سفارتی محاذ پر بڑی ہلچل: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب اور ترکیہ کے ہنگامی دوروں کا فیصلہ

05:06 PM, 13 Apr, 2026

اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری تزویراتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب اور ترکیہ کے اہم دوروں کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر پہلے ریاض پہنچیں گے، جس کے فوراً بعد وہ ترکیہ روانہ ہوں گے۔ ان ملاقاتوں کا ایجنڈا درج ذیل نکات پر مشتمل ہوگا۔ خطے میں جاری عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مشترکہ فارمولے پر بحث۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت پر برادر اسلامی ممالک کو اعتماد میں لینا اور اگلے اقدامات طے کرنا۔ مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑی جنگ سے بچانے کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ بلاک بنانے کی تجویز۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا سعودی عرب اور ترکیہ کا بیک وقت دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے کے بڑے کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے 'مرکزی سہولت کار' بن چکا ہے۔ سعودی ولی عہد کی جانب سے دعوت اس بات کی توثیق ہے کہ ریاض مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں اسلام آباد کے کردار کو کلیدی اہمیت دے رہا ہے۔
اس دورے کے نتائج نہ صرف پاکستان کے معاشی اور دفاعی مفادات کے لیے اہم ہوں گے بلکہ اس سے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی کے تحفظ کے حوالے سے بھی کسی بڑی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے انقرہ اور ریاض کو ایک ہی مشن پر متحد کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی جیت تصور کی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں