السلام علیکم! آپ کا پارسل آیا ہے۔ جواب، کس نے بھیجا ہے؟ دراز، ٹی سی ایس یا کسی ادارے کا نام لے دیں گے۔ فون ریسیو کرنے والا، میں نے تو کوئی پارسل نہیں منگوایا۔ فون کرنے والا یہ Paid رقم ادا شدہ آپ کے فون پر چھ ہندسے (Digit) ہوں گے وہ بتا دیں، میں تفصیل بتا دیتا ہوں۔ بس، اناڑی نے ڈیجٹ بولے اور فراڈیے نے نمبر ہیک کر لیا۔ پھر اُس کے فون پر جتنے رابطہ نمبر (Contact) ہیں، سب سے تین لاکھ سے نیچے آتا آتا 50 ہزار اور پھر 10 ہزار روپے پر آ جاتا ہے۔ ”السلام علیکم! مجھے آپ کی مدد چاہیے، اتنے پیسے دے دیں، کل صبح واپس کر دوں گا“۔ بس پھر جتنے لوگوں نے مارے شرم کے بغیر پوچھے دے دئیے، سو دے دئیے۔ مگر ہمارے ادارے اس کا آج تک تدارک نہیں کر سکے۔ یہی واردات بینک اکاو¿نٹس میں ہے، لوگ لاکھوں روپے سے محروم ہو گئے۔ سی سی ڈی کے گرفتار شدگان کے نیفے میں پستول چل جاتا ہے، ساتھی چھڑانے آ جاتے ہیں، چھوٹی سی ڈکیتی والا پار ہو جاتا ہے جبکہ یہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کروڑوں کی ڈکیتیاں کرنے والے محفوظ ہیں۔ سی سی ڈی کیسا کامیاب محکمہ ہے کہ ہر گرفتار شدہ کو ساتھی چھڑانے آ جاتے ہیں اور وہ مارا جاتا ہے جیسے ملزم کو رضاکاروں نے گرفتار کر رکھا ہے۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائم اور دیگر ادارے صرف یوٹیوب اور کالم پر اعتراض کرنے پر مامور ہیں؟ آخر، اس درد کی دوا کیا ہے؟۔
پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران جہاں ٹیکنالوجی نے معاشرتی اور معاشی زندگی کو تیزی سے تبدیل کیا ہے، وہیں ایک نیا اور خطرناک رجحان بھی جنم لے چکا ہے، ڈیجیٹل جرائم اور آن لائن فراڈ، واٹس ایپ ہیکنگ، بینک اکاو¿نٹس سے غیر مجاز رقوم کی منتقلی، شناختی معلومات کا غلط استعمال اور فشنگ سکیمیں اب روزمرہ کی خبروں کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ عام شہری خود کو ہر وقت ایک غیر مرئی دشمن کے سامنے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد شکایات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں شہریوں نے بتایا کہ ان کے موبائل فون اکاو¿نٹس ہیک ہوئے، OTP کوڈز کے ذریعے بینک اکاو¿نٹس سے رقوم نکال لی گئیں، یا جعلی کالز کے ذریعے ان سے حساس معلومات حاصل کر لی گئیں۔ بعض کیسز میں متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر متعلقہ بینک اور سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا، مگر کارروائی یا تو تاخیر کا شکار ہوئی یا مکمل طور پر بے نتیجہ رہی۔ یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ سائبر فراڈ کے متاثرین کے لیے انصاف کا راستہ نہایت پیچیدہ اور طویل ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ (FIA Cyber Crime Wing) کے پاس روزانہ سیکڑوں شکایات درج ہوتی ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد واٹس ایپ ہیکنگ، سوشل میڈیا فراڈ، آن لائن بلیک میلنگ اور مالی دھوکہ دہی سے متعلق ہوتی ہے۔ تاہم عوامی سطح پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان شکایات میں سے کتنے کیسز حقیقت میں منطقی انجام تک پہنچتے ہیں؟ اور کتنے متاثرین اپنی رقم واپس حاصل کر پاتے ہیں؟ بدقسمتی سے اعداد و شمار کی شفافیت اور عوامی اعتماد دونوں ہی کمزور نظر آتے ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ ادارہ جاتی ردعمل کا سست ہونا ہے۔ اکثر شکایت کنندگان یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان سے بار بار اضافی دستاویزات طلب کی جاتی ہیں، دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں اور کیس مہینوں یا بعض اوقات سالہا سال تک زیر التوا رہتا ہے۔ اس دوران ہیکرز یا فراڈیے نہ صرف محفوظ بلکہ مزید متاثرین کو بھی نشانہ بنا لیتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل جرائم کے خلاف نظام رفتار اور مو¿ثریت دونوں میں کمزور ہے۔ اگر ہم روایتی جرائم سے موازنہ کریں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سڑکوں پر ہونے والے جرائم جیسے ڈکیتی یا چوری کے خلاف فوری پولیس ایکشن، میڈیا کوریج اور بعض اوقات فوری گرفتاریاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مگر ڈیجیٹل جرائم میں ایسا ردعمل شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ حیران کن امر ہے کہ جسمانی جرائم کو زیادہ ترجیح اور ڈیجیٹل جرائم کو ثانوی سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ معاشی نقصان کے اعتبار سے یہ جرائم کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر سائبر کرائم ایک انتہائی منظم اور تکنیکی میدان بن چکا ہے، جہاں جدید فرانزک ٹولز، مصنوعی ذہانت اور ریئل ٹائم ٹریکنگ سسٹم استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں صورتحال اب بھی بنیادی سطح پر کھڑی نظر آتی ہے۔ تکنیکی مہارت کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی قلت، اور جدید سافٹ ویئر کی عدم دستیابی اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ نتیجتاً مجرم اکثر آسانی سے قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ مزید برآں، بینکنگ سیکٹر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اکثر فراڈ کیسز میں شہریوں کو OTP فراڈ یا SIM ہیکنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن سکیورٹی پروٹوکولز میں موجود کمزوریاں واضح نظر آتی ہیں۔ صارفین کو بار بار احتیاطی تدابیر تو بتائی جاتی ہیں، مگر سسٹم لیول سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان
عام شہری کا ہو رہا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتا ہے، دوسری طرف اسے انصاف کے لیے طویل قانونی اور انتظامی عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو عوام میں بے چینی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم کے پورے نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے۔ FIA کے سائبر ونگ کو جدید ڈیجیٹل ٹولز، بین الاقوامی تعاون اور فوری رسپانس یونٹس فراہم کیے جائیں۔ عدالتوں میں سائبر کیسز کے لیے خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جائیں تاکہ مقدمات برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں نمٹ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکنگ اور ٹیلی کام سیکٹر پر بھی سخت ریگولیٹری نگرانی ضروری ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ ڈیجیٹل جرائم اب محض تکنیکی مسئلہ نہیں رہے بلکہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اگر بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ طوفان نہ صرف انفرادی زندگیوں کو متاثر بلکہ ملکی معیشت اور ریاستی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ریاستی ادارے ڈیجیٹل جرائم کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیں جتنا سنجیدگی سے روایتی جرائم کو لیا جاتا ہے، ورنہ یہ خاموش مگر خطرناک جنگ جیتنا ممکن نہیں رہے گا۔
ڈیجیٹل جرائم کا بڑھتا ہوا طوفان
08:46 AM, 14 Apr, 2026