بیانیوں کی ماں

09:27 AM, 13 Apr, 2025

سیاست کو اصل مقصد یعنی عوام اور ملک کی خدمت سے ہٹاکر بیانیوں کو ہی اصل سیاست اورسیاست گری بنادینا بھی اس ملک کے ساتھ کسی پرانی دشمنی کا حساب برابر کرنے جیسا ہی لگتا ہے۔میرے وطن میں مختلف قسم کے بیانیے بنانے اورعوام کو یہ بیانیے بیچنے کو ہی کامیابی اور مقبولیت کا پیمانہ بنادیا گیا ۔کہاجاتا ہے کہ جناب عمران خان صاحب ہر طرح کی صورتحال میں خود کو بچانے اورکارکنوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے بیانیے بنانے کے ماہر ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی مقبولیت اورعوام کی دلچسپی انہی بیانیوں کی وجہ سے چلتی رہی ہے۔امریکی سازش سے اسٹیبلشمنٹ مخالف اور پھر آج کل اسی ا سٹیبلشمنٹ سے دروازے کھلوانے کے لیے اپنے معتمدین کو ٹاسک تک وہ ہر بیانیے میںتو ’’سفل‘‘ رہے لیکن عملی طورپر جیل کے اندر ہی ہیں کیونکہ بیانیے صرف نعرے بازی کے لیے ہوتے ہیں ،وقتی کام چلانے کے لیے ہوتے ہیں یہ بیانیے کارکنوں کا لہواورسوشل میڈیاتو گرم کرتے ہیں لیکن سڑکیں گرم کرنے کی باری آئے تو بیانیوں کے مارے سب ٹھنڈے پڑجاتے ہیں یا پھر اس قدر ہیجان انگیز کہ نومئی کردیا جاتا ہے ۔
جب بھی کوئی بیانیوں کی بات کرتا ہے تو میرا جواب صرف یہی ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے سیاستدان اپنی سیاست کے لیے کئی طرح کی نعرے بازی کرتے ہیں۔لیکن صرف ’’کارکردگی ‘‘ایک ایسا بیانیہ ہے جو تمام بیانیوں کی ماں کہلاتی ہے۔یہاں کارکردگی آجائے وہاں سب بیانیے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہر سیاستدان کے پاس بیانیے اوربیان بازی کی سہولت ہوتی ہے لیکن حکمران کے پاس صرف ایک ہی بیانیہ ہوتا ہے کہ وہ پرفارم کرے۔ عوام کی سہولت کے لیے کچھ کرے۔ لوگوں کو ریلیف دے۔ اگریہ پرفارمنس حکومت کرپائے تو دنیا کی کوئی بھی اپوزیشن کسی بھی بیانیے کے ساتھ اس کے سامنے نہیں ٹِک سکتی۔
دور نہیں جاتے تاکہ آپ کی یادداشت کا بھی زیادہ امتحان نہ ہو۔پی ٹی آئی کے دور حکومت میں چلتے ہیں ۔ دوہزاراٹھارہ سے اپریل بائیس تک کاجائزہ لیتے ہیں۔یہی عمران خان جو آج کل بہت مقبولیت کے دعویدار ہیں ملک کے وزیراعظم تھے ۔جب وہ وزیراعظم ہاؤس میں تھے اس وقت بھی ان کے پاس ہر طرح کا بیانیہ بنانے کی سہولت موجود تھی ۔ یہی لوگ جو آج ان کے لیے ملک کے اندرباہر سوشل میڈیا میں کام کررہے ہیں وہی لوگ اس وقت بھی میسر تھے بلکہ وہ سب سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے۔ صرف پنجاب کے محکمہ اطلاعات اور وزیراعلیٰ بزدارمیڈیا سیل میں درجنوں پی ٹی آئی کے کارکن بھرتی تھے ۔معیشت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلی،آٹے اور چینی کا بحران آیا ،مہنگائی بڑھی تو اس وقت یہی کارکن ایسے شرمندہ تھے کہ جیسے کسی کو بھاری شکست ہوگئی ہو۔ جیسے ان کی عمران خان سے جڑی ہر آس ٹوٹ گئی ہو۔پی ٹی آئی کے اپنے کارکن حکومت کا دفاع کرنے سے دور بھاگتے تھے۔ شیخ رشید جیسے وزیرجو ہر وقت میڈیا میں آنے کے لیے بے تاب رہتے تھے وہ شیخ رشید میڈیا انٹرویو سے دور بھاگتے تھے۔ جب کبھی سامنا ہوتا بھی تھا تو کہتے تھے کہ صرف ان کی وزارت سے متعلق سوال کریں ۔ وہ پی ٹی آئی یا حکومت کے ترجمان نہیں ہیں ۔ وجہ کیا تھی؟وجہ تھی مہنگائی۔ ناقص کارکردگی اور کمزور گوررننس۔ اس وقت یہی عوام تھے جو عمران خان کو کسی ہیرو یا نجات دہندہ کے روپ میں نہیں بلکہ ایک حکمران کے طور پر دیکھتے تھے اور ان سے ریلیف کی توقع کرتے تھے۔ اس لیے وہ ہر طرح کا بیانیہ بناکر بھی لوگوں کا غصہ کم کرنے میں یکسرناکام تھے۔ ملک میں کسی بھی جگہ ضمنی الیکشن ہوتا اس الیکشن میں پی ٹی آئی بری طرح ہار جاتی۔پنجاب میں گیارہ حلقوں میں الیکشن ہوا گیارہ کے گیارہ میں پی ٹی آئی اپنی حکومت ہونے کے باوجود ہارگئی اور ن لیگ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے جیت گئی۔ن لیگ کے پاس اس وقت کونسا بیانہ تھا جو آج نہیں ہے؟ فرق کیا تھا؟ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت ن لیگ حکومت کے بجائے اپوزیشن میں تھی اور لوگوں کو پتہ تھا کہ ان کو ریلیف دینا ان کا نہیں بلکہ عمران خان کا کام ہے اور وہ ناکام ہیں۔
دوہزار اٹھارہ میں شروع ہونے والا مہنگائی کا طوفان عمران خان جیسے پاپولرلیڈر کو بے توقیر کرتا رہا ۔ خان صاحب مہنگائی کے جواز دیتے لیکن عوام کہتے کہ سب جواز بلاجواز ہیں۔انہیں روٹی چاہئے ۔ مہنگائی سے نجات چاہئے ۔روزگار چاہئے اور حکمران ان سب کا بندوبست کرنے کا ذمہ دار ہے۔اس دور میں لوگ خان صاحب کی حکومت سے اس قدرمایوس تھے کہ ہر سروے یہی بتاتا تھا کہ اگر ملک میں آج الیکشن ہوں تو جیت ن لیگ کی ہوگی۔مریم نوازجلسوں میں کہتی تھیں کہ پیسا نہیں ن لیگ کا ٹکٹ چل رہا ہے اور خان صاحب سمیت پی ٹی آئی کا ہر لیڈر تسلیم کرتا تھا کہ مریم ٹھیک کہتی ہے لوگ آئندہ الیکشن لڑنے کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے خواہشمند نہیں ہیں۔
عمران خان صاحب کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو ان کی جان چھوٹ گئی وہ دوبارہ اپنے بیانیے کو لے کر عوام سے ہمدردیاں سمیٹنے لگے اور پرفارمنس کا بھاری پتھر پی ڈی ایم کے حصے میں آگیا۔وزیراعظم شہبازشریف کے بارے سب جانتے ہیں کہ وہ صرف ایک ہی بیانیے پر یقین پر رکھتے ہیں اور وہ بیانیہ ہے کارکردگی،پرفارمنس اور کام ۔استاد محترم سہیل وڑائچ سمیت کئی لوگ ان پر الزام لگاتے ہیں کہ شہبازشریف کو سیاست نہیں آتی ۔میں کہتا ہوں اگر سیاست صرف سازشی بیانیوں کا نام ہے تو بہت اچھا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اس طرح کی سیاست دور ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو سیاست نہیں آتی نہ سہی لیکن اس پر سب کا اتفاق ہے کہ ان کو کام آتا ہے۔ ان کو راستے اور پُل بنانے آتے ہیں چاہے وہ راستے اور پل سڑکوں پر ہوں یا انسانی رویوں اور پرفارمنس کے پل ہوں ۔وہ اس ملک اور عوام کے لیے راستے اور پل بنانے میں مصروف ہیں۔
شہبازشریف صاحب کاپہلا دور عمران خان صاحب کی طرف سے ملک کی معیشت کولگی بے یقینی کی آگ کو بجھاتے گزرگیا۔پی ٹی آئی کی طرف سے آئی ایم ایف کو خطوط سے جان چھڑا کر ملک کے لیے قرض کے معاہدے کرتے گزر گیا وہ اس میں بھی کامیاب رہے کہ ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا۔معیشت کی وہ گاڑی جو ڈھلوان سے تیزی سے نیچے آرہی تھی وہ گاڑی واپس اپنی اصل جگہ پر واپس آچکی ۔سیاسی اور معاشی اصلاحات ثمر آور ہونا شرو ع ہوگئی ہیں۔اسی ہفتے اسلام آباد میں معدنیات کانفرنس کا انعقاد ثبوت ہے کہ ہمارا ملک اوٹ پٹانگ بیانیوں سے دور ہٹ کر صرف ترقی اور کارکردگی کے بیانیے پر چلنا شروع ہوگیا ہے۔یہ الگ بات کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کا بل اسی طرح کے بیانیوں کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے ۔یہ شہبازشریف کی کارکردگی ہی تو ہے کہ مہنگائی کی رفتارساٹھ سال کی کم ترین سطح پر،شرح سود نیچے،سرمایہ کاری، ترسیلات اوپر،بجلی کی قیمتوں میں کمی،روپے کی قدر میں استحکام،پی آئی اے منافع کی طرف آگئی ہے۔ اگر پرفارمنس اسی طرح شہباز سپیڈ سے بڑھتی رہی تو پھر ملک میں باقی بیانیوں کو کوئی سنے گا نہ پوچھے گا بس وہی کارکردگی کے بیانیوں کی بکری ہوگی کیونکہ یہی بیانیہ سب بیانیوں کی ماں ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بڑی پتے کی بات کہہ دی کہ ’’ہمارے پاؤں کے نیچے قیمتی معدنیات ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں ٹیکنالوجی اور شفاف معدنی پالیسی ہوگی تو ترقی ہماری طرف کھڑی ہوگی‘‘ یہی شفافیت اور ڈیجیٹل انقلاب ملک کی ترقی کا سفر ہے۔

مزیدخبریں