فلسطین، جہاد اور ہماری ذمہ داریاں!

09:29 AM, 13 Apr, 2025

اسلام آباد میں حالیہ قومی فلسطین کانفرنس نے ایک بار پھر امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیاہے۔ اس کانفرنس میں ممتاز علما اور سکالرز نے بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا کہ فلسطین کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ''جہاد'' ہم سب پر فرض ہوچکا ہے۔ علما کے بقول، 55 ہزار سے زائد کلمہ گو افراد کو بیدردی سے شہید کیا جاچکا ہے، اور ایسے عالم میں امت مسلمہ کا سکوت مجرمانہ خاموشی کے مترادف نہیں؟۔
کانفرنس کے بعد ملک بھر میں اس موضوع پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا، ٹی وی پروگرامز اور دینی حلقوں میں فلسطین کے مسئلے پر بات ہو رہی ہے۔ دو بڑے بیانیے سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے، جو مذہبی جوش و جذبے سے سرشار ہو کر فلسطین کی طرف جانے کو جہاد کا عملی تقاضا قرار دے رہا ہے۔ ان کے نزدیک اب کسی بھی تاخیر کو گناہ کبیرہ کے زمرے میں رکھنا چاہیے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو خود کو ’لبرل‘ یا ’عقلیت پسند‘ کہلاتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فلسطین ایک ’علاقائی مسئلہ‘ ہے، اور پاکستان کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیں اپنے ملکی مسائل پہلے حل کرنے چاہئیں۔ 
میری رائے میں یہ دونوں پوزیشنز انتہاپسندانہ ہیں۔ نہ تو یہ وقت صرف نعرے بازی اور جذباتیت کا ہے، اور نہ ہی آنکھیں بند کرکے اپنے فرض سے منہ موڑنے کا۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، اور انسانیت کے ضمیر کا امتحان بھی۔ کسی بھی مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے اسے باریکی اور تدبر سے سمجھنا چاہیے۔فلسطین کا مسئلہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی، مذہبی، اور سیاسی جدوجہد کی کہانی ہے۔ 1948ء میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر قبضے کے بعد سے لے کر آج تک فلسطینیوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے گئے ہیں، وہ کسی بھی آزاد قوم کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے گھروں پر قبضے، معصوم لوگوں کی شہادت، مسجدوں کی بیحرمتی، اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ایک مسلسل عمل بن چکا ہے۔ آج جب غزہ پر ہزاروں بم برسائے جارہے ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، مائیں اپنے لختِ جگر کی لاشیں اٹھا رہی ہیں، تب اگر امت مسلمہ محض قراردادوں، بیانات اور سوشل میڈیا ہیش ٹیگز تک محدود رہ جائے تو یہ بے حسی کی انتہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کرنا کیا ہے؟ کیا ہر شخص کو بندوق اٹھا کر جنگ کے میدان میں اتر جانا چاہیے؟ کیا یہ حکمت ہے؟ یا پھر ہمیں ایک منظم، مضبوط اور طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟۔ جہاد کا مطلب صرف ہتھیار اٹھانا نہیں۔ جہاد کا ایک مطلب ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا بھی ہے، ایک ظلم کا شکار قوم کی حمایت کرنا بھی ہے، اور ظلم کے خلاف دنیا کے سامنے سچ بولنا بھی ہے۔ جہاد صرف عسکری نہیں، فکری، نظریاتی، سفارتی، اور اقتصادی بھی ہوتا ہے۔
اسلامی فقہ کے مطابق، عسکری جہاد ان حکمرانوں، ریاستوں اور افواج پر فرض ہوتا ہے جن کے پاس وسائل ہوں، منظم قوت ہو، اور وہ بین الاقوامی نتائج کا سامنا کر سکیں۔ عوام کا انفرادی طور پر لڑنے کے لیے فلسطین جانا درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جہاد کی منصوبہ بندی ریاستی سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن اگر ریاست کمزور ہو اور حکمران ہی سوئے ہوئے ہوں تو کیا کیا جائے؟ دیگر کیا آپشنز ہیں، اس حوالے سے بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ 
سفارتی اور سیاسی جہاد وہ جہت ہے جس پر امت مسلمہ کو سب سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی دنیا کے 50 سے زائد ممالک ہیں۔ اگر یہ ممالک اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر عالمی فورمز پر ایک آواز ہو کر اسرائیل کے ظلم کے خلاف بات کریں، سفارتی تعلقات معطل کریں، اور عالمی دباؤ بڑھائیں تو دنیا کو جھکایا جا سکتا ہے۔ترکیہ، ملائیشیا اور قطر جیسے ممالک نے کچھ حد تک ایسا کیا ہے، لیکن پوری مسلم دنیا کی مشترکہ آواز کی اب بھی اشد ضرورت ہے۔ اگر یورپی یونین، یوکرین کے مسئلے پر متحد ہو سکتی ہے، تو امت مسلمہ کیوں نہیں؟۔  اسرائیل کے خلاف حکمت عملی کاایک اور طریقہ اقتصادی جہاد ہے۔ یہ بھی ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ہمیں بطور فرد اور بطور قوم سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ان برانڈز کو خرید کر اپنی ہی مظلوم امت کے قاتلوں کی مدد کر رہے ہیں؟ اسرائیلی معیشت بڑی حد تک عالمی مارکیٹ، خاص طور پر امریکہ اور یورپ کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر مسلم دنیا متحد ہو کر بائیکاٹ کرے تو یہ ایک بڑی ضرب ہوگی۔ یہ کسی حد تک ہو بھی رہا ہے۔لیکن اس میں یہ پہلو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے کرتے پرتشدد شکل اختیار کرجائیں جیسے پاکستان میں گزشتہ دنوں پرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔
 اقتصادی جہاد کے بعد فکری اور ابلاغی جہاد بھی بہت ضروری ہے۔ میڈیا آج کی دنیا کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسرائیل نے میڈیا کو بڑی چالاکی سے استعمال کیا ہے۔ اس نے ظلم کو ''دفاع'' بنا کر پیش کیا ہے، اور مظلوم کو ''دہشتگرد'' کا لیبل دیا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، ٹی وی، سوشل میڈیا، اور عالمی میڈیا میں مؤثر بیانیہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر دنیا اسرائیلی بیانیہ سن رہی ہے، تو ہماری خاموشی بھی اس جرم میں شریک ہے۔ آخر میں، مسئلہ فلسطین میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ دیکھیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، ایک نظریاتی ریاست ہے، اور مظلوموں کی حمایت اس کی بنیاد کا حصہ ہے۔ لیکن اس وقت ہم جن داخلی مسائل کا شکار ہیں۔ ہمیں جذبات سے زیادہ ہوش سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں اپنی معاشی، سفارتی اور عسکری پوزیشن کو سمجھ کر ایک ایسی پالیسی بنانا ہوگی جو مؤثر بھی ہو اور دیرپا بھی۔ حکومت کو چاہیے کہ فلسطین پر واضح اور جرأت مندانہ موقف اپنائے، او آئی سی کو متحرک کرے، عالمی برادری کو جھنجھوڑے، اور ساتھ ہی عوام کو بھی ایک مؤثر بیانیہ دے جو نہ صرف جوش سے بلکہ ہوش سے بھی بھرپور ہو۔ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطین کا نہیں، پوری امت مسلمہ کا ہے۔ اس وقت ہمیں جذبات سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا مؤقف، ایسی پالیسی، اور ایسا لائحہ عمل اپنانا ہوگا جو عالمی سطح پر مؤثر ہو۔ اگر ہم نے درست حکمت عملی نہ اپنائی تو تقریریں، تحریریں اور بے مقصد لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ فلسطینیوں کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کی مثال ہی دیکھ لیجیے۔ آزادی کا نعرہ تو ہم لگاتے رہے لیکن ابھی تک آزاد نہیں کرا سکے۔

مزیدخبریں