افغان سرپرست تنظیمیں اور قومی سلامتی

09:21 AM, 12 Sep, 2025

قومی سلامتی کے ضمن میں ایک حد سے زیادہ مصالحت فتنے کو کنٹرول کرنے کی بجائے طول دیتی ہے ہم اس وقت بھی  ایسی عاقبت نااندیش مصالحت کے خلاف تھے جب گزشتہ دور حکومت میں تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور نرمی کا رویہ برتا جا رہا تھا پی ٹی آئی اس ناقابل فہم پالیسی کا ملکی سلامتی پر ہونے والے خدشات میں خاصہ اضافہ ہوا نہ صرف ان مسلحہ گروہوں کی ازسرنو تنظیم ہوئی بلکہ ا نہیں مزید منظم ہونے کا بھی موقع ملا حالانکہ یہ کوئی ڈھکا چھپا امر نہیں تھا بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتیں اس نرمی اور دانستہ مصلحت و قومی سلامتی کے امور پر کمپرومائز کی بدولت ہی ہوئیں…۔
 یہ سلسلہ تھما نہیں آج بھی کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت اس روش پر قائم ہے جو کائونٹر ٹیررازم آپریشنز مکمل نہ ہونے کا با عث ہے یہ رویہ دہشت گردوں کے لئے آکسیجن کا کام کرتا ہے اور انتہا پسند گروہ حوصلہ مند ہوتے ہیں…۔
دور حاضر میں پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اس کی سب سے زیادہ شدت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہے تحریک طالبان طالبان پاکستان (TTP)‘ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اسلامک سٹیٹ آف خراسان پرونس افغانستان (ISKP) کی نئی روش و فعالیت کے باعث بیرونی محفوظ پناہ گاہیں تو ہیں ہی اس کے علاوہ اندرونی سیاسی تقسیم اس کا سب سے بڑا شاخسانہ و جڑ ہے…۔
وطن عزیز کو ان حالات میں حقیقی اسباب کی نشاندہی کے لئے جس سیاسی بصیرت قومی پالیسی سیاسی یکجہتی سماجی ربط  اور فہم و فراست پر مبنی جس رویئے اور قومی ردعمل کی ضرورت ہے وہی مفقود ہے۔
اس وقت سیاسی محاذ پر جس قدر قومی بیانیہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس کی بجائے مایوس کن رویئے سیاسی سکرین پر نظر آتے ہیں…۔
کمال حیرت یہ کہ ٹی ٹی پی کے بارے میں جو مصلحت آمیز رویہ پی ٹی آئی کا پہلے تھا ہنود قائم ہے پی ٹی آئی نے کبھی ٹی ٹی پی کے افغان سرپرستوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی بلکہ نرمی اور مصلحت کا رویہ رکھا ہے اس سے قومی اتفاق رائے اور وقار کو مجروح کیا گیا ہے یہی نہیں پی ٹی ایم‘ پی ٹی آئی کے ساتھ میل جول و گٹھ جوڑ کو ڈالروار قررار دیکر انتہا پسند ایجنڈے کو ہوا دی گئی… اس طرح کی تقسیم کن کہانیاں نہ صرف شہداء کے خون کے ساتھ مذاق ہے بلکہ توہین کا بھی باعث ہے اس سے قومی و عوامی اعتماد کی تضحیک الگ ہوتی ہے…۔
یہ امر ڈھکا چھپا نہیں کہ 2021ء میں ا مریکن افغانستان کو چھوڑتے وقت جو بیج بو گئے اس کی فصل بعد میں بھی کاٹنی پڑی اس سے سرحد پار سے دراندازی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ عین کرونا کے عروج پر پی ٹی آئی حکومت نے جس طوح افغانیوں پر بارڈر کھول دیئے تھے اس وجہ سے ناصرف ملک میں ’’کرونا‘‘ کی آبیاری ہوئی بلکہ دراندازی کی نوعیت بڑھ کر 70سے 80 فیصد تک ہو گئی… دراندازی کے لئے آنے والے افغانیوں کی تربیت کا ذمہ ٹی ٹی پی کے ذمہ ہے محض 2025ء میں 126 درانداز ہمارے سکیورٹی اداروں کی گولی کا نشانہ بنے۔ افغان سرزمین پر پنپنے والے 57سے زیادہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیمپس ٹریننگ کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کا رویہ محض نمائشی ہے بظاہر وہ اسے افغان طالبان کے ساتھ ہم آہنگی کا نام دیتے ہیں۔
افغان مہاجرین کی حوصلہ شکنی نہ کر کے ماضی کی حکومت نے دہشت گردی کو بہت فروغ دیا حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی واضح ہے کہ ٹی ٹی پی ا ور آئی ایس کے پی کے لئے افغانی وسائل و زمین مکمل طور پر میسر ہے۔
ان حالات میں اگر سیاسی محاذ پر یکجہتی اور افہام و تفہیم سے کام لینے کی بجائے انفرادی لڑائیاں لڑی جائیں سیاسی مفادات مقدم رکھے جائیں سماجی تقسیم سے سیاسی مطلب نکالے جائیں پورے ایک صوبے کے پی کے اندر ایسی تنظیموں کی حوصلہ افزائی اور آبیاری کرنے والی حکومت موجود ہو پورے صوبے کی مشنری صوبے ہی کے خلاف استعمال ہو تو قومی سلامتی کے ادارے کیا کریں کیا  وہ اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہونے دیں بلکہ ملک کو اس آگ میں جلنے دیں جس سے بچانے کے لئے اقبال نے خواب دیکھا اور قائد اعظم نے برصغیر جیسے رجعت پسند فلسفے پر کھڑی ریاست میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔
گزارش ہے کہ جس آگ میں وطن کو جلانے کی کاوشیں ہیں اس منظر میں سیاسی ذمہ داری کسی حد تک بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کے الٹ نئی سیاسی تقسیم اور عدم اتفاق جو خیبرپخوتنخواہ میں مسلسل ہو رہا ہے مزید عدم استحکام اور ان تنظیموں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔
افغان باشندوں کا مکمل انخلاء تنظیموں کو آکسیجن دینے والوں کا سدباب اور خفیہ کارروائیوں کی بیخ کنی ازحد ضروری ہے۔
یہ افواج پاکستان ہی ہے جو  ایسے سنجیدہ موضوعات پر نبرد آزما ہے جبکہ پی ٹی آئی نے ا سی تحفظ دینے والی فوج زندگی میں پہلی مرتبہ فتح و نصرت سے روشناس کر کے سرشاری بخشنے والی افواج پاکستان سے اور پاکستان نفرت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ایک خاص ایجنڈے کے تحت وطن عزیز کے نوجوان نسل کو اپنے شہداء اور افواج سے نفرت کا درس دیا گیا تھا وہ سارے کا سارے حالیہ پاک بھارت جنگ سے ریورس ہو گیا ہے اس فتح نے ماضی کی ساری منافقانہ کاوشوں اور نفرت کا طوفان ناکام کر دیا ہے قوم آج پھر سے افواج پاکستان کی محبت میں سرشار ہے…۔

مزیدخبریں