سائنسی ایجادات اور ٹیکنالوجی اختراعات نے انسانی زندگی میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ انسان کی استعداد کار حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے یہاں مثال دینا شاید اتنا ضروری نہیں ہے کیوں کہ ہمارا اردگرد مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہمارے شب و روز ان کے ساتھ اور ان میں گزرتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو حیران کر رکھا ہے۔ وقت مٹھی میں آچکا ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں۔ وقت کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ دن رات کی تفریق و توثیق مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کب دن گزرا اور رات آئی، کب رات گزر گئی اور دن آیا، کسی کا اثبات ہو ہی نہیں پاتا ہے۔ بات مادیت پرستی سے کہیں آگے چلی گئی ہے۔ دولت کا حصول مطمع نظر ہوتا تھا تاکہ زندگی میں آرام و آسائش حاصل کیا جا سکے پھر سماجی برتری اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لئے دولت حاصل کی جانے لگی پھر سیاست نے راہ پائی۔ بڑا مرتبہ پانے کے لئے دولت کا استعمال رائج ہوا۔ اب ڈیجیٹل دور میں دولت کمانے اور دولت بنانے کے ان گنت ذرائع معرض وجود میں آچکے ہیں۔ معمولی صلاحیت کا انسان، موبائل فون پر لامحدود امکان والی دنیا کے ساتھ رابطہ کر لیتا ہے پھر اپنی پسند اور صلاحیت کے مطابق کمائی کرنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح کمائی کا تصور ہی اتنا خوش کن ہے کہ ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی ہر جوان، نوجوان، مرد وزن اسی کام میں لگا ہوا ہے۔ دولت حاصل بھی کر رہا ہے، اس طرح حاصل کردہ دولت نے ایک نیا، بالکل نیا معاشرہ تشکیل دیا ہے جس میں ڈرگز ہیں۔ نشہ آور اشیا ہیں، جنسی بے راہ روی ہے، تشدد ہے، جرائم ہیں، غیرفطری زندگی فروغ پا رہی ہے۔ غیر فطری معاشرہ پنپ رہا ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ سماجیات و اخلاقیات کے قوانین و ضوابط غتربود ہو رہے ہیں۔ حیوانیت غالب آرہی ہے۔ یہ چلن انفرادی یا شخصی طور پر ہی نہیں بلکہ اقوام کی سطح پر پنپ رہا ہے۔ روس یوکرائن کی طویل جنگ کو دیکھ لیں۔ معدنی ذخائر پر قبضے کی جنگ میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ یہ جنگ ایشیائی یا افریقی ممالک میں نہیں ہو رہی ہے بلکہ یورپ کی انتہائی مہذب اقوام اس جنگ میں شریک ہیں اور مہذب اقوام ہی متحارب اقوام کی مدد کر رہی ہیں۔ انسانی و قدرتی وسائل کھپ رہے ہیں جو وسائل انسانی تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں۔ وہ انسانوں کی ہلاکت و بربادی پر کھپ رہے ہیں۔ ایسا کرنے پر مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کو ہرگز ہرگز ندامت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کو برباد کرنے کے دعوے اور مکرر دعوے انسانیت کے چہرے پر شرمناک داغ ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل کو دیکھ لیں۔ وہ 7اکتوبر 2023ء سے نہتے فلسطینیوں پر قہر خداوندی بن کر ہلاکت انگیزی کر رہا ہے۔ 26 میل پر مشتمل غزہ کی پٹی میں بسنے والے نہتے بچوں، عورتوں اور بوڑھے مردوں کو نابود کرنے کے لئے کئی ایٹم بموں کے برابر بارود استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس پٹی پر بسنے والے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ ہی نہیں کیا گیا بلکہ مکمل طور پر برباد کر دیا گیا ہے۔ پٹی کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ رہائشی عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کی جا چکی ہیں۔ 80/90 فیصد آبادی اپنے مقام سے ہجرت کر گئی ہے۔ اسرائیلی بمبار کیمپوں میں بھی ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ان پر بمباری کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر عیسائی اقوام کے جہاز، اسلحہ و گولہ بارود مہیا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی طیارے گولہ بارود غزہ کی پٹی اور یہاں سے ہجرت کرنے والے فلسطینیوں پر روزانہ کی بنیاد پر ان لوڈ کر رہے ہیں۔ آتش و آھن کا ایک بڑا جہنم غزہ میں دھک رہا ہے۔ اسرائیل اس جہنم کا داروغہ بن کر فلسطینیوں کی نسل کشی کے لئے انہیں اس جہنم میں دھکیل رہا ہے۔ اگر کسی نے حقیقتاً دیکھنا ہو کہ نسل کشی کیا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے تو وہ غزہ میں صیہونی فورسز کے ہاتھوں فلسطینیوں کی ہوتی ہوئی دیکھ لے۔ صیہونیت، جدید ریاست اسرائیل کی خالق ہے، ڈھائی ہزار سال کے بعد صیہونی قیادت میں اسرائیل قائم ہوا۔ 1948ء میں اس کے قیام کے بعد سے صیہونی اس ریاست کو گریٹر اسرائیل بنانے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں۔ وہ عظیم اسرائیل جو اسرائیل کے رب نے دائود و سلیمان کو دیا تھا۔ وہ عظیم اسرائیل جہاں ہیکل موجود تھا جو بنی اسرائیل کی روحانی عظمت اور شکوہ کی علامت تھا۔ بنی اسرائیل کے رب کی رحمتیں، نوازشیں اور نعمتیں ھُن کی طرح بنی اسرائیل پر برستی تھیں پھر وقت نے پلٹا کھایا۔
عیسیٰ ابن مریم ؑکی تکذیب اور انہیں صلیب پر چڑھائے جانے کے جرم میں بنی اسرائیل اپنے رب کے غضب کا شکار ہوئے۔ وہ اس سے پہلے بھی اللہ کی نافرمانیوں کے باعث عذاب کا شکار ہوتے رہے تھے لیکن اپنے انبیاء کے ذریعے انہیں معافی ملتی رہی حتیٰ کہ اللہ نے عیسیٰ ابن مریم ؑکو مسیحا اور آخری نبی کے طور پر بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔ اسرائیلیوں نے انہیں جھٹلایا۔ ان کی بے حرمتی کی۔ اذیتیں دیں حتیٰ کہ انہیں صلیب تک کھینچ لائے۔ اس کے بعد اللہ نے ان پر عذاب مسلط کیا ہیکل تباہ ہو گیا۔ عظیم ریاست اسرائیل برباد ہو گئی۔ اللہ کی پیاری قوم ابدی غلامی اور انتشار میں مبتلا کر دی گئی۔ یہ عذاب 2500 سال تک جاری رہا حتیٰ کہ 1948ء میں ریاست اسرائیل معرض وجود میں آگئی۔ وہ دن اور آج کا دن یہ ریاست عربوں، فلسطینیوں اور اقوام عالم کے لئے ایک عذاب مسلسل کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ عرب شکست خوردگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں فکری بالیدگی رہی ہے اور نہ ہی عملی قوت جو اسرائیل کا مقابلہ کر سکے۔ گریٹر اسرائیل کے جغرافیے کی صیہونی بار بار نشاندہی کر چکے ہیں۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت بھی گریٹر اسرائیل کا نقشہ ان کے سامنے تھا اور اس کے بعد بھی وہ اسی نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے کاوشیں کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک ایک لمحہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے جدوجہد میں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب سے مناجات ہی نہیں کرتے بلکہ طاقت جمع کرتے ہیں اور پھر اس طاقت کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے بروئے کار لاتے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، سماجیات، زراعت، طب و غیر ھم کوئی شعبہ ہائے زندگی ایسا نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنے نشانات مرتب نہیں کئے ہیں۔ دنیا کی سپریم طاقت برطانیہ عظمیٰ پر کنٹرول حاصل کرنے کے باعث وہ ریاست اسرائیل قائم کرنے پر قادر ہوئے۔ دنیا کی سپریم طاقت امریکہ کے اعصابی مراکز پر چھا جانے کے باعث وہ امریکی سرپرستی و امداد کے ذریعے اسرائیل کو گریٹ بنا چکے ہیں اور اب گریٹر اسرائیل کے قیام کی منزل پا لینے کے قریب ہیں۔ غزہ پر قبضہ گریٹر اسرائیل کے قیام کا حصہ ہے۔ 26 کلومیٹر لمبی پٹی مجوزہ گریٹر اسرائیل کا حصہ ہے، اس لئے نیتن یاہو یہاں فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے یہاں سے انہیں دھکیل رہا ہے۔ اب عملاً غزہ ناقابل رہائشی ہو چکا ہے۔ فلسطینی یہاں اپنی ہی زمینوں پر مہاجر ہو چکے ہیں۔ نیتن یاہو انہیں مہاجر کے طور پر بھی دیکھنا گوارا نہیں کر رہا ہے۔ اسے گریٹر اسرائیل کے لئے غزہ چاہئے۔
غزہ : کیا ہو رہا ہے، کیا ہو گا؟
09:14 AM, 13 Aug, 2025