جامعات کی ایڈمنسٹریشن اور ڈاکٹر محمد یونس رانا

09:20 AM, 12 Sep, 2025

بعض لوگوں سے مل کر اندازہ ہوتا ہے کہ در حقیقت سادگی زندگی کو آسان اور کامیاب بنانے کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ جیسے سادہ خوراک جسمانی صحت کے لیے سب سے زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ہوتی ہے اسی طرح سادہ طرز بود و باش زندگی کو آسان اور اہداف کے حصول کو ممکن بناتا ہے۔ ہمارے کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خواہشوں کا انبار ہوتا ہے جو لائف سٹائل یا فیشن کے نام پر ہم نے اپنے کندھوں پر لاد رکھا ہوتا ہے۔ آپ المیہ دیکھیے کہ جنہوں نے یہ بات باور کرانا تھی وہ اپنا اپنا برانڈ کھول کر بیٹھ گئے۔
کم کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو سارے کیریئر میں محلات تعمیر کراتے ہیں نہ جائیدادیں بناتے ہیں اور نہ ہی مال و دولت کو اپنا تعارف بناتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ تک کرائے کے مکان میں رہنا، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا سادہ رکھنا اور معاملات زندگی میں بھی سادہ رہنا ان کا فخر ہوتا ہے۔
پاکستان کی علمی اور تحقیقی دنیا میں بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو تعلیمی فیشن سے ہٹ کر کامیابی اور برق رفتاری سے اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ایشیا کی قدیم ترین ویٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یونس رانا ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور اور یونیورسٹی آف نارووال کے وائس چانسلر ہیں اور ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے واحد میری ٹوریس پروفیسر ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
 لاہور میں UVAS وہ ادارہ ہے جہاں کم و بیش آٹھ ہزار طلبا تعلیم و تحقیق میں مصروف ہیں اور یہاں جدید سائنسی شعبوں کے 23 پروگراموں میں پی ایچ ڈی اور 30 ایم فل کرایا جا رہا ہے۔ اس یونیورسٹی کے 144 سے زائد ریسرچ پراجیکٹس مالی اعتبار سے بھی ملک کے لائیو سٹاک اور زرعی شعبوں میں بہت سے مسائل حل کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس یونیورسٹی نے جو کامیابیاں میریٹوریس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس رانا کی سربراہی میں حاصل کیں وہ اس سے پہلے کم کم دیکھنے میں آئیں۔
ڈاکٹر محمد یونس کا علمی سفر پاکستان سے شروع ہو کر امریکہ کی یونیورسٹی آف منیسوٹا تک پہنچا، جہاں انہوں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ ان کی تحقیق نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت منوائی۔ ان کی تصنیف کردہ دس کتب، بے شمار تحقیقی مقالات، اور درجنوں ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبا تعلیم و تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات کا ثبوت ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اسی سادگی اور شفافیت کی مدد سے جھنگ میں کالج آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی بنیاد رکھی۔ جھنگ میں ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کا ادارہ اپنے انفراسٹرکچر اور سہولیات کے حساب سے کسی بھی جدید اور بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹر یونس نے اس ادارے کی مضبوط بنیاد رکھی، ان کا ڈویلپمنٹ کا تجربہ تعلیمی اداروں میں بہت کام آیا۔ ساتھ ہی انہوں نے وہاں ایسا علمی ماحول تخلیق کیا جہاں تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑا گیا۔ 25 ایکڑ اراضی کا اضافہ، کیفے ٹیریا، صاف پانی کے لیے آر او پلانٹ اور عطیات کی بنیاد پر تعمیر کی گئی جامع مسجد ان کی دوراندیشی اور خدمت خلق کے جذبے کی روشن مثالیں ہیں۔ نارووال میں خان بہادر چوہدری مشتاق سکول آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی ترقی بھی ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر یونس کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی بصیرت اور سادگی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ علم اس وقت تک مفید نہیں جب تک وہ معاشرے کے مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے لائیو سٹاک، پولٹری اور پبلک ہیلتھ جیسے شعبوں میں ایسی راہیں متعین کیں جنہوں نے معیشت کو تقویت دی اور دیہی غربت کے خاتمے کے لیے عملی راستے دکھائے۔ جامعہ نارووال کے تمام تر ترقیاتی منصوبے ان کے چارج سنبھالنے کے بعد مکمل ہوئے ہیں۔ انہوں نے جامعہ نارووال کے بانی پروفیسر احسن اقبال کے تیز ترین ترقی کے وژن کو اپنا کر جامعہ نارووال میں حیرت انگیز منصوبوں کو مکمل کیا ہے۔
خال خال ہی ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو، وژن وسیع ہو اور قدم ثابت ہوں تو نہ صرف ادارے بنتے ہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بھی بدلتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ستارہ امتیاز اور دیگر قومی اعزازات محض کاغذی تمغے نہیں بلکہ ایک روشن زندگی کی تصدیق ہیں۔
پاکستان کو ایسے قابل اور ایمان دار ایڈمنسٹریٹرز کی ضرورت ہے جو علم کو عملی خدمت میں ڈھالیں، کردار سازی کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کے مینار چھوڑ جائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس انہی میں سے ایک ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جس نے اپنے علم، وژن اور خدمت کے ذریعے پاکستان کی علمی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

مزیدخبریں