حلقہ ارباب ذوق اور ہم 

08:42 AM, 14 Apr, 2026

کیوں نہ ہو یارو منور حلقہ ارباب ذوق ایک دوجے کے مقابل آ گئے دو آفتاب، ممتاز شاعر اور صحافی شہباز انور خان نے یہ خوبصورت شعر گزشتہ اتوار کے روز حلقہ ارباب ذوق لاہور کے انتخابات سے متعلق کہا تھا۔ سیکرٹری کی نشست کے لیے جو دو امیدوار مد مقابل تھے ان دونوں کے نام آفتاب ہیں۔ ایک آفتاب جاوید اور دوسرے آفتاب خان۔ شہباز انور خان نے اپنے شعر میں اسی طرف اشارہ کیا لیکن پہلے مصرع میں لفظ منور استعمال کر کے آفتاب کے معنی کو دو چند کر دیا۔ یہی ہے ادب کی خوبصورتی اور بات کہنے کا وہ سلیقہ جو حلقہ ارباب ذوق شمع اپنے پروانوں کو سکھاتا ہے۔آپ پاکستان کے کسی بڑے لکھاری کا نام لیں چاہے وہ شاعر ہو یا ادیب، اس کا تعلق حلقہ ارباب ذوق سے نکل آئے گا۔ انہی مشاہیر کی صحبت سے فیض یاب ہونے کے لیے ایک زمانہ پاک ٹی ہاﺅس کا رخ کرتا ہے اور انہی کی خدمت کے لیے لوگ سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر دونوں عہدوں پر جیتنے والے اپنی مجلس عاملہ کے ساتھ مل کر سارا سال اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے حلقے کا انتظام و انصرام چلاتے اور اراکین کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔ یوں حلقے کا عہدے دار بننے والے کو کوئی مالی فائدہ نہیں ملتا، البتہ اطمینان کی جو دولت نصیب ہوتی ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ اطمینان اتنی بڑی دولت ہے کہ اس کے لیے مخالفین کی جانب سے طرح طرح کے الزامات بھی بخوشی سہہ لیے جاتے ہیں۔ البتہ ان الزامات کے نتیجے میں حلقے میں آنے والے نوجوانوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ ایسی ہی غلط فہمیوں کا اظہار الیکشن کے روز کچھ نوجوانوں نے سوالات کی صورت میں بھی کیا۔ ایک سوال تھا کہ آپ حلقے کا خرچ کیسے چلاتے ہیں، کیا حکومت سے کوئی امداد لیتے ہیں یا کوئی نجی ادارہ سپانسر کرتا ہے۔ جواب وہی تھا جو اوپر عرض کیا کہ حلقے کا خرچ سیکریٹری اپنی جیب سے کرتا ہے، جوائنٹ سیکریٹری اور مجلس عاملہ بھی اس کا کچھ نہ کچھ ہاتھ بٹا دیتی ہے اور وقتاً فوقتاً حلقے کا کوئی رکن بھی کسی ایک اجلاس کا خرچ اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ یوں مل جل کر مالی ذمہ داری بانٹی جاتی ہے، حکومت یا اس کے کسی ادارے سے کوئی امداد نہیں لی جاتی۔ایک اور سوال تھا کہ اپنی جیب سے خرچ کر کے آپ لوگوں کو 
کیا ملتا ہے۔ جواب تھا اطمینان اور احترام۔ اس جواب پر سوال کرنے والوں کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ انھیں شاید اطمینان اور احترام کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا حلقہ رجسٹرڈ ادارہ ہے اور اس کی رجسٹریشن کس کے نام پر ہے۔ جواب دیا کہ حلقے کی بنیاد پاکستان بننے سے بھی آٹھ سال قبل میرا جی اور ان کے ہم عصر ادیبوں نے رکھی تھی۔ اس وقت سے آج تک کسی نے بھی حلقے کی رجسٹریشن کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ رجسٹریشن ذاتی ملکیت کی ہوتی ہے عوامی ادارے کی نہیں۔ حلقہ کسی فردِ واحد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک عوامی ادارہ ہے، اس لیے کسی ایک شخص کے نام پر اس کی رجسٹریشن نہیں ہو سکتی، یہاں ہر سال انتخابات ہوتے ہیں اور نئی انتظامیہ اور مجلس عاملہ برسر اقتدار آتی ہے اور حلقہ ایک طرح سے ایک سال کے لیے عملی طور پر اسی کی ملکیت میں چلا جاتا ہے جبکہ اگلے سال انتخابات کے بعد یہ ملکیت یا اختیار نئی انتظامیہ کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر حلقہ کسی کے نام رجسٹر ہو گیا تو پھر یہ عوامی ادارہ نہیں رہے گا بلکہ اس شخص کی ذاتی ملکیت بن جائے گا یا دوسرے لفظوں میں حلقے پر اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ اگلا سوال تھا کہ اگر کوئی اور اپنے نام رجسٹریشن کرا لے تو اس صورت میں آپ کیا کریں گے۔ عرض کیا سو بار کرائے، حلقہ تو اسی کا ہے جس کے ساتھ اس کے ارکان ہیں۔ جب کوئی رجسٹریشن کرانے والے کے پاس ہی نہیں جائے گا تو اسے رجسٹریشن کرانے کا فائدہ؟ حلقہ گزشتہ 87سال میں رجسٹرڈ نہیں ہوا، اس کے باوجود اکابر شعرا اور ادیب اس کے ساتھ جڑے رہے ہیں اور آج بھی موجودہ دور کے سب مشاہیر اس کے رکن ہیں۔ حلقے پر قبضے کی ماضی میں بہت سے لوگوں نے کوششیں کیں لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ حلقہ اپنی پوری توانائی اور آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ خیر، آج کا اصل موضوع تو حلقے میں ہونے والے سیکریٹری کے انتخابات تھے جس کے لیے دو آفتاب مدمقابل تھے۔ کامیابی آفتاب جاوید کے نام رہی اور آفتاب خان کھلے دل سے شکست کو تسلیم کر کے حلقے کی جمہوری روایات کی پاسداری اور فروغ پر داد و تحسین کے مستحق ٹھہرے۔الیکشن کمشنر واجد امیر نے سیکرٹری شاذیہ مفتی اور سابق سیکریٹری میاں شہزاد کے ہمراہ شام ساڑھے سات بجے کے قریب پاک ٹی ہاﺅس کی بالکونی سے روایتی انداز میں نتائج کا اعلان کیا جنھیں سننے کے لیے سڑک اور فٹ پاتھ پر اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ بالکل ویسا منظر ہوتا ہے جیسے پرانے زمانوں میں بادشاہ محل سے اپنا دیدار کراتے تھے اور محل کے باہر عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس دیدار کے لیے موجود ہوتی تھی۔ یہ بھی حلقے کی ایک خوبصورت روایت ہے جو عرصہ دراز سے چلی آ رہی ہے۔ اس پر بھی ایک نوجوان نے سوال کیا کہ حلقے کو پاک ٹی ہاﺅس سے کسی دوسری جگہ کیوں منتقل نہیں کیا جاتا کیونکہ یہاں تو لوگوں کی گنجائش بہت کم ہو گئی ہے۔ عرض کیا کہ پاک ٹی ہاﺅس ایک تاریخی جگہ ہے جس کا نام حلقے کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے ہیں، اس کے باہر کھڑے ہو کر تصاویر بناتے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب کو بہت فخر کے ساتھ دکھاتے ہیں۔ یہ پہلے کسی کی نجی ملکیت تھا اور اس نے حلقے کو یہاں سے بے دخل کر دیا تھا جس کے بعد حلقہ مختلف جگہوں پر اپنے اجلاس کراتا رہا تاہم پاک ٹی ہاﺅس کے حصول کی جدوجہد جاری رکھی۔ حکومت نے اس جدوجہد کے نتیجے میں اسے نجی ملکیت سے خرید کر سرکاری تحویل میں لیا اور حلقے کی سرگرمیوں کو دوبارہ یہاں بحال کیا۔ اب اتنی جدوجہد سے حاصل کی ہوئی جگہ کو ہم کیسے چھوڑ دیں۔خیر الیکشن کمشنر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کل187ارکان نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا۔ آفتاب جاوید153ووٹ حاصل کر کے آئندہ سیکرٹری کے لیے کامیاب قرار پائے جبکہ آفتاب خان34ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی کے ساتھ ہی آفتاب جاوید کی کامیابی کا خوب جشن منایا گیا، جیتنے، ہارنے اور جوائنٹ سیکریٹری کی نشست پر بلامقابلہ منتخب ہونے والے تینوں امیدواروں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور مٹھائیاں بھی تقسیم ہوئیں۔آفتاب جاوید مسیحی برادری سے حلقے کے دوسرے سیکریٹری منتخب ہوئے ہیں۔ ان سے پہلے کم و بیش بیس سال قبل شیراز راج بھی اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ یہ بھی حلقے کی ایک خوبصورتی ہے کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور انسان دوستی جیسی اعلیٰ اقدار کا علم بردار ہے۔سیکرٹری آفتاب جاوید اور جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش جلد اپنی مجلس عاملہ تشکیل دیں گے اور26اپریل کو حلقے کے سالانہ جلسے میں انھیں آئندہ ایک سال کے لیے باقاعدہ طور پر اختیارات منتقل کر دیئے جائیں گے۔ سبکدوش ہونے والی انتظامیہ اور جملہ اراکین کی دعائیں اور نیک تمنائیں نومنتخب انتظامیہ اور مجلس عاملہ کے ساتھ ہوں گی۔

مزیدخبریں