اسرائیلی بربریت:آئیں شرم سے ڈوب مریں

09:30 AM, 13 Apr, 2025

یہودکے لے پالک بچے نے اپنے کالے کرتوت ،شیطانی کام اور اقدام سے دنیا کو لرزا دیا ہے۔ بارودکے کالے دھویں میں آسمان کی طرف اٹھنے والے معصوم وبے گناہ شہیدوں کے ٹکڑے، فلسطین کی گلی محلوں اورکوچے کوچے میں مظلوم، بے بس اورمجبورماؤں،بہنوں،بیٹیوں اور پھول جیسے چھوٹے چھوٹے بچوں کی آہ وبکااورچیخ وپکار، سرزمین انبیاء پردہشت،خوف اورظلم کے اس قدر گہرے سائے۔۔واللہ ایسے مناظردنیانے پہلے کم بہت کم ہی دیکھے ہوں گے۔ بارود کے کالے دھویںمیں آسمان کی طرف اٹھنے والی شہیدوں کی روحیں اورہوامیں اڑتے پھول جیسے بچوں کے جسم کے ٹکڑے۔۔ کیسا غمناک اوردردناک منظر ہے۔۔ یہود کا اسرائیلی نام کا ایک ناجائزبچہ اہل یہودکے مکمل سپورٹ اورتعاون سے ایک طویل عرصے سے ارض مقدس میں مظلوم اورنہتے فلسطینیوں کو مولی گاجرکی طرح کاٹ رہاہے مگر افسوس اس ظلم اور ستم کاامت مسلمہ پرکوئی اثرنہیں ہورہا۔امت مسلمہ کے حکمران ہیں یا عوام یہ سب ایک جیسے ہیں۔فلسطین جا کر مظلوم ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کے آگے ڈھال بننا تو بہت دور۔یہ یہاں ان کے لئے آوازتک نہیں اٹھاسکتے۔ماناکہ تلوار اور بندوق اٹھاکرفلسطین جاناہمارے بس میں نہیں لیکن یہاں ہمارے بس اوروس میں جوہے کیاوہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔؟ فلسطین دورسہی پرفلسطین میں آگ اورخون کاباعث بننے والے ذرائع توہم سے دورنہیں۔کیااس ملک اور اسلامی دنیامیں ہر گلی اورمحلے کے اندر دھڑا دھڑ بکنے والی یہودی اوراسرائیلی مصنوعات فلسطین میں مسلمانوں کے بہنے والے خون کااہم ذریعہ نہیں۔؟ جب چیخ چیخ کر کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی ویہودی مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدن کابڑاحصہ مسلمانوں بالخصوص مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر صرف ہورہاہے تو پھرہم ان مصنوعات کے خریدنے سے ہاتھ پیچھے کیوں نہیں کھینچ رہے۔یہ یقین ہونے کے بعدبھی کہ یہودی واسرائیلی مصنوعات کے بدلے میںہمارے دیئے گئے پیسوں کااکثرحصہ اسرائیل پہنچ رہاہے پھربھی ہم ان مصنوعات کے خریدنے اوراستعمال کرنے سے بازنہیں آ رہے۔ چند دن پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی تومظلوم فلسطینیوں کے بارے میں اپنی بے حسی اوررویے 
پربہت افسوس ہوا۔اعزازاحمدسرحدی یہ ہمارے ایک اچھے دوست اورایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آبادمیں آئی ٹی کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ان سے وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہتی ہے۔اس دن ان کے ہاتھ میں پیپسی کی بوتل دیکھ کرفوراًبارودکے کالے بادلوں میں فلسطینی شہداء کے اڑتے جسم اور اعضاء کا وہ دردناک منظریادآنے لگا۔ اسی عالم میں ان سے پوچھا۔  جناب کیوں مظلوم فلسطینیوں کاخون  پی رہے ہیں۔وہ انجان بنتے ہوئے کہنے لگے۔ جوزوی صاحب میں سمجھا نہیں۔ہم نے کہا فلسطینیوں کاخون پینے اورگوشت نوچنے والے واقعی نہیں سمجھتے۔ن یتن یاہواوران کے سہولت کاروں اورپیروکاروں کی کھوپڑی میں سمجھ بوجھ کاہلکاسابھی کوئی مادہ یاذرہ ہوتاتوکیاوہ ظلم،بربریت اوردرندگی میں اس قدرغرق ہوتے۔مظلوم فلسطینیوں پرسالہا سال سے شب خون مارنے والے نیتن یاہواوران کے سہولت کاروں کافرغون،ہلاکوخان اورچنگیزخان جیساانجام تو ان شاء اللہ اٹل، واضح، کنفرم اور سامنے ہے لیکن اس گناہ،جرم اورظلم پرکبوترکی طرح آنکھیں بندکرنے اور گونگے بن کرزبان سینے کی وجہ سے ہمارے ساتھ کیا ہو گا ہم سب کواس بارے میں ایک بار ضرور سوچنا چاہئے۔ ظالم کے ظلم اور قاتل کے قتل وغارت پر خاموشی کی چادر اوڑھنا یہ بھی ایک طرح کا ظلم اورقتل وغارت میں برابرکا شریک ہونا ہے۔ اعزازسرحدی کی طرح ہمارے بہت سارے دوست، بھائی، قاری اور لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسرائیلی اوریہودی مصنوعات کابائیکاٹ کہیں گپ ہے اوران مصنوعات کے بائیکاٹ سے کچھ نہیں ہونا لیکن یہ نادان یہ بھول رہے ہیں کہ انہی مصنوعات کے سرپرکچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہو رہا ہے۔ کہنے والے تویہاں تک کہتے ہیں کہ اسرائیلی اوریہودی مصنوعات سے حاصل ہونے والی ایک ایک پائی مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ اسرائیل فلسطین میں پچاس ہزارسے زائدمسلمانوں کا خون بہاچکاہے۔ظلم اور بربریت کاجوکھیل ارض مقدس پر کھیلا جا رہا ہے ایسا ظلم اور ستم شائد کہ کہیں ہوا ہو۔ ایک یہودی اورگورے کی ہلاکت پر آسمان سر پر اٹھانے والے امن کے نام نہادعلمبردارامریکہ سمیت پوری یہودی لابی اس وقت اسرائیل کی پشت پرکھڑی ہے۔ ایک مرغی کے ذبح ہونے پرامن کے علمبرداربننے والے باطل کے آلہ کاروپیروکارپچاس ہزارفلسطینیوں کی شہادت پرآج اس طرح خاموش ہیں کہ جیسے یہ اندھے،گونگے اوربہرے ہوں خدا کرے کہ نیتن یاہوسمیت یہ سارے ظالم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اندھے،گونگے اوربہرے ہوجائیں۔ان ظالموں سے نہ پہلے خیرکی کوئی توقع تھی اورنہ اب ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے یہ سب پہلے بھی ایک تھے اوریہ اب بھی ایک ہیں۔جتناظلم فلسطین میں ہواہے یاہورہاہے اتناظلم اگرکسی کافرملک میں ہوتاتویہ ظالم ظلم کرنے والے ملک کانام ونشان تک مٹادیتے لیکن یہ ظلم ایک اسلامی ملک اورمسلمانوں پر ہو رہاہے اس لئے انہیں یہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ مسلمانوں کے دشمنوں سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے ہمیں اپنے طورپرایسے مظالم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہئے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہرمسلمان کے ہاتھ نیتن یاہوجیسے ظالم کے گریبان تک پہنچیں،ہمارے افعال اورکردارسے بھی ایسوں کو تکلیف پہنچنی چاہئے۔ یہودی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی اپنی جگہ ایک قسم کاجہادہے۔ہمیں اپنے طورپرہروہ کام کرنا چاہئے جس سے یہود اور اسلام کے دشمن کسی نہ کسی طرح کمزور ہوں۔ امام احمد بن حنبل ؒ کے بارے میںکہیں پڑھاتھاکہ امام احمد بن حنبلؒ جب جیل میں تھے تو جب بھی جمعہ کی اذان سنتے تو وضو فرماتے اور جیل کے دروازے تک جاتے۔ جیل کا چوکیدار انہیں روکتا اور واپس بھیج دیتا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ جیل کا چوکیدار آپ کو نماز جمعہ کے لئے جانے نہیں دے گا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے اختیار میں اتنا ہی ہے کہ میں دروازے تک چلا جاؤں اور جو میرے اختیار میں ہے میں اس کا مکلف ہوں۔ لہٰذا میں ہر جمعہ کو ایسا کرتا رہوں گا۔ہم بھی اس کے مکلف ہیں جوہمارے ہاتھ میں ہے۔ہم فلسطین تونہیں جاسکتے لیکن یہاں پریہودی اوراسرائیلی مصنوعات کابائیکاٹ کرکے اوران کے مظالم پرصدائے احتجاج بلندکرکے ہم اپناحق اداکرسکتے ہیں۔یہودیوں کے ہاتھوں آگ وبارودمیںروزانہ جلنے،مرنے اورتڑپنے والے اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے لئے اگرہم یہ بھی نہیں کرسکتے توپھرہمیں چلوبھرپانی میں ڈوب کر مرنا چاہئے۔

مزیدخبریں