مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں رجب طیب اردوان کا حالیہ بیان ایک ایٹمی دھماکے سے کم نہیں محسوس ہو رہا۔ ترک صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے جس دو ٹوک انداز میں ”الٹی میٹم“ دیا ہے، اس نے عالمی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اردوان کا یہ کہنا کہ ”لبنان اور ایران پر کوئی بھی حملہ ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا“محض ایک جذباتی بیان نہیں، بلکہ یہ ایک نئی علاقائی دفاعی پالیسی کا اعلان ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل آگ سے کھیلنا بند کرے، ورنہ اسے وہ عبرتناک سبق سکھایا جائے گا جو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ یہ الفاظ ایک ایسی ریاست کے سربراہ کے ہیں جس کی فوج نیٹو میں دوسری بڑی طاقت ہے اور جس کا جغرافیائی مقام مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا درجہ رکھتا ہے۔
اس کالم کا مقصد صرف اس خبر کی تشہیر نہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اس آئینے کے سامنے کھڑا کرنا ہے جو صدر اردوان نے دکھایا ہے۔ آج جب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اسرائیل کی نظریں اب لبنان اور ایران کی سرحدوں پر جمی ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا باقی اسلامی دنیا صرف قراردادیں پاس کرنے اور مذمتی بیانات جاری کرنے تک محدود رہے گی؟ اردوان نے یہ کہہ کر کہ”اگر امن قائم نہ ہوا تو ہم اسرائیل پر حملہ کریں گے“، یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب سفارت کاری کی میز سے اٹھ کر میدانِ عمل میں آنے کا وقت آ چکا ہے۔ ان کا یہ انتباہ کہ ”مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں“، دراصل عالمی ضمیر اور خصوصاً مسلم امہ کے لیے ایک چارج شیٹ ہے۔
اردوان کے بیان کا سب سے اہم پہلو پاکستان کا ذکر ہے۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ ”اگر پاکستان ثالثی نہ کر رہا ہوتا تو ہم کب کا قدم اٹھا چکے ہوتے“۔ یہ جملہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت اور اس کی عسکری ہیبت کا اعتراف ہے۔ پاکستان، جو کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے، ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مرکز رہا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان یہ خاموش مفاہمت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پسِ پردہ کچھ ایسے بڑے فیصلے ہو چکے ہیں جن سے دشمن بخوبی واقف ہے۔ پاکستان کی ثالثی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اسرائیل کو وقت دے رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم دنیا جنگ کے آخری آپشن سے پہلے دنیا کو امن کا ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ لیکن اگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا، تو پھر ترکیہ اور پاکستان کا گٹھ جوڑ خطے کا نقشہ بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسلامی ممالک، بالخصوص وہ جو معاشی طور پر مستحکم ہیں، اسی موقف کو اپنا قومی بیانیہ بنائیں۔ سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا اور نائیجیریا جیسے بڑے مسلم ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کا بڑھتا ہوا جنون صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ”گریٹر اسرائیل“ کا وہ خواب ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے ب±نا گیا ہے۔ اگر آج لبنان اور ایران کے دفاع کے لیے ترکیہ کی طرح آواز بلند نہ کی گئی، تو کل باری کسی اور کی ہوگی۔ تاریخ کا سبق بڑا تلخ ہے کہ جو قومیں بکھر جاتی ہیں، وہ مٹ جاتی ہیں۔ اردوان نے جو لکیر کھینچی ہے، وہ دراصل ”امت واحدہ“ کے تصور کی عملی تصویر ہے۔
اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایک ”مشترکہ دفاعی بلاک“ تشکیل دیں۔ جب تک اسرائیل کو یہ خوف نہیں ہوگا کہ ایک مسلم ملک پر حملہ 57 ممالک کی مشترکہ فوج سے ٹکرانے کے مترادف ہے، وہ اپنی جارحیت سے باز نہیں آئے گا۔ معاشی بائیکاٹ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن جب بات سرحدوں کی پامالی اور معصوم جانوں کے زیاں تک پہنچ جائے، تو وہاں صرف فولادی قوت ہی کام آتی ہے۔ اردوان کا لہجہ اس لیے سخت ہے کیونکہ ان کے پاس ایک جدید فوج اور مضبوط دفاعی صنعت موجود ہے۔ اگر تمام اسلامی ممالک اپنی دولت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی پر صرف کریں، تو انہیں کسی مغربی طاقت کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
پاکستان کے عوام اور قیادت کو بھی اس نازک موڑ پر اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ اردوان نے پاکستان کی ثالثی کو جو اہمیت دی ہے، وہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہماری خاموشی یا ثالثی کی کوششیں کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری کا ثبوت ہیں۔ لیکن اگر اسرائیل نے لبنان یا ایران پر جارحیت کی، تو پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ صرف کسی ملک کی حمایت نہیں ہوگی، بلکہ یہ قبلہ اول کی حفاظت اور عالمی امن کی بقا کی جنگ ہوگی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ 2024 کا مشرقِ وسطیٰ 1967 جیسا نہیں ہے۔ اب مسلمانوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، میزائل سسٹم اور سب سے بڑھ کر ”شہادت“ کا وہ جذبہ ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی مادی طاقت نہیں کر سکتی۔ اردوان نے جو الٹی میٹم دیا ہے، وہ پوری مسلم امہ کے دل کی آواز ہے۔ اگر اب بھی عالم اسلام کے دیگر حکمران بیدار نہ ہوئے، تو آنے والی نسلیں ان کی خاموشی کو مجرمانہ غداری کے طور پر یاد رکھیں گی۔
قارئین کرام ! طیب اردوان کا موقف عالم اسلام کے لیے ایک ”ٹیسٹ کیس“ ہے۔ کیا ہم اپنے مسلکی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی معیشتوں کو اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے چنگل سے آزاد کرا سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو پھر اسرائیل کی شکست یقینی ہے۔ اردوان نے جرا¿ت کا جو چراغ روشن کیا ہے، اسے اب پورے عالم اسلام میں پھیل جانا چاہیے۔ پاکستان، ترکیہ اور ایران کا اتحاد ہی وہ مثلث ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ضامن بن سکتا ہے۔ اب وقت باتوں کا نہیں، بلکہ ”عبرتناک سبق“ سکھانے کی تیاری کا ہے۔
پاکستان کی ثالثی اور ترکیہ کا اسرائیل کو چیلنج!
08:41 AM, 14 Apr, 2026