کیمبرج / واشنگٹن:امریکہ کی مشہورِ زمانہ ہارورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی "پاکستان کانفرنس 2026" نے عالمی منظرنامے پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے مثبت تشخص پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ کانفرنس میں شریک عالمی سیاست کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب ثالثی کروانے پر پاکستان کے تزویراتی کردار کی بھرپور ستائش کی۔
پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منعقدہ اس وسیع تر تقریب میں درج ذیل اہم سرگرمیاں رہیں۔کانفرنس میں 50 سے زائد عالمی مقررین نے خطاب کیا، جبکہ دنیا بھر سے 700 سے زائد ماہرین اور نامور پاکستانی شخصیات نے شرکت کی۔17 مختلف سیشنز میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور جغرافیائی اہمیت پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔امریکی سینیٹر کرس وین ہولن اور معروف تجزیہ کار مائیکل کوگیل مین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کی غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے ایک ناگزیر ریاست ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ جہاں پاکستان امن کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے، وہیں بھارت کا غیر لچکدار رویہ علاقائی استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اب دنیا کو پاکستان کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک معاشی اور سفارتی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہارورڈ میں ہونے والی اس بحث نے پاکستان کے خلاف ہونے والے منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہارورڈ میں 'پاکستان کانفرنس 2026' کی گونج: عالمی ماہرین نے اسلام آباد کو امن کا مرکز قرار دے دیا
700 سے زائد شرکاء اور 50 عالمی مقررین کا پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو خراجِ تحسین، بھارت کا رویہ تنقید کی زد میں
02:45 PM, 13 Apr, 2026