گرمی کی بے رحم شامیں اور زمین کا نوحہ

09:31 AM, 13 Apr, 2025

رواں سال اپریل شروع ہوتے ہی لگا کہ ہم جیسے جون کے مہینہ میں سانس لے رہے ہیں۔ سورج کسی وحشی خنجر کی مانند آسمان پر چمک رہا ہے، گویا زمین سے پرانی دشمنی نکال رہا ہو۔ ہوائیں بھی جیسے سانس روک کر بیٹھی ہوں، اور ہر ذی روح پسینے سے شرابور، کرب سے لبریز اور بے بسی کا شکار لگ رہا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت چالیس کو چھو رہا ہے۔ مئی 2024 میں جیکب آباد اور نواب شاہ میں درجہ حرارت 52 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا، جو دنیا کے گرم ترین شہروں میں سے ایک قرار پایا۔روزانہ ہزاروں لوگ ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر گرمی زدہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جن کا کوئی باضابطہ ریکارڈ تک موجود نہیں ہے۔لیکن المیہ صرف گرمی کا نہیں، اس بے حسی کا بھی ہے جو ایک پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ہمارے ہاں گرمی اب صرف موسم کا نام نہیں رہی، یہ ایک اذیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ وہ مزدور جو تپتے دن میں اینٹیں ڈھوتا ہے، وہ ریڑھی بان جو پسینے میں شرابور ہو کر تربوز بیچتا ہے، وہ عورت جو لوڈ شیڈنگ میں بچوں کو پنکھے سے جھل رہی ہے، سب ہی اس گرمی کے ہاتھوں ہار چکے ہیں جبکہ حکمران ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے اپنی گردنوں پر پسینے کا ایک قطرہ بھی محسوس کیے بغیر، صرف بیانات دے رہے ہیں۔ "صبر کریں"، "ماحولیاتی تبدیلی ہے"، "حالات پر قابو پا لیں گے" یہ الفاظ حقیقت میں یہ صرف زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔
گرمی کے اس موسم میں صرف جسم نہیں جلتے، خواب بھی جھلس جاتے ہیں۔ مٹی سے اٹھنے والا غبار آنکھوں میں صرف درد نہیں لاتا، بلکہ ان گنت خواہشوں کو بھی دھندلا دیتا ہے۔ سکول جانے والے کئی بچے ننگے پاؤں، پھٹے یونیفارم میں، سورج کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ وہ بوڑھی ماں جو پنکھے کے نیچے لیٹی اپنی عمر کے آخری دن گن رہی ہوتی ہے اچانک بجلی چلی جاتی ہے اور ساتھ ہی اْس کے صبر کا دامن بھی چھوٹنے لگتا ہے۔کیا یہ محض موسم ہے؟ نہیں، یہ ایک خاموش چیخ ہے۔ یہ ایک اجتماعی نوحہ ہے اْن لوگوں کا جو روز مرہ کی زندگی میں بیبسی اور اذیت کو اوڑھ کر جیتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت، ناقص انفراسٹرکچر اور سب سے بڑھ کر، حکومت کی عدم توجہی…یہ سب اس گرمی کو ناقابل برداشت بنا دیتے ہیں۔ لاہور ،کراچی سے لے کر ملتان تک، لاڑکانہ سے فیصل آباد تک، ہر شخص گرمی سے سہمے ہوئے کسی معجزے کا منتظر ہے۔ادھر میڈیا پر شام کے وقت اے سی سے ٹھنڈے سٹوڈیوز میں بیٹھے اینکر حضرات مزے لے کر ‘‘ہیٹ ویو’’ کی خبریں پڑھتے ہیں گرافکس دکھاتے ہیں مگر اْن مزدوروں کا ذکر نہیں ہوتا جو گرمی میں دم توڑ چکے، نہ اْن بچوں کا جنہیں ہیٹ سٹروک نے سکول سے ہسپتال پہنچا دیا۔گرمی کی شدت کو برداشت کرنا صرف فزیکل چیلنج نہیں، بلکہ نفسیاتی جنگ بھی ہے۔ ذہن پر سناٹا طاری ہونے لگتا ہے، خیالات سست ہو جاتے ہیں اور اندر ایک عجیب سی بے چینی، ایک گھٹن جنم لیتی ہے۔ راتیں جنہیں راحت کا وقت سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اب قید خانوں جیسی ہو چکی ہیں۔ بند کمروں میں سسکتے جسم، بند آنکھوں میں کھلتی امیدیں اور بند دروازوں کے پیچھے دم توڑتے ارمان…یہ سب گرمی کی راتوں کی خاموش داستانیں ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے، کیا ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں؟ کیا گرمی کی شدت، حکومتی رویے اور ہماری خاموشی اب ایک معمول بن چکی ہے؟ کیا ہم نے یہ مان لیا ہے کہ اس دھوپ کے تھپیڑے ہمارے مقدر میں لکھے جا چکے ہیں؟ مہنگائی ، مہنگی بجلی اور پھر بھی لوڈ شیڈنگ کا عذاب۔ یقیناً قدرتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کا سامنا کرنے کے لیے کیا تیاری کی؟ ہمارے شہر درختوں سے خالی، سڑکیں سیمنٹ سے اٹی ہوئی اور شہری پلاننگ کا حال یہ ہے کہ کہیں سایہ ہے نہ پانی۔ شجرکاری صرف تصویری مہمات تک محدود اور ماحولیاتی منصوبے صرف کاغذوں میں محفوظ۔یاد رکھیے موسم صرف قدرتی مظہر نہیں ہوتے، وہ انسان کی روح سے بھی جْڑے ہوتے ہیں۔ گرمی کی یہ لہر ہمیں جھنجھوڑنے آئی ہے۔ یہ ہمیں بتانے آئی ہے کہ ہم نے اپنی زمین کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور کس طرح ہم نے اپنے ہی لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ یہ موسم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم صرف شکایت نہ کریں بلکہ سوچیں، جاگیں اور کچھ بدلنے کی کوشش کریں۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمارا سالانہ ماحولیاتی بجٹ جی ڈی پی کا صرف 0.02% ہے، جب کہ بھارت 0.5% اور بنگلہ دیش 0.4% خرچ کر رہے ہیں۔
 لاہور، جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا، وہاں اب فی ہزار افراد کے لیے صرف 0.4 درخت موجود ہیں۔جب کہ عالمی ادارئہ صحت کے مطابق کم از کم 9 درخت ہونے چاہئیں۔ لاہور میں اگر درخت لگائے بھی گئے ہیں تو وہ فینسی درخت ہیں ماحول دوست درخت نہیں لگائے جا رہے۔ وجہ سمجھنے سے قاصر ہوں اس سارے منظرنامے میں ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں؟ کیا گرمی کی شدت، حکومت کی ناکامی اور ہماری خاموشی اب ایک معمول بن چکی ہے؟ کیا ہم نے یہ مان لیا ہے کہ اس دھوپ کے تھپیڑے ہمارے مقدر میں لکھے جا چکے ہیں؟یہ کالم لکھتے ہوئے میرا قلم بھی جیسے تھک چکا ہے، کاغذ پر الفاظ بہتے نہیں، تڑپتے ہیں۔ میں ان لاکھوں پاکستانیوں کا نوحہ لکھ رہی ہوں جو اس گرمی میں خاموشی سے جل رہے ہیں، جو جینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہر روز تھوڑا تھوڑا مر رہے ہیں۔اگر ہم نے آج بھی نہ سوچا، نہ جاگے، تو کل کی گرمی صرف موسم نہیں، موت کا پیغام بن کر آئے گی کیونکہ درجہ حرارت کا بڑھنا صرف ایک موسمیاتی مسئلہ نہیں، یہ ایک تہذیبی بحران ہے۔ یہ زمین کے ہر کونے، ہر فرد اور آنے والی نسلوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ اگر زمین کا درجہ حرارت حد سے بڑھا، تو انسان کی بقا خود خطرے میں پڑ جائے گی۔ یاد رکھئے کہ ہم زمین کو ورثے میں نہیں، امانت کے طور پر نسلِ نو کے لیے چھوڑتے ہیں۔

مزیدخبریں