بھارت : ازلی دشمنی سے آبی جارحیت تک !

09:11 AM, 13 Sep, 2025

میں ایک ڈنر پر مدعو تھی، جہاں ایک دوست صحافی سے گپ شپ ہوگئی، وہ حال ہی میں سیلاب زدہ علاقوں کی کوریج کر کے واپس آئی تھی، میں نے پوچھا سناﺅ حقیقت میں سیلاب آیا ہوا ہے یا صرف فیس بک، ایکس وغیرہ پر ہی ہم سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں، اُس نے جن خوفناک حقائق کا ذکر کیا وہ واقعی قابل غور اور تشویش ناک تھے کہ اس وقت پاکستان میں بہنے والے تمام دریا اور ان کی پٹی پر رہنے والے لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، حکومت کہہ رہی ہے کہ اس وقت 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں تو میرے خیال میں یہ تعداد 2 کروڑ سے زیادہ ہے۔ وہ راز دارانہ انداز میں کہنے لگی کہ ویسے بھارت نے ہم سے 10 مئی کا صحیح بدلا لیا ہے۔ میں چونک گئی اور کہا کہ بھارت کا اپنا پنجاب بھی تو پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور اُس کے کئی ڈیم بھی ٹوٹے ہیں۔ جس سے بھارت کی جانب سے سارا پانی اکٹھا ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس بات پر وہ چونک گئی کہ آپ بھی بھارتی میڈیا کی باتوں میں آ گئیں۔ آپ اس پر تحقیق کریں گی تو پتہ چل جائے گا کہ بھارت کے جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں اُن کی مخالف حکومت ہے اور بھارت جیسا شاطر دشمن اگر پاکستان کی طرف پانی چھوڑنے کے لیے اپنے ڈیموں کے ٹوٹنے کی خبریں نہ چلواتا تو پھر سیدھی جنگ تھی۔ میں نے کہا .... بھئی! اُن ڈیمز کی فوٹیج سوشل میڈیا پر چلی ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور کہا آپ پہلے اپنی سوشل میڈیائی Conversation کو کھنگالو، پھر فون پر مجھے بتانا کہ میں درست ہوں یا نہیں!
میں نے بات آئی گئی کر دی لیکن پھر یاد آیا کہ چلو چیک تو کریں کہ بھارت میں کہاں کہاں آفت آئی ہے تو اس پر میری دوست کی کچھ باتیں سچ نکلیں۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ تو وہ ملک ہے جو آج 5 ماہ گزرنے کے بعد بھی اپنے تباہ ہونے والے رافیل کے بارے میں نہیں مانا تو یہ اپنی دشمنی میں کسی بھی حد تک جھوٹ بول سکتا ہے۔ پھر میرے ذہن میں مودی کی یہ بات بھی آ گئی کہ اُس نے شکست کے بعد راجستھان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو ہر دہشت گرد حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، یہ قیمت پاکستان کی فوج اور اس کی معیشت ادا کرے گی، ہم بتائیں گے کہ آبی جارحیت کیا ہوتی ہے، وغیرہ۔ بہرحال بھارت نے ثابت کیا کہ اب جبکہ وہ زمینی اور فضائی حدود میں پاکستان سے جنگ ہار چکا ہے تو اب پاکستان سے ”خاموش“ حکمت عملی کے ساتھ بدلہ لے گا۔ اس کی تازہ مثال حالیہ سیلاب ہیں۔ پھر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور اس کے نتیجے میں پانی کے بہاو¿ میں مداخلت کی دھمکیاں اس امر کی کھلی مثال ہیں کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آبی وسائل کو پاکستان کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کا یہ گھناو¿نا عمل وسیع تر بھارتی سازش کا حصہ ہے، جو پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور معاشی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہا ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ بھارت پانی کو محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، و عسکری آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو بین الاقوامی اصولوں کے تحت ممنوعہ ”آبی ہتھیار“ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
حالانکہ بھارت یہ بات بھی جانتا ہے کہ یہ غیر معینہ معطلی اور پانی کے بہاﺅ پر تعاون سے انکار، معاہدے کے بنیادی قانونی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے، جو آرٹیکل XII(3) کے تحت کسی بھی ترمیم یا دستبرداری کو فریقین کی باہمی رضامندی سے مشروط قرار دیتا ہے۔ یہ معطلی بھارت کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے تحت وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ دریاﺅں پر اپنا کنٹرول سیاسی و فوجی دباﺅ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر نقصانات دراصل بھارت کی انہی آبی جارحیت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ بھارت نے ڈیموں سے پانی بروقت انتباہ کے بغیر خارج کیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان، مویشیوں کی ہلاکت اور انفراسٹرکچر و املاک کی تباہی واقع ہوئی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے بقول، بھارت نے آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پنجاب میں وسیع پیمانے پر سیلاب آیا۔
ویسے مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید بھارت ٹھیک ہو جائے اور ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا شروع کر دیں، آپس میں تجارت کریں، ایک دوسرے کی طرف وفود بھیجیں لیکن یہ سب کچھ مجھے خواب سا لگتا ہے کیونکہ بھارت نے ان 78 سال میں کبھی ہمیں دل سے تسلیم نہیں کیا، یعنی جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ پھر دونوں کو چھڑا لیا جاتا ہے، کچھ عرصہ سکون سے گزر جاتا ہے اور پھر وہی ٹکراﺅ۔ کبھی کبھار سمجھ نہیں آتی کہ آخر کیا چیز ہم دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ آپ لوگ کہیں گے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی ہے جس پر چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ یقینا کشمیر کا مسئلہ بھی ہو گا لیکن بھارت کا رویہ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، وہ اس قدر پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف ہے کہ اُسے اس کام کے لیے اربوں ڈالر بھی خرچ کرنا پڑ رہے ہیں مگر مجال ہے کہ وہ اس میں ہچکچائے، جیسے ابھی اُس نے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر نے کے لیے این آئی اے نے پاکستان دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، بھارت کی یہ مذموم کوشش ایف اے ٹی ایف جیسے فورمز کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر نا ہے، حتیٰ کہ بھارت یہاں تک بھی کوشش کر رہا ہے کہ وہ نیپال میں ہونے والے پُرتشدد کارروائیوں میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جائے، اور اس کے لیے گزشتہ دنوں نیپالی حکام نے بھارتی میڈیا کا ”پاکستانی شدت پسندوں کے نیپال راستے داخلے“ کا دعویٰ مسترد کیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے چکروں میں بھارت ان الزامات سے نیپال، ملائیشیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی خراب کر رہا ہے۔
بہرکیف جس ملک میں عبادت گاہیں اور تاریخی حیثیت کے حامل مقامات کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اُن سے مسلمانوں کی وابستگی جڑی ہے، اُس ملک سے آپ کیا ہی توقع کر سکتے ہیں۔ جیسے گزشتہ دنوں درگاہ حضرت بل میں نمازیوں نے شدید غصے کے عالم میں مسجد کے مرکزی ہال کے باہر لگائی گئی تختی پر کندہ بھارتی قومی نشان کو مسخ کر ڈالا۔ ہندوتوا ایجنڈے کے خلاف عوامی غیظ و غضب نے بی جے پی کے ان عزائم کو بے نقاب کر دیا جو مقبوضہ کشمیر کی اسلامی شناخت کو مٹانے کے لیے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ درگاہ کے صحن میں نصب کی گئی سنگِ مرمر کی تختی، جس پر چار شیروں والا بھارتی قومی نشان کندہ تھا، عوامی اشتعال اور احتجاج کا سبب بنی۔ لہٰذا ایسی صورت میں آپ بھارت سے کس قسم کے اچھے سلوک کی توقع کر سکتے ہیں؟ یہ ملک اپنے باشندوں کے بارے میں نہیں سوچتا تو ہمارے بارے کیسے سوچ سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بھارتی آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا پڑے گا اور اسے ہر سطح پر اُٹھانا پڑے گا تاکہ آئندہ برسوں میں بھارت ایسی کوئی سازش کرنے کے بارے میں نہ سوچے!

مزیدخبریں