تہران :ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے پر اپنا پہلا باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی کی بالادستی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں امریکی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہااگر امریکی حکومت خود کو دنیا کا آقا سمجھنا چھوڑ دے، تو معاہدے کی بند راہیں کھل سکتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر ایرانی قوم کے حقوق کا احترام سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق تسلیم کیے جانے کی صورت میں ہی مذاکرات کے مثبت نتائج ممکن ہیں۔
صدر نے اسلام آباد مذاکرات میں شریک وفد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہامیں اپنی مذاکراتی ٹیم اور خصوصاً ڈاکٹر باقر قالیباف کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے انتہائی ثابت قدمی سے ایرانی موقف کا دفاع کیا۔ اللہ ہماری ٹیم کو مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر لفظی جنگ عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان نے اپنے بیان کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران معاشی ناکہ بندی اور "مفلوج" کرنے کی دھمکیوں کے باوجود اپنی خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرے گا۔
ایران کے حقوق تسلیم کیے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے، باقر قالیباف اور مذاکراتی ٹیم کو خراجِ تحسین:ایرانی صدر مسعود پزشکیان
11:35 AM, 13 Apr, 2026