عرفان صدیقی صاحب.... مہربان دوست! 

08:44 AM, 14 Apr, 2026

پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ¿ فلم و براڈ کاسٹنگ کی پروفیسر و چیئرپرسن اور روزنامہ نئی بات کی سینئر کالم نگار ڈاکٹر لُبنٰی ظہیر صاحبہ کی کچھ ہی عرصہ قبل چھپ کر آنے والی کتاب "سیاست سے ہٹ کر" میرے زیرِ مطالعہ رہی۔ اس کے بارے میں روزنامہ نئی بات میں مَیں نے ایک کالم بھی لکھا۔ یہ سطور لکھ رہا ہوں تو مجھے ڈاکٹر لُبنٰی ظہیر صاحبہ کی کتا ب کا ایک کالم یاد آ رہا ہے جو انہوں نے روزنامہ نئی بات کے سابقہ گروپ ایڈیٹر سینئر صحافی ، مدیر و کالم نگار محترم عطاءالرحمٰن کی فروری ۲۰۲۲ءمیں وفات کے موقع پر لکھا۔ یہ کالم روزنامہ نئی بات میں "عطاءالرحمٰن ، صحافت کا مینارہ ¿ نور" کے عنوان سے چھپا۔ برادرم مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے جناب چوہدری عبدالرحمٰن اور محترم عطاءالرحمٰن مرحوم کے ساتھ انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات تھے۔ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کو اِس دنیا سے رُخصت ہوئے پورے پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ان کی باتوں اور یادوں کا میں ذکر کرتا رہا ہوں۔ بلا شبہ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے دوستوں کے ایسے بہی خواہ اور مخلص دوست تھے جو اپنے احباب اور دوستوں کی قدر اور دلجوئی ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے باہمی تعلقات کو خوش گوار بنانے کے لیے بھی کوشاں رہتے تھے۔ ان کا حلقہ¿ احباب بہت وسیع تھا جس میں ہر شعبہ¿ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد حضرات اور خواتین شامل تھیں۔ میں جو اُن کا ہم دَم دیرینہ تھا اور جس سے عشروں پر محیط ان کے انتہائی گہرے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات تھے۔ میری بھی عرفان صاحب کے حلقہ¿ احباب میں شامل کئی خواتین و حضرات سے اُن کی معرفت شناسائی ہی نہ ہوئی بلکہ ان سے نیاز مندانہ اور دوستانہ تعلقات بھی قائم ہوئے۔ میں اُن میں سے کچھ کے بارے میں " عرفان صاحب کی باتیں اور یادیں "کے تحت کالموں میں ذکر کر چکا ہوں۔ اب میں کچھ مزید دوستوں اور احباب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اِن میں سے زیادہ تو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیںاور عرفان صاحب بھی اب اِس دنیا میں موجود نہیں ہیں وَرنہ وہ زندہ تھے اور اُن سے ملاقات ہوتی اور گفتگو کے دوران موقع ملتا تو احباب میں سے کسی کا ذکر ضرور ہو جاتا۔ کچھ باتیں اور یادیں تازہ ہو جاتیں اور عرفان صاحب مجھ سے ضرور پوچھتے کہ ان سے کچھ رابطہ ہے، ان کی خیر خیریت کا کچھ علم ہے۔ میں اپنی مصروفیات اور کم مائیگی کا حوالہ دے کر معذوری کا اظہار کر تا تو پھر چند لمحوں کے لیے خاموشی طاری ہو جاتی۔ گویا دل ہی دل 
میں تاسف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
میں ان سطور میں کچھ احباب کے نام لے کر ذکر کر رہا ہوں تو گویا یہ برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے لیے ایک طرح کا خراجِ تحسین ہے کہ ان احباب میں سے زیادہ تر سے عرفان صاحب کی وساطت سے ہی میرے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے۔ لالہ سرور ان کا میں پہلے بھی کسی کالم میں ذکر کر چکا ہوں۔ یہ گورنمنٹ نارمل سکول لالہ موسیٰ میں عرفان صاحب کے جے وی کورس میں کلاس فیلو رہے تھے۔ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ایک پرائمری سکول میں ان کی تعیناتی ہوئی تو عرفان صاحب کی وساطت سے میری بھی اُن سے شناسائی ہوئی جو جلد ہی گہری دوستی میں اس طرح تبدیل ہوئی کہ میری ، عرفان صاحب اور لالہ سرور کی آپس میں دوستی اور رفاقت نے ایک مثلث کی صورت اختیار کیے رکھی۔ لالہ سرور نے بی اے کے بعد ۱۹۶۶ءمیں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا تو ان کی سی بی (ایف جی) ہائی سکول دریا آباد گوالمنڈی میں بطورِ سینئر ٹیچر تقرری ہو گئی۔ بعد میں وہ یہاں سے ترقی پا کر ایف جی ہائی سکول اٹک میں بطورِ پرنسپل تعینات ہوئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ لالہ سرور جنہیں میں اور عرفان صاحب اپنے سے عمر میں بڑا ہونے کی بنا پر اُن کے نام (محمد سرور) کے ساتھ "لالہ" کا سابقہ لگا کر پکارا کرتے تھے ، بڑے خوش مزاج اور پُرمزاح شخصیت کے مالک تھے اور گھر گر ہستی کے کاموں اور امور میں خواتین کی طرح دلچسپی لیا کرتے تھے۔ انہوں نے صادق آباد سے آگے پرانے ائیر پورٹ کو جانے والی سڑک پر گھر بنایا تو میں اور عرفان صاحب بطورِ خاص وہاں ان سے ملنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ 
برادرم مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب مرحوم و مغفور کی وساطت سے لالہ صدیق آف بسالی، راجہ اشتیاق حسین عرف راجہ دھڑلو اور ماسٹر محمد یونس سے بھی شناسائی بتدریج پُر خلوص دوستی میں تبدیل ہوئی۔ یہ حضرات سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی میں عرفان صاحب کے رُفقائے کار تھے۔ عرفان صاحب بعد میں اونچے عہدوں اور بلند مقام پر فائز ہوئے تو پھر بھی میرے ساتھ ملاقات ہوتی تو گاہے گاہے ان کا ذکر ہو جاتا۔ یہ احباب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ سچی بات ہے اِن احباب کو یاد کروں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ عرفان صاحب اور میں سی بی سر سید کالج راولپنڈی میں اکٹھے پڑھاتے رہے۔ بعد میں فیڈرل گورنمنٹ کے تحت سکول اور کالج الگ ہوئے تو عرفان صاحب کی تقرری کالج کے حصے میں ہوگئی۔اس دوران رُفقائے کار کے طور پر پورے سٹاف سے تعلقات تو تھے ہی تاہم کچھ احباب سے عرفان صاحب کا اور میرا خصوصی تعلق بھی قائم ہوا۔ ان میں پروفیسر عبدالرحمٰن صاحب ، پروفیسر اکرام صاحب، ملک محمد رشید صاحب لائبریرین اور پروفیسرمحمد اشرف چوہدری اور پروفیسر عارف شیخ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ پروفیسر عبدالرحمٰن جو بعد میں ایف جی سر سید کالج سے بطورِ وائس پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ انہیں ہم مولانا کہہ کر پکارتے تھے۔ انتہائی نیک اور پرہیز گار شخصیت کے مالک تھے۔ ایک زمانے میں عرفان صاحب ، میری اور عزیز گرامی فواد حسن فواد جو اِن دنوں سر سید کالج کی سٹوڈنٹس یونین کے اعلیٰ عہدیدار رہے تھے کے مولانا کے ساتھ بالٹی گوشت وغیرہ کھانے کے پروگرام جنہیں ہم نے "بُرج لِلّٰہ " کا نام دے رکھا تھا بن جایا کرتے تھے۔ پروفیسر اکرام صاحب جو بفضلِ تعالیٰ بقیدِ حیات ہیں انتہائی وضع دار شخصیت کے مالک سمجھے جا سکتے ہیں۔ پروفیسر مولانا عبدالرحمٰن مرحوم اور پروفیسر اکرام صاحب کا ہم پر ذاتی طور پر ایک احسان کہ اُن کی وساطت سے صرافہ بازار میں علی گڑھ جیولرز کے مالک چوہدری رمضان صاحب سے تعلق قائم ہوا ۔ چوہدری رمضان صاحب مرحوم انتہائی شفیق اور قدر دان شخصیت کے مالک تھے تو ان کے صاحبزادے عمران اور ان کے بھائی جو اپنے والدِ گرامی کا کاروبار سنبھالے ہوئے ہیں وہ بھی اپنے مرحوم والد کی طرح انتہائی قدر دان اور محبت کرنے والی شخصیات ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ چوہدری رمضان صاحب مرحوم و مغفور کے خانوادے سے تعلقات اب ہماری تیسری نسلوں تک بفضلِ تعالیٰ پہنچ چکے ہیں۔ 
برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کا تذکرہ ہو تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ریڈیو سے تعلق رکھنے والی خواتین و حضرات کا ذکر نہ ہو۔ عرفان صاحب جو پچھلی صدی کے اسّی کے عشرے میں ریڈیو سے ایک ڈرامہ نگار ، قلم کار ، فیچر رائٹر، گفتگو کا اور میز بان کی حیثیتوں سے منسلک رہے ، اُن کے ریڈیو پاکستان راولپنڈی ، اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے سٹیشن ڈائریکٹرز، پروگرام منیجرز اور پروڈیوسرز سے جہاں دوستانہ تعلقات قائم ہوئے وہاں ڈراموں اور دیگر پروگراموں میں حصہ لینے والی خواتین و حضرات ، فنکاروں ، صدا کاروں اور میزبانوں سے بھی اُن کے مربیانہ اور دوستانہ تعلقات استوار ہوئے۔ عرفان صاحب کی وساطت سے ان میں سے بعض کے ساتھ میری بھی اچھی سلام و دعا رہی اور کئی ایک کے ساتھ کسی حد تک قریبی تعلقات بھی قائم ہوئے۔ ان شا ءاللہ ان میں سے کچھ کا اگلے کسی کالم میں تفصیل سے ذکر ہو گا۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں