جیت پاکستان کی....!

08:45 AM, 14 Apr, 2026

 پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے پہلے مرحلے کے نتائج حوصلہ افزا نہیں نکل سکے۔ امریکی نائب صدر نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ہم کسی معاہدے کے بغیر جارہے ہیں ۔ اسلام آباد مذاکرات کے بعد عالمی میڈیا میں خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ رپورٹس کے مطابق معاہدے پر تقریباً اتفاق ہو چکا تھا مگر کچھ شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی ۔ ان سارے حالات میں دونوں فریقین نے پاکستانی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ امریکی نائب صدر نے جہاں خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا وہیں ایرانی قیادت بھی پاکستان کے کردار کی دل سے مشکور ہے ۔ یہی نہیں اسلام آباد میں آنے والا غیر ملکی میڈیا بھی تعریف کرتے نہیں تھک رہا ۔ غیر ملکی صحافی پاکستانی کلچر اور پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی داد دے رہے ہیں اور ان مذاکرات کو غیر معمولی پیش رفت سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ اس طرح پاکستان کا جھنڈا پھر سے پوری دنیا میں لہرا رہا ہے ، یوں لگ رہا ہے کہ جیت پاکستان کی ہی ہوئی ہے ۔ پہلے مرحلے کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان نے پھر سے دونوں فریقین میں سمجھوتے کی مخلصانہ کوششیں شروع کر دی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سفارتی میدان میں پیچھے نہیں ہٹا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جلد از جلد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دے رہا ہے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ 22 اپریل کو جنگ بندی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی فریقین کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔ ایک قابلِ عمل مفاہمت تک پہنچا جائے تاکہ دوبارہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔ اس اہم عرصے کے دوران مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کیلئے کوششیں بھی جاری ہیں ۔ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی متحرک ہیں اور اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے انتھک محنت کررہا ہے ۔ پاکستان حکام کو امید ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے بچنے اور محدود وقت کے اندر سفارتی حل حاصل کرنے کیلئے معاملات تیزی اختیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم اسلام آباد کی فعال ثالثی عالمی امن اور تنازعات کی روک تھام کیلئے اس کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی مضبوط قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے مطابق پاکستان امن کا فاتح بن کر ابھرا ہے اور اس کامیابی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی طاقت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عسکری قیادت کی مو¿ثر حکمتِ عملی کے باعث مخالفین کو بھی حقائق تسلیم کرنا پڑے، جبکہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا کی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی قومی غیرت، وقار اور امن پسند پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کی پہچان امن اور استحکام کے فروغ سے جڑی ہوئی ہے اور یہی پہلو عالمی سطح پر ملک کے مثبت کردار کو اجاگر کر رہا ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قیادت کی بصیرت اور جرا¿ت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، جو پاکستان کے ذمہ دارانہ اور متوازن کردار کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن ان تمام حالات میں بھارت کی چیخیں بھی سننے والی ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے کہ بھارتی حکام کی پھر نیندیں اڑ گئی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ بھارتی حکام اور مختلف بھارتی حلقے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ۔ بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کے انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ" اور" پھر ایک بار ٹرمپ سرکار" مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔ اسی طرح بھارتی عوام بھی مودی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں ، بھارتی ولاگر بھی کھل کر مودی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں مگر اب بھی گودی میڈیا پیسے کی چمک دیکھ کر مودی سرکار کی عزت بچانے میں مصروف ہے ۔ ان تمام حالات میں کچھ بھی ہو جائے ، پاکستان کی عزت و وقار میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور یہی پاکستان کی کامیابی ہے۔

مزیدخبریں