کیا سیلاب آفت ہے؟

09:08 AM, 13 Sep, 2025


سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ بارشوں نے ہمیں برباد کر دیا۔ پانی نے ہمارا سب کچھ چھین لیا۔ بھارتی آبی جارحیت نے ہمیں ڈبو دیا۔ یہ اور اس قسم کی مزید کئی جملے آج کل عام سننے کو مل رہے ہیں۔ کوئی ٹی وی چینل دیکھ لیں لوگ اسی قسم کے جملے بولتے نظر آئیں گے۔ اخبارات میں بھی ایسی ہی باتوں کی بھرمار دکھائی دے گی۔ حکمران طبقات سے لے کر عام آدمی تک سب یہی رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ سب لوگ ہماری دلی ہمدردی کے مستحق ہیں جنہیں سیلاب سے کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جانی نقصان کا تو کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا اورمالی نقصان پورا کرنے میں بھی ایک عمر گزر جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ایک عمر بھی کم پڑ جاتی ہے۔ سیلاب سے کسی کا نقصان نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کسی خاندان کا کوئی پیارا لقمہ اجل نہیں بننا چاہیے تھا، کوئی گھر تباہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سیلاب کا یہ پہلو تو یقینا بہت تکلیف دہ ہے اور اس صورت میں تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے جب متاثرہ انسانوں کا اپنا کوئی قصور بھی نہ ہو۔ لوگ انہی نقصانات کی وجہ سے سیلاب کو آفت قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیلاب واقعی آفت ہوتا ہے؟
سیلاب آفت نہیں ہوتا، یہ تو نعمت ہوتی ہے، ماحولیاتی بقا کے لیے ایک بہت ضروری چیز ہے، اسے اگر کوئی چیز آفت بناتی ہے تو وہ انسان کی اپنی کوتاہی اور کم فہمی ہے۔ وہ کوتاہی اور کم فہمی یہ ہے کہ ایک تو ہم نے دریاو¿ں کے پانی کو قابو میں رکھنے کا کچھ خاص انتظام نہیں کیا، دریاو¿ں پر ہیڈ ورکس وغیرہ تو موجود ہیں، نہری نظام بھی عمدہ ہے لیکن پانی جمع کرنے کے لیے اتنی مقدار میں آبی ذخائر نہیں بنائے گئے جتنی ضرورت تھی۔ دوسرا یہ کہ ہم نے سندھ طاس معاہدے کے بعد تین دریاو¿ں چناب، راوی اور ستلج کو عضو معطل ہی سمجھ لیا، ستلج اور راوی کے بارے میں تو یہ تصور عام ہو گیا تھا کہ یہ دونوں دریا اب دریا نہیں رہے، گندے نالے بن چکے ہیں۔ یہی سوچ کر ہم نے ان کے اندر بستیاں بھی بسا لیں کہ یہاں کون سا کبھی پانی آنا ہے۔ راوی کے حوالے سے خاص طور پر یہ سوچ دیکھنے میں آئی اور ہمیں رواں سال اسی سوچ کو بھگتنا بھی پڑا۔ 
کبھی نصابی کتابوں میں پڑھایا جاتا تھا کہ سیلاب کھیتی باڑی کے لیے بہت ضروری چیز ہے۔ اس سے نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ لوگوں کو روز گار بھی ملتا ہے۔ سیلاب صرف پانی ہی نہیں اپنے ساتھ بہت سی مفید مٹی، معدنیات اور مچھلیوں کی صورت میں رزق بھی لاتا ہے۔ اس حوالے سے خاص طور پر مصر کا حوالہ دیا جاتا تھا جسے تحفہ نیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ مصر میں سے دریائے نیل گزرتا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ دریائے نیل میں آنے والا سیلاب مصر کو سرسبز و شاداب رکھتا ہے۔ اس ضمن میں دریائے سندھ کا ذکر بھی کئی بار نظروں سے گزرا لیکن آج کل صورت حال اس کے بالکل الٹ ہو چکی ہے۔ اب سیلاب کو کبھی قدرتی آفت قرار دیا جاتا ہے تو کبھی بھارت کی آبی جارحیت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ 
شاید ہم اپنی نااہلیوں اور نالائقیوں کے سبب آفت اور نعمت کا فرق بھی بھول چکے ہیں حالانکہ آفت یا تباہی ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ زلزلے اور طوفان کو تو آفت کہا جا سکتا ہے لیکن زیادہ بارشوں یا سیلاب کو تباہی قرار دینا قرین عقل نہیں۔ اب تو سائنس اور انجینئرنگ اتنی ترقی کر گئی ہیں کہ بارشوں اور دریاو¿ں کے پانی کو محفوظ کر کے استعمال میں لانے کے کئی طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ ان سب کو بروئے کار لا کر نہ صرف پانی کو بہترین مصرف میں لایا جا سکتا ہے بلکہ انسانی آبادی کو بھی جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ ہم پر بارسیلاب کوآفت قرار دے کردنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہمیں دنیا سے ہمدردی اور امداد تو مل جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟ سیلاب دنیا کے اورحصوں میں بھی آتے ہیں اور نقصان بھی کرتے ہیں لیکن جن ملکوں نے بہتر انتظامات کر رکھے ہیں، وہاں نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
پنجاب کو پانچ دریاو¿ں کی سرزمین قرار دیا جاتا ہے اور اس پر بہت فخر بھی کیا جاتا ہے۔ شاید اتنے دریا کسی اور خطے، صوبے یا ملک میں اکٹھے ہیں بھی نہیں۔ یہی پانچ دریا اس دھرتی کی سرسبزی اور شادابی کا ذریعہ ہیں۔ جب اس دھرتی سے پانچ دریا گزرتے ہیں تو پھر سیلاب تو آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے آج تک ایسی کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی کہ سیلاب آنے کی صورت میں کم سے کم جانی و مالی نقصان ہو۔ یہ درست ہے کہ بھارت ہمارے خلاف آبی جارحیت کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے لیکن ہم نے اس کے آبی حملوں سے نمٹنے کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔ کیا ہم نے خود کو صرف بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ جب پانی چھوڑے توآبی جارحیت اور روک لے تو بھی آبی جارحیت کا نام دے کر اپنی جان چھڑا لی جائے۔
پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سب سے بڑی نعمت ہے تو بے جا نہیں ہو گا۔ پوری کائنات میں صرف زمین ایک ایسا سیارہ ہے جس پر پانی موجود ہے اور اسی لیے اس پر زندگی پائی جاتی ہے اور ہم اس نعمت کوبہت آسانی سے آفت قرار دے دیتے ہیں۔ انسان ایک دن پانی نہ پیے تو مرنے والا ہو جاتا ہے۔ نلوں میں پانی نہ آئے تو زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے لیکن دریا میں ذرا سا زیادہ پانی آ جائے تو اسے آفت سمجھ لیا جاتا ہے۔
سائنسی اندازوں کے مطابق زمین کی سطح پر انتیس فی صد خشکی ہے اوراکہتر فی صد پانی ہے۔ اوراس انتیس فی صد حصے پر زندگی کی ساری چہل پہل ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ سمندر تھوڑا سا اچھل جائے تو کرہ ارض پر کتنی تباہی مچائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایک توازن میں رکھا ہوا ہے۔ ہم انسانوں کے حصے میں دریاو¿ں کی صورت پانی کی صرف چند لکیروں کا انتظام آیا ہے اور ہم انہیں نہیں سنبھال سکتے۔ ہمیں سیلابوں کو آفت اور دشمن کی جارحیت کا نام دے کر ان کے انتظام و انصرام سے اپنا دامن نہیں چھڑانا چاہیے بلکہ پانی کو خدا کی نعمت جان کر اسے سنبھالنا چاہیے تاکہ قیمتی انسانی جان و مال کو بچانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے بہترین استعمال میں بھی لایا جا سکے۔

مزیدخبریں