حکمران سبق نہیں سیکھتے

09:21 AM, 12 Sep, 2025

نیپال جنوبی ایشیا کے فلک بوس ہمالیائی پہاڑی سلسلوں میں پھیلا لینڈ لاکڈ ملک ہے جس کی آبادی 3 کروڑ اور رقبہ ایک لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ اس میں ہند گنگا کے میدانی حصے بھی شامل ہیں۔ اس کی سرحد شمال میں چین کے خود مختار علاقے تبت اور جنوب مشرق اور مغرب میں بھارت سے ملتی ہے، جبکہ یہ سلیگوری کوریڈور کے ذریعے بنگلہ دیش سے اور بھارتی ریاست سکم کے ذریعے بھوٹان سے الگ ہوتا ہے۔ پاکستان کے حساب سے دیکھا جائے تو نیپال رقبے میں اندازاً ہمارے صوبہ سندھ کے تقریباً برابر ہو گا۔
دنیا کے دس بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ بشمول ماؤنٹ ایورسٹ نیپال میں پوری شان و شوکت سے قدم جمائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک کثیر النسل، کثیر لسان، کثیر المذہب اور کثیر الثقافت ترقی پذیر ملک ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ملک بانی رکن ہونے کے ناتے جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے مستقل سیکرٹریٹ کی میزبانی کرتا ہے۔ نیپال غیر وابستہ تحریک اور خلیج بنگال انیشی ایٹو کا بھی رکن ہے۔
نیپالی حکومت نے ملک میں نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کا اعلان کیا تو اس فیصلے کے خلاف عوام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ۔ 4 ستمبر کو حکومت نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں فیس بک، لنکڈ اِن، یو ٹیوب، ایکس، وٹس ایپ اور سنیپ چیٹ سمیت 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کر دیا۔ نیپال میں لاکھوں افراد کا روزگار اور باہمی رابطہ سوشل میڈیا سے وابستہ ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں بھی لوگ کسی نہ کسی صورت میں سوشل میڈیا پر براہ راست انحصار کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کی بندش سے لاکھوں لوگوں کا روزگار یکایک ٹھپ ہو گیا۔ 
کئی لاکھ نیپالی بیرون ملک روزگار کما کر ملک میں اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور اسی سوشل میڈیا جسے بند کر دیا گیا کے ذریعے انکا اپنے اہل خانہ سے رابطہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بندش کے باعث آن لائن روزگار اور رابطے منقطع ہونے سے سارے ملک میں شدید مشکلات پیدا ہونے لگیں اور انہی مشکلات کی وجہ سے پہلے سے بے انتہا مسائل کا شکار عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا اور یوں 8 ستمبر کو ملک گیر مظاہروں اور ہنگاموں کی وجہ سے حالات قابو سے اس قدر باہر ہوئے کہ بپھرے ہوئے مظاہرین نے وزیر اعظم اور انکی کابینہ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ متشدد مظاہرین نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، حکمران جماعت کے دفتر سمیت دیگر کئی اہم سرکاری عمارات پر دھاوا بول کر انہیں آگ لگا دی۔
نیپال میں کرپشن، اقرباپروری، بے روزگاری، سیاسی اشرافیہ کی عیش و عشرت اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف عوام میں لاوا تو پہلے سے پک رہا تھا۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملک گیر پابندی عائد کرنے سے عوام کا صبر جواب دے گیا اور تنگ آمد نوجوان بجنگ آمد ہو گئے۔ نوجوانوں نے اپنی محرومیوں اور طاقتور اشرافیہ کے گلچھڑوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پُر تشدد تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے۔ حالات کو بہتر بنانے کیلئے نیپالی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے 22 افراد جاں بحق اور سیکڑوں شدید زخمی ہو گئے۔ صورتحال اس قدر بگڑی کہ عوامی دباؤ کے تحت نیپالی وزیراعظم پی شرما اولی اور وزیرِ داخلہ رامیش لکھک کو صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مستعفی ہونا پڑا۔
مظاہرین پارلیمنٹ تحلیل کرنے، نئے انتخابات کرانے اور بڑے پیمانے پر کرپشن کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کر کے ملوث سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو سخت سزائیں دینے کے مطالبے پر ڈٹ گئے ہیں۔ ایسے میں حالات کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے نیپال کی فوج نے فوری طور پر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ایسے میں تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں مظاہرین نے ملک بھر میں لوٹ مار شروع کر دی۔ ملک کا نظم و نسق سنبھالنے والی افواج نے عوام پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور سکیورٹی اداروں کیساتھ تعاون کریں لیکن مظاہرین کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔
عوامی غیظ و غضب دیکھتے ہوئے حکام نے ملک بھر میں سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کر دی ہے لیکن حکمران طبقے کی کرپشن، اقربا پروری، سرکاری نوکریوں پر طاقتور لوگوں کے قبضے، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل سے غفلت تو ابھی تک اپنی جگہ پنجے گاڑے ہوئے ہے۔
سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کے تختہ پلٹ حالات میں کرپشن، اقربا پروری، قومی وسائل پر سیاسی اشرافیہ کے قبضے اور قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کے عوامل مشترک ہیں۔ اسکے علاوہ ایک اور قدر یہ مشترک ہے کہ تینوں ممالک میں ہنگاموں اور احتجاجوں کو تعلیم یافتہ نوجوانوں نے لیڈ کرتے ہوئے حکمرانوں کو اقتدار چھوڑنے اور عوامی مطالبات ماننے پر مجبور کیا۔
سری لنکن سیاست دان اور سابق فوجی افسر گوٹابایا راجا پاکسے کو 13 جولائی 2022 کو ملک گیر مظاہروں، ہنگاموں اور عوام کے مطالبے پر مستعفی ہو کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ 2024 میں بنگلہ دیش میں اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر پُر تشدد مظاہرے اور ہنگامے شروع ہوئے۔ مظاہرین نے حسینہ واجد کی کرپشن، اقربا پروری، ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، قومی وسائل کی لوٹ مار، سرکاری نوکریوں پر حکمران جماعت کے قبضے اور بھارت نواز ہونے کے الزامات کے باعث استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ جولائی 2024 میں طالب علموں کے نئے احتجاج نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی دستوں کی جانب سے وحشیانہ کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں طلبا کا قتل عام ہوا۔ اگست تک مظاہروں نے حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت کی شکل اختیار کر لی جس کے نتیجے میں 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ واجد کو مستعفی ہو کر بھارت فرار ہونا پڑا۔
نوجوان نیپالی مظاہرین نے سری لنکن اور بنگلہ دیشی تختہ پلٹ ماڈل اختیار کیا جس کے نتیجے میں سری لنکن حکمران راجہ پاکسے کو سنگا پور اور بنگلہ دیشی حکمران شیخ حسینہ واجد کو ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا تھا۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن، سیاسی اشرافیہ کی عیاشیاں، ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ اور بے روزگاری انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ملک میں حکمران طبقے کے خلاف عوام کے ذہنوں میں برسوں سے نفرت اور انتقام کا لاوا پک رہا ہے۔
لوٹ کھسوٹ میں مگن ہمارے سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی عوامی برداشت کے نقطہ عروج کا امتحان نہ لیں۔ دولت، طاقت اور اقتدار کے نشے میں حکمرانی کے خواہاں سیاستدان عوامی آتش فشاں پھٹنے کا انتظار نہ کریں۔ خطے میں سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بعد نیپال میں سامنے آنے والا عوامی ردعمل پاکستان سمیت دوسرے ممالک کیلئے بھی خوفناک پیغام لئے ہوئے ہے۔ پاکستانی سیاستدان اور بیوروکریٹس ایسی تباہ کن صورتحال سے بچنے کیلئے پنپنے والے عوامی جذبات کے اس رجحان سے سبق سیکھیں گے؟

مزیدخبریں