غزہ جنگ نے امریکہ کو کنگال کر دیا! پہلے امریکی جنگ جوئی نے افغانستان پر 20 سال کھرب ہا ڈالر جھونک دیئے۔ لاحاصل، نامراد اپنا جھنڈا لپیٹ کر، 17-C کو کھچا کھچ بھر کر، ’لو جا رہا ہے کوئی شب ِغم گزار کر‘ کی کیفیت میں نکلا۔ عراق سے (اسرائیل کے تحفظ کی خاطر) جنگ چھیڑ کر،بش جونیئر ،صحافی سے جوتا کھا کر، عراق کو ایران کے حوالے کر کے چلا گیا۔ شام (ملحمۃ الکبریٰ، آرمیگڈون کا مرکز) بھی روس کے سپرد، اور بعدازاں ایران، لبنان، عراق، بشار الاسد کو کام مکمل کرنے کو دے گیا۔ اور شام، غزہ ہی کی طرح تباہ و برباد ہو گیا۔یمن پر سعودی عرب اور عرب امارات اسلحہ برسانے پر متعین ہوئے۔ بعد ازاں سوڈان درہم برہم کرنے کا سامان ہوا۔ اس دوران لیبیا اجاڑا گیا اور پھر غزہ پر اسرائیل کی ہمنوائی، ہمہ نوع فوجی امداد، پورے گلوب پر امریکہ کی چودھراہٹ کا نقشہ واضح کرتی ہے۔ اسے امریکی پروفیسر ایمریطس، ماہر معاشیات رچرڈ وولف نے (Rogue State) بدمعاش ریاست کہا ہے۔ وہ جس سے سبھی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ پڑھنے میں یہ ’روگ‘ اردو میں بھی نہایت بر محل ہے۔ دنیا بھر کو لاحق روگ، غزہ میں معصوم انسانوں کے خون کی بہتی ندیاں، ظلم و سفاکی، دنیاوی، سماوی سبھی قوانین کی دھجیاں اڑاتا یہ روگ! امریکہ ہے۔
خود امریکہ کوان جنگوں نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ساکھ بگاڑی۔ معاشی سیاسی ہچکولوں کی زد میں رہا۔ آسمانی قہر غیر معمولی طور پر بلا بن کر (موسمیاتی بحران) مسلسل ٹوٹتا رہا۔ تباہ کن طوفانوں، سالانہ آگ کے شعلوں کی گرفت میں آکر راکھ بنتی ایکڑوں زمین۔ سیلابوں نے، برفانی طوفانوں نے آبادیاں درہم برہم کیں۔ ہر مرتبہ ہم نے بچشمِ سر دیکھا کہ طوفانی بلائیں گزر جانے کے بعد لوگ گھروں کے ویرانوں، ملبوں میں کھڑے یہ کہتے پائے جاتے :’یہ تو جنگ زدہ علاقوں کا سا منظر ہے!‘ گویا مکافاتِ عمل نے امریکہ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ اور کمال یہ ہے کہ دنیا کی سپر ایمپائر کو بیس سال میں مکمل ناکامی سے دوچار کرنے والے نہتے افغان تھے! (قبل ازاں روسی قوت کا شیرازہ بھی انہی نے بکھیرا تھا۔) اب غزہ پر جنگ بظاہر اسرائیل لڑ رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مارچ 2024 ء تک امریکی اکثریت، امریکی عسکری امداد کی شدت سے مخالفت کر رہی تھی، ان کے سروے بتار ہے تھے!نتیجہ یہ ہونا تھا کہ اگر امریکہ مدد سے ہاتھ روک دیتا تو اسرائیل چند ہفتوں میں اسلحے سے خالی ہو جاتا اور سارے عسکری آپریشن رک جاتے۔ صیہونی تنظیم کا رکن، ایک سینیٹر جوناتھن گرین بلاٹ صدمے کا مارا چلا اٹھا : ’کتنے زیادہ نوجوان اب اسرائیل پر جاگ اٹھے ہیں۔ ہمیں بہت بھاری مسئلے کا سامنا ہے جو ایک پوری (نئی) نسل کی بنا پر ہے۔ فلسطین کے لیے ریکارڈ مرتب کرنے والے مظاہر ے دنیا بھر میں دیکھنے میں آئے۔ 5 لاکھ واشنگٹن میں، کینیڈا میں ان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ۔ برطانیہ میں مسلسل ملین مارچ، مظاہرے۔ کہا گیا کہ اس سیارے پر بسنے والی بہت بڑی اکثریت فلسطین کے حق میں کھڑی ہے۔ مجھے دورِحاضر کی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ یہ تو گزشتہ سال جنگ کے ابتدائی 6 ماہ کی کہانی تھی۔ مگر یہ تسلسل بے حد و حساب قربانیوں، اہل غزہ کی غیر معمولی استقامت و عزیمت کو سلامی پیش کرتا، (چند مسلم ممالک کو چھوڑ کر) آج بھی جاری ہے۔
7 اپریل 2025 ء ’ دنیاکو غزہ کے لیے روک دینے‘کادن منایا گیا۔ جن دنوں نیتن یاہووائٹ ہاؤس میںموجود ٹرمپ سے غزہ کی خونریزی پر شاباش لے رہا تھا! واشنگٹن میں امریکہ بھر سے لوگوں نے فلسطینی قتلِ عام کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مغربی ممالک میں ہفتہ اتوار میں بڑے مظاہرے ہوئے۔ مسلم ممالک ،پیر 7 اپریل کو اٹھے۔ بالخصوص بنگلہ دیش پورا، شہر شہر، یونیورسٹیاں، سکول، کالج، پروفیسر، تنظیمیں سبھی سراپا احتجاج تھے سبھی کام چھوڑ کر نعرہ زن تھے۔یہ زندہ قوم کی علامت ہے۔ 22 اپریل کے لیے غزہ جنگ روکنے کو عالمی سول نافرمانی کا دن منانے کی یورپ سے آواز اٹھی ہے۔ ’ہم صرف فلسطین کے لیے نہیں، اپنی روحوں، اپنی انسانیت، اپنی زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ گورا دکھ سے دعوت دیتا کہہ رہا ہے۔ اگر تم کچھ نہیں کر سکتے تو دو انگلیاں اٹھا کر یہ تو کہہ دو: ’فلسطین کو آزاد کرو۔‘ فلسطین تمھارا غم ہو اگر تمھیں ہزار ہا بچے مار دیئے جانے کا غم ہو! اگر طبی کارکنان کو قتل کر دینا غلط سمجھتے ہو تو فلسطین تمھارا غم ہے۔ ایک ملین انسانوں کو بھوک کی مارد ینا اگر ناروا ہے، ظلم ہے تو یہ تمھارا فرض بنتا ہے۔ اٹھو کچھ تو کرو! گلوبل بائیکاٹ۔ سب کام روک دو۔ یہ بڑی طاقتیں صرف ’مالی خسارے‘ کی زبان سمجھتی ہیں۔ سو ایک دن کام روکنے کا خسارہ انھیں تکلیف دے گا اور ہم یہ کریں گے!‘ (یورپ، فلسطین نیٹ ورک)
امریکہ پر جنگی جنون اور نیتن یاہو کی مجرمانہ دیوانگی کے ہاتھوں غزہ پر انسانوں کے اڑتے چیتھڑوں نے دنیا کے ہر ذی حس کو بے قرار کر رکھا ہے۔ ’کر رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘۔ ’ٹیرف‘ نامی ٹیکس کی بلا تجارت پر لاد کر عالمی تجارتی بحران کھڑا کر دیا۔ دھونس، دھمکی کے پھریرے لہراتا روس، یوکرین ما بین دخل انداز، گرین لینڈ پر دست درازی، کینیڈا کو دھمکانا۔ پیسہ بنانے کی دھن میں چہار جانب قلا بازیاں کھاتا ٹرمپ، اور ہٹلر کے سے ناز و انداز بگھارتا ای لون مسک۔ دونوں اضحوکہ بن کر رہ گئے۔ ٹرمپ کے لیے نفرین اور ای لون مسک کی اپنی دولت ہچکولے کھاتی نومبر سے اب تک 300 ارب ڈالر سے پہلی مرتبہ نیچے جاگری۔ 135 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ (بالخصوص ٹیسلا میں) یعنی 31 فی صد کمی دولت میں اٹھائی! یہ خاموش جھٹکے ہزار ہا امریکیوں کی نوکریاں ختم کرنے، تارکین وطن کو ظالمانہ پکڑ دھکڑ، تذلیل سے ملک بدر کرنے، قوم کو معاشی تنگی دینے اور اصلاً غزہ کے ناحق خون کے عوض ہیں۔
امریکی پروفیسر رچرڈ وولف کا کہنا ہے : امریکی ایمپائر / سلطنت رو بہ زوال ہے، مگر ہم خود فریبی کا شکار ہیں۔ ’میں نہ مانوں‘ کی کیفیت میں گرفتار! ہم حقائق قبول کرنے کی بجائے اسے دوسروں پر تھوپنے کے سر ہیں۔ ہم نے دنیا بھر سے فائدے سمیٹے۔ آج ٹرمپ غلط کہہ رہا ہے کہ دنیا نے ہمیں لوٹا ہے۔ ہم اپنے مسائل اوروں کو سزا دے کر حل کریں گے؟ دنیا خاموش بیٹھی منہ تکتی نہ رہے گی! امریکہ کے پاس اب بیسویں صدی والی طاقت نہیں ہے۔ امریکہ دشمنی میں اب یورپ اکٹھا ہو رہا ہے۔ چین، جاپان، کوریا، حتیٰ کہ ویت نام جو پہلے طویل عرصہ دشمنی میں تھے اب متحد ہو رہے ہیں۔ امریکہ ساری دنیا کو متحد کر رہا ہے، ہم تنہا ہو رہے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور چند ایک دیگر سیاسی، معاشی طور پر تنہا ہو رہے ہیں۔ امریکی ایمپائر گر رہی ہے۔ گرتے گرتے بہتوں کو نقصان پہنچا ئے گی خود کو بچانے کے چکر میں۔ ٹرمپ نے اپنی سیاست کو بچانے ، گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کو، سب کچھ الٹ دیا ہے۔ اتنے بھاری ٹیکس لادنے سے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں، یہ دنیا کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے۔ اس تمام عمل سے قیمتیں بڑھیں گی، عام آدمی شدید متاثر ہوگا۔ دوسرے ممالک ردِ عمل دکھائیں گے تو ہر سطح پر ہم برآمدی مارکیٹ کھو دیں گے۔ ورکنگ کلاس خسارے میں جائے گی۔ پروفیسر نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ’ ہاں ہم امریکی خاتمے کی ابتدا دیکھ رہے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ ہم ابھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دس بارہ سال سے ہم رو بہ زوال ہیں!‘ پاکستان اب بھی ڈوبتی کشتی ہی میں بیٹھنے پر مصر ہے۔ امریکہ ٹائی ٹینک کی کہانی دہرا رہا ہے، تکبر کے نشے میں بدمست!
باطل ہوئے حقوق کے اعلامیے تمام
پل بھر میں چھٹ گئی ہے ملمع کی سب نمود
…ملمع کی سب نمود
09:29 AM, 13 Apr, 2025