اسرائیل کا عزم صمیم اور ہنود و یہود گٹھ جوڑ

09:07 AM, 13 Sep, 2025

عالمی نظام کی کمزوریاں کھل کھلا کر سامنے آ رہی ہیں، برطانوی ماہر آدم سمتھ کی ”دولت اقوام کی نوعیت“ پر تحقیقاتی مقالے کے مندرجات پر قائم کیا جانے والا سرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر کمزوریوں اور ناانصافیوں کے ساتھ دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔ آدم سمتھ کو اس نظام کا بابا آدم اور اس کی تحقیقاتی کتاب کو بائبل آف کیپٹلزم مانا جاتا ہے۔ برطانیہ میں تخلیق کردہ اس نظام میں پیدائش اور تقسیم دولت کے ساتھ ساتھ سرمائے یعنی پیداوار کے عوامل زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم پر سیرحاصل گفتگو کی۔ پیدائش دولت کے عمل میں ظاہر ہونے والی قدر زائد یعنی منافع کو محنت یعنی مزدور کے بجائے پیداواری عمل کی تنظیم کرنے والے کا حق قرار دیا گیا حالانکہ پیداواری عمل میں وہ سرمایہ دار کے طورپر پہلے ہی منافع کا حقدار قرار پا چکا تھا۔ یہیں سے اس نظام میں فکری عدم توازن کے ساتھ ساتھ عملی ناانصافی کی ابتدا ہوئی۔ 200 سال کے دوران یہ نظام عالمی سطح پر غلبہ پا چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی پیدائش تو برطانیہ عظمیٰ میں ہوئی لیکن اسے عالمی نظام کے طور پر بڑھانے اور غالب نظام بنانے کا سہرا امریکہ کے سر بندھتا ہے آج پورا عالمی نظام کینز کی اختراعات اور بریٹن ووڈ میں تخلیق کردہ معاملات کے ساتھ عالمی معیشت کے انجن کے طور پر کام کر رہا ہے اس نظام کے تحت تخلیق کئے گئے مالی و زری اداروں سمیت اقوام متحدہ جیسے سیاسی ادارے استحصالی نظام کے گماشتے بن چکے ہیں۔ ذرا غور کریں 78 سال سے مشرق وسطیٰ اسرائیلی توسیع پسندانہ اور ظالمانہ پیش قدمیوں کے باعث آگ و خون میں نہایا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کے حل کے لئے اجلاس طلب کیا ہے۔ امریکہ نے فلسطینی وفد کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا ہے اس طرح جن لوگوں کا مسئلہ زیربحث لایا جانا ہے وہ یہاں موجود ہی نہیں ہوں گے اس طرح کے سوچ و بچار کا پھر نتیجہ کیا نکلے گا۔ ہم اس بارے میں چشم تصور سے حقیقت جان سکتے ہیں۔
اس ظالمانہ عالمی نظام کا ایک عظیم الشان شاہکار صہیونی ریاست اسرائیل ہے۔ پوری دنیا میں یہ واحد ریاست ہے جو نسلی بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔ نسلی تفاخر ایک ذہنی بیماری ہے اس پر مستزاد دوسروں کو کم تر سمجھنا اور ان سے جینے کا حق ہی چین لینا، مجرمانہ سوچ ہے اسرائیل اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی فلسطینیوں کو اپنی اسی سوچ کا نشانہ بنا رہا ہے اسرائیل کی جغرافیائی سرحدیں ابھی تک غیرمعین ہی تقسیم فلسطین کے عالمی منصوبے کے مطابق ریاست اسرائیل کو اپنے قیام کا جواز مل گیاپھر اس نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ہی طے کردہ عظیم اسرائیل کے نقشے کے مطابق عرب علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ صہیونی حکمرانوں کی اسی سوچ کا حالیہ مظہر غزہ کی جنگ ہے اسرائیل نے 2 سال پر محیط اس جنگ کے دوران ظالمانہ بمباری کے ذریعے غزہ کو ، سارے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق غزہ کی زمین قابل رہائش نہیں رہی۔ وہاں ایک بھی عمارت، بشمول رہائشی عمارت میڈیکل کمپلیکس، عارضی پناہ گاہیں، قابل استعمال نہیں رہی ہیں۔ اسرائیل نے وہاں اس قدر بارود گرایا ہے کہ اس کی مجموعی طاقت کئی ایٹم بموں کے برابر بنتی ہے۔ ہنوز یہ عمل جاری ہے اپنے طے کردہ پروگرام کے مطابق اب وہاں زمینی فوج بھی داخل کر دی گئی ہے تاکہ غزہ پر زمینی قبضہ کیا جائے اور آخری مرحلے پر اسے اسرائیل میں ضم کر کے گریٹر اسرائیل کا حصہ بنا دیا جائے۔ اسرائیل روزِ اول سے ہی گریٹر اسرائیل کے قیام کی کاوشیں کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اسکی جغرافیائی سرحدیں ابھی تک غیرمعین ہیں۔ اسرائیل عربوں کی ہر عسکری تنظیم کا خاتمہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عرب دنیا کا کوئی بھی ملک اسرائیل کے سامنے چوں چراں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مصر ہو، عراق ہو، شام ہو ان کی عسکری قوت پامال کی جا چکی ہے۔ اخوان المسلمون کو عرب حکمرانوں کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ حماس کا خاتمہ اب اسرائیل کے حتمی اہداف میں شامل ہے۔ اسرائیل حماس کا پیچھا کر رہا ہے۔ لبنان ہو یا ایران، قطر ہو یا کوئی بھی ملک اسرائیل حماس قیادت کے خاتمے کے لئے ان پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ چند مہینے قبل ایران پر حملہ کیا گیا۔ حماس قیادت کو بڑی صفائی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے بھی مردانگی کا ثبوت دیا۔ اسرائیل کے آئرن ڈوم اور اسرائیل تک عدم رسائی کے نظریات کو پاش پاش کیا۔اسرائیل میں گھس کر اس کے میزائلوں نے تباہی مچائی۔ اب حماس قیادت کا پیچھا کرتے کرتے اسرائیل قطر پر حملہ آور ہو گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسرائیل کا سردست یہ حملہ ناکام ہو گیا ہے۔ کیونکہ حماس قیادت حملے کے وقت اس کمرے میں موجود نہیں تھی جو اسرائیلی ڈرونز کے ٹارگٹ پر تھا۔ حملہ درست ٹارگٹ پر کیا گیا تھا حماس قیادت حملے سے چند لمحے قبل نماز کی ادائیگی کے لئے اٹھ کر مسجد گئی تھی اس لئے وہ محفوظ رہی۔ اسرائیل نے دوبارہ حملہ آور ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
عربوں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر سفارتی، سیاسی اور اقتصادی سرمایہ کاری امریکہ اور انڈیا کے ساتھ کر رکھی ہے۔ وہ امریکہ اور انڈیا کو اپنا دوست سمجھتے رہے ہیں۔ عربوں کی دولت و محبت انہی پر نچھاور ہوتی رہی ہے لیکن 7 دہائیوں کے بعد جو چیز نکھر کر روزِ روشن کی طرح کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کا یار ہی نہیں بلکہ فکری اور عملی طور پر اس کا حامی و محافظ ہے۔ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر ہو یا مسیح کی آمد ثانی، بنی اسرائیل کی عظمت رفتہ کا احیا، امریکی قیادت ان حوالوں سے اسرائیل کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ بائبل ان دونوں کے درمیان اتحاد کی اہم کڑی ہے۔ دوسری طرف ہنود، یہود عرب و مسلم دشمنی میں ساتھی ہیں۔ فکری و عملی طور پر ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت تکون میں اتحاد ثلاثہ میں مسلمان یا عرب کہیں فٹ نہیں ہوتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہنود و یہود دشمنی کے حوالے سے درست لیکن امریکی دوستی کے حوالے سے غلط ثابت ہو رہی ہے۔ اسرائیل پاکستان پر حملہ آور ہو گا اس بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ خواب ہے۔ اس خواب میں مذہبی عنصر غالب ہے۔ وہ پاکستان کو ایک مسلمان ملک ہی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ملک کے طور پر ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں آنے والے دنوںمیں کیا ہوتا ہے۔

مزیدخبریں