ امریکی معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کر رہے ہیں روس اور مشرقِ وسطیٰ کی تیل پر اجارہ داری محصولات بڑھانے کی ایک وجہ ہے رواں ماہ اگست کے دوران ٹرمپ نے کئی اہم فیصلے کیے اور دنیا کے 69 ممالک کی طرف سے امریکہ بھیجے جانے والے سامان پر دس سے پچاس فیصد نیا ٹیرف لگایا اور عالمی تجارت کا رُخ تبدیل کرنے کی کوشش کی مگر ایسی کوششوں کی کامیابی کے حوالے سے ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔چینی راہداری منصوبوں کے کلیدی کردار پاکستان اور برکس میں شامل ایک اہم ملک بھارت پر ٹرمپ کی خاص توجہ ہے پاکستان پر عائد محصول 29 سے 19 کرتے ہوئے بھارت پر پچاس فیصد نئے محصولات عائد کیے گئے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل کے دیگر بڑے برآمد کنندگان بنگلہ دیش اور ویت نام پر محصول کی شرح بیس فیصد کر دی گئی ہے محصول کی شرح 19 فیصد ہونے پر پاکستان خوش ہے حالانکہ اِس سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات برآمد کرنے میں زیادہ بہتری نہیں آ سکتی بنگلہ دیش اور ویت نام میں صنعتوں کے لیے توانائی سستی ہے جبکہ پاکستان میں پیداواری لاگت دس فیصد زیادہ ہے اِن حالات میں بھارتی برآمدات اگر کچھ متاثر ہوں گی بھی تو بھی بنگلہ دیش اور ویت نام کی طرف سے پاکستانی برآمدات کے لیے چیلنج کم نہیں ہو گا علاوہ ازیں امریکی تیل جو روس اور مشرقِ وسطیٰ سے مہنگا ہے خریدنے سے برآمدی منافع زائل ہو سکتا ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ پاکستان فیصلوں میں توازن رکھے اور چین اور امریکہ کیلئے تجربہ گا ہ بننے کی بجائے ریاستی مفاد کو ترجیح دے۔ٹرمپ ایک خود پسند شخص ہیں جنہیں اپنی منوانے کا جنون ہے وہ ہر جگہ بالاتر اور نمایاں رہنے کے متمنی ہیں مگر اُن کی طبیعت میں تضاد بھی ہے ایک طرف خود کو دنیا کے ایسے امن پسند اور صُلح جو کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کا بھارت و پاکستان کی جنگ بندی، ایران پر اسرائیلی حملے بند کرانے اور آزربائیجان و آرمینیا میں امن معاہدہ کرانا کارنامہ ہے۔ دوسری طرف جب غزہ کے مظلومین کی نسل کشی کی بات ہو تو بے نیازی، بے زاری اور لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے فیصلوں کا اختیار اسرائیل کو دے دیتے ہیں یہ نا انصافی اُن کے امن پسند کردار کو دھندلاتی ہے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کے چکر میں وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اُن سے اتفاق کرے لیکن دُہرے کردار سے امن کے نوبل نعام کا حصول شاید ممکن ہو جائے لیکن دنیا غیر جانبدار اور امن پسندکے طور پر تسلیم کرتی نظر نہیں آتی۔برکس میں شامل بھارت اور برازیل جیسے اہم ممالک امریکہ کا بطور خاص نشانہ ہیں ٹرمپ نے اُن پر محصولات کی شرح سب سے زیادہ پچاس فیصد کر دی ہے جو اِس اُبھرتے معاشی، تجارتی اور سفارتی بلاک سے ناپسندیدگی کا اِشارہ ہے بظاہر امریکہ نہیں چاہتا کہ بھارت تیل کی درآمدات کیلئے روس پر انحصار بڑھائے مگر اِس کی وجہ وہ نہیں جو بتائی جا رہی ہے کہ اِس طرح یوکرین پر حملے کرنے میں روس کی مالی مدد ہو رہی ہے دراصل چین سے بھارت کو دور رکھنا اور بھارت کا چین سے جلد تصادم کرانا ہے مگر رواں ماہ کی پاک بھارت جھڑپوں نے بھارتی دفاعی طاقت کا پول کھول دیا ہے جب چند گھنٹوں میں پاکستان نے فضائی اور زمینی برتری کا بھارتی غرور خاک میں ملا دیا اِس تناظر میں چین سے موازنہ بنتا ہی نہیں لیکن چینی راہداری منصوبوں اور برکس فیصلوں سے خوفزدہ امریکہ کچھ دیکھنے اور سمجھنے پر تیار ہی نہیں وہ بھارت کو برکس سے الگ کرانے اور چینی منصوبوں کو
بھارتی طاقت سے ختم کرانے کا آرزو مند ہے ایسا ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں اور اگر بھارت ایسی کسی سازش میں آلہ کار بنتا ہے تو اِس کے نتیجے میں اُس کا سفارتی اور دفاعی کردار ہمیشہ کے لیے محدود ہونا یقینی ہے رواں ماہ چین میں منعقد ہونے والے برکس سرابرہی اجلاس میں سات برس کے طویل وقفے کے بعد مودی کی شرکت پر رضامندی اسی طرف اِشارہ ہے کہ چین سے ٹکرائو کی ہمت نہیں رکھتا بلکہ چینی ٹیکنالوجی سے مرعوب ہے۔برکس روس، بھارت، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسے پانچ ممالک پر مشتمل ایسا اتحاد ہے جو دنیا کی آبادی کے 47 فیصد کا مسکن ہیں جس کا گلوبل جی ڈی پی میں حصہ 36 ہے یہ ممالک تیل، گیس سمیت نہ صرف دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں ہیں دفاعی حوالے سے بھی طاقتور اور بیرونی جارحیت سے محفوظ ہیں بھارت کا روس اور چین کے اِس منصوبے سے اتفاق ہے کہ امریکہ اور مغرب کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹل کرنسی، مصنوعی ذہانت، فائیوجی سپیکٹرم اور تیل جیسی مصنوعات میں برکس کا حصہ بڑھایا جائے یہ تنظیم ڈالر پر مبنی معاشی نظام کا متبادل چاہتی ہے۔ اِس میں شامل ممالک چینی کرنسی یوآن، روسی کرنسی روبل اور بھارتی روپے میں تجارت بڑھا رہے ہیں۔ تو قع ہے کہ جلد ہی سعودی عرب، مصر، ایران اور یو اے ای بھی اِس کا حصہ بن جائینگے جس سے معاشی، تجارتی اور سفارتی طاقت میں مزید اضافہ ہو گا جسے روکنے کے لیے امریکی قیادت پاکستان سے مدد چاہتی ہے اسی لیے تجارتی نوازشات کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھایا جانے لگا ہے۔چینی کرنسی میں ادائیگیوں کا نظام تیز اور سستا ہے جس سے کئی ممالک متاثر ہو کر راغب ہونے لگے ہیں پہلی بار سعودی عرب نے چینی کرنسی یوآن میں تیل کی ادائیگی کی طرف پیش رفت کی ہے۔ ڈالر میں زرِ مبادلہ کے ذخائر رکھنے کی بجائے دیگر کرنسیوں میں زرِ مبادلہ رکھنے کی حوصلہ افزائی ہونے لگی ہے۔ جب سے برکس نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اِداروں (جن پر امریکہ کا زیادہ اثر و رسوخ ہے) کا متبادل سی آر اے بینک متعارف کرایا ہے جو برکس میں شامل ممالک کو مالی مشکلات کی صورت میں قرض دے گا، نے دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ تبدیلی کی جانب ایسا اہم قدم ہے جو عالمی مالیاتی نظام پر ڈالر کی صورت میں امریکی اجارہ داری ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے ایسے اقدامات سے ہی امریکہ عدم تحفظ کا شکار ہے اور چین و روس کی قیادت میں تشکیل پانے والی برکس جیسی تنظیم سے دنیا کو دور رکھنے کے لیے محصولات کا سہارا لینے لگا ہے۔
چین و برکس سے خوف
09:14 AM, 13 Aug, 2025