امن کا سفیر: پاکستان کی سفارتی بصیرت اور تاریخ نو کا آغاز

09:08 AM, 13 Apr, 2026

خطہ مشرقِ وسطیٰ صدیوں سے طاقت کے ارتکاز، مفادات کے تصادم اور سیاسی کشمکش کا محور رہا ہے۔ یہاں کی فضا میں جب بھی کشیدگی کی شدت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف علاقائی حدود تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی امن کی بنیادیں بھی لرز اٹھتی ہیں۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحات میں اگر کوئی ریاست اپنی دانشمندانہ حکمتِ عملی، متوازن سفارت کاری اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو ٹالنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ محض ایک وقتی کامیابی نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے درج ہونے والا کارنامہ بن جاتا ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار اسی نوعیت کی ایک غیر معمولی اور قابلِ فخر مثال ہے جس نے نہ صرف ایک بڑے تصادم کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ پاکستان کو عالمی منظرنامے پر ایک باوقار، مو¿ثر اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی منوا دیا۔
پاکستان نے جس بردباری، تدبر اور غیر جانبدارانہ حکمت کے ساتھ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا ہے وہ سفارتی مہارت کی ایک درخشاں مثال ہے۔ یہ کردار اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے ممکنہ تصادم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کی بلکہ ایک ایسا مضبوط سفارتی پل تعمیر کیا جس کے ذریعے مذاکرات کی راہیں ہموار ہوئیں اور تصادم کے بادل چھٹنے لگے۔ اس تاریخی پیش رفت کے پسِ منظر میں جس شخصیت کا کردار نمایاں اور فیصلہ کن نظر آتا ہے وہ ہیں چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیرجن کی قیادت میں پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی کو سفارتی بصیرت کے ساتھ اس مہارت سے ہم آہنگ کیا کہ ایک نئی مثال قائم ہو گئی۔ آپریشن بنیان مرصوص سے لے کر ایران امریکہ جنگ بندی تک، ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ عصرِ حاضر میں معرکے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر بھی سر کیے جاتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے ان کی بصیرت، حکمت اور جراتِ فیصلہ کا اعتراف دراصل پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار اور اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اسی طرح میاں شہباز شریف کی سیاسی بالغ نظری اور سفارتی کاوشیں بھی اس کامیابی کا ایک مضبوط ستون ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے نہایت سنجیدگی اور فہم و فراست کے ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کا مو¿قف پیش کیا اور مختلف ممالک کے ساتھ مو¿ثر رابطوں کے ذریعے ایک ایسی فضا پیدا کی جس میں مذاکرات کا امکان روشن ہوا۔ ان کی قیادت نے یہ امر ثابت کیا کہ جب سیاسی اور عسکری قیادت ہم آہنگی کے ساتھ قومی مفاد کو مقدم رکھے تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، اسلام آباد کو اپریل میں ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے منتخب کیا جانا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ یہ اعزاز اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کو ایک غیر جانبدار، ذمہ دار اور امن دوست ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ پاکستان ہے جو کچھ عرصہ قبل دہشت گردی، داخلی خلفشار اور بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما تھا، مگر آج وہی ملک عالمی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ایک نئی شناخت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کامیابی صرف قیادت یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور تقویتِ حوصلہ ہے۔ چین، روس، مغربی دنیا، سعودی عرب اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کی سفارتی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے جبکہ خود ایران اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف ایک غیر معمولی سفارتی فتح کے مترادف ہے۔
اس ضمن میں یہ امر بھی لائق ذکر ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اساس ہمیشہ امن و استحکام اور مذاکرات پر رہی ہے۔ چاہے معاملہ علاقائی تنازعات کا ہو یا عالمی کشیدگی کا، پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ حالیہ پیش رفت نے اس اصولی مو¿قف کو مزید تقویت بخشی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا نگہبان ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی ایک سنجیدہ اور فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد میں متوقع ایران امریکہ مذاکرات محض دو ممالک کے تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو ان کے مثبت اثرات توانائی، تجارت، معیشت اور علاقائی سلامتی کے شعبوں تک پھیلیں گے جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہو گا۔
المختصر! پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی اہمیت صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی اس کا کردار نہایت کلیدی اور مو¿ثر ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بنے گی۔ یہ کامیابی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستان نہ صرف مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ دنیا کو امن، استحکام اور مکالمے کی راہ بھی دکھا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک نئی صبح ہے، امن، اعتماد اور بصیرت کی صبح جس کا درخشاں سورج اسلام آباد کی سرزمین سے طلوع ہو کر پوری دنیا کو روشنی عطا کر رہا ہے۔

مزیدخبریں