سیلاب سے بچائو کا طریقہ

09:20 AM, 12 Sep, 2025

سوشل میڈیا کی وساطت سے سیلاب زدگان کی دل خراش وڈیوز سامنے آ رہی ہیں کہ دل سا بیٹھ جاتا ہے معصوم بچے، نوجوان لڑکیاں، مرد و خواتین اور بزرگ کیمپوں میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، ایک طرف انہیں اپنے گھر اور سازو سامان کی فکر لاحق ہے تو دوسری طرف فصل کی تباہی کا دکھ ہے، مال مویشی کی پریشانی اس کے علاوہ ہے۔
حالیہ سیلاب ایک آفت بن گیا ہے، ہر چند یہ پہلا سیلاب نہیں ہے، کہا جا رہا ہے کہ اس دفعہ بارشیں پہلے سے زیادہ ہوئی ہیں، مون سون سپل کا دورانیہ بھی بڑھا ہے، شہروں کو اربن فلڈنگ کا بھی سامنا ہے، گجرات جیسے شہر میں عینی شاہدین کے مطابق چھ فٹ پانی گلیوں اور بازاروں میں موجود رہا ہے، شہر میں پانی داخل ہونے کی وجہ وہ برساتی نالے ہیں جنہوں نے شہروں کا رخ کیا ہے، انکی گذر گاہیں تجاوزات سے مبرا نہ تھیں، سیلاب کا سلسلہ جو سوات سے شروع ہوا تھا وہ پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ میں داخل ہو رہا ہے، لاکھوں افراد متاثر ہوئے کچھ زندگی سے محروم ہوئے، جانی اور مالی نقصان کے علاوہ پلوں، شاہراہوں، بیراجوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ارباب اختیار اور افسر شاہی نے حسب روایت سیلاب کے بعد متحرک ہوتے ہی انڈیا پر اچانک پانی چھوڑنے کا الزام دھرا ہے، بقول ان کے اس سے ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ سے وزراء کرام اور افسر شاہی سے سیاسی قائدین تک سب متاثرین کی دلجوئی کے لیے کیمپوں میں پائے گئے ہیں بوڑھی خواتین کو گلے لگایا جا رہا ہے، بچوں سے باتیں کی جا رہی ہیں ساتھ ساتھ، فوٹو سیشن بھی ہو رہے ہیں، باوجود اس کے متاثرین شکوہ کناں ہیں کہ انکی داد رسی انکی توقع کے مطابق نہیں ہے، اس ساری مصیبت میں بعض مائیں، بیٹیوں کا جہیز پانی میں بہہ جانے پر شدید افسردہ ہیں، کچھ کو جمع پونجی سے بنائے گئے مکانات کے گر جانے کا ملال ہے، کسی کو اپنے جانور گم ہونے جانے کا قلق ہے، اس سب کے باوجود سرکار شاد ہے کہ عوام کو ایک بڑی آفت سے بچا کر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
روایت ہے کہ برطانوی عہد میں مون سون سپل سے کم از کم تین ماہ قبل سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا کرتا تھا، ممکنہ صورتحال اور اس کے مابعد اثرات کا جائزہ لیا جاتا تھا، متاثرین کی متوقع تعداد کے پیش نظر ان کے قیام و طعام کی باضابطہ منصوبہ بندی کی جاتی تھی، یہ وہ عہد تھا کہ جب ذرائع نقل و حمل جدید بھی نہ تھے، بڑی آبادی نہیں تھی، دریائوں نہروں، راجبائوں، شاہراہوں، نالوں کے کناروں اور پہاڑوں پر درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ نظر آتے، کسی کی یہ جرأت نہ تھی کہ ان مقامات سے درخت کاٹ لے، اسی طرح دریائوں کے راستوں، آبی گذر گاہوں پر کسی بھی قسم کی تجاوزات کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کا تو نام تک نہ تھا، پھر پیشگی انتظامات خاطر خواہ ہوتے۔
پاکستان کا نہری نظام قریباً سو سال پرانا ہے مگر اس میں جدت برطانوی عہد میں آئی، جب ہیڈ، بیراج بنائے اور نہریں نکالی گئیں، قیام پاکستان کے بعد سندھ طاس معاہدہ ہمسایہ ملک کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر طے پایا، تین دریائوں کا پانی اس کے تسلط میں دے دیا گیا، ہندوستان نے اچھے ہمسایہ کا ثبوت نہ دیا اور چالیس فیصد پانی جو عالمی قوانین کے تحت سکھ بیاس، ستلج، راوی دریائوں میں چرند، پرند اور آبی حیات کے لیے چھوڑنا تھا اس میں غفلت کا مرتکب ہوا، ہماری قیادت نے بھی اس لاقانونیت کا نوٹس نہ لیا، ہر دور کی حکومتیں خواب خرگوش کے مزے لیتی رہیں، ورنہ مذکورہ دریائوں کی گذر گاہ میں تجاوزات قائم نہ ہوتیں، متعلقہ محکمہ جات بھی الرٹ رہتے، اگر معمول سے زیادہ پانی آ بھی جاتا تو اس قدر تباہی نہ ہوتی۔
انڈیا جیسے ہمسایہ سے خیر کی توقع رکھنا ہی عبث ہے، لیکن آج کی گلوبل ولیج اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں سیلاب کی روک تھام کے لیے ہمارے ادارے کس قدر فعال اور عصر حاضر کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کتنا کر رہے ہیں؟ دریائوں کو گہرا کرنے، آبی گذر گاہوں کو صاف رکھنے اور انکی مانیٹرنگ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟
پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر سے ننگا کرنے والے ٹمبر مافیا کا قلع قمع کرنے انہیں قرار واقعی سزا دینے سے کس نے روکا ہے، نہروں، دریائوں، شاہراہوں کے کناروں سے درختوں کا صفایا تو ہر حکومت کے عہد میں ہوتا رہا، اس وقت آنکھیںکیوں بند کی گئیں، اب تو اربن فلڈ جیسے عذاب کا سامنا عام شہری کو ہے، آئے روز یوٹیلٹی بلز میں ہوشربا اضافہ تو کیا جا رہا ہے، مگر پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کی اربوں کی پراپرٹی ناقص سیوریج کی نذر ہو رہی ہیں۔ پانی کی دانش کا کیا کہنے یہ بھی غریب کی جھونپڑی کا رخ کرتا ہے، ارباب اختیار کے محلات کی جانب نہیں جاتا۔
ہر سیلاب ڈیم کی تعمیر کی نئی بحث کو جنم دیتا مگر یہ سمندر میں اترتے پانی کے ساتھ ہی دم توڑ دیتی ہے، المیہ یہ ہے کہ آبی ماہرین کی رائے کو اہمیت دینے کی بجائے لسانی، طبقاتی بحث کا نیا پنڈورہ بکس کھولا جاتا ہے، پاکستان کا شمار بارشوں کے اعتبار سے دنیا میں 145 واں نمبر بنگلہ دیش کا تیسرا ہے پورا بنگلہ دیش ڈوب گیا یہ کبھی نہیں سنا ہے، قدرتی آفات سے کسی کو مفر نہیں لیکن دنیا بھر میں اس کے نجات کے طریقہ کار اختیار کیے جا رہے ہیں۔
1956 سے 2025 تک آنے والے سیلاب کی وجوہات میں یکسانیت پائی جاتی ہے، زیادہ شدت 2010 کے سیلاب کی تھی ہزاروں لوگ مر گئے تھے، پچیس سال میں کسی کو غفلت پر سزا ہوئی، جائزہ لینے کے لیے کوئی کمیشن بنا شرع اس لیے خاموش ہے کہ مرنے والے عام شہری ہیں، ارباب اختیار کا پروٹوکول کے ساتھ متاثرین کے کیمپوں میں جانا، خواتین کے سر پر دست شفقت رکھنا، بوڑھوں کو گلے لگانا، بچوں سے باتیں کرنا اور کسی پیکیج کا اعلان کرنے کی مشق دہرائی جاتی ہے۔
مکانات سے محروم متاثرین کو کب تلک گھر کی چھت میسر ہو گی، اس کا اندازہ 2010 میں متاثرہ افراد کی بحالی سے کیا جا سکتا ہے، بھاری بھر عالمی امداد کے باوجود سیلاب کی آمد کا انسانی المیہ بن جانا کسی بڑی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر 2010 میں پانی سے بچائو کا طریقہ بند توڑنا تھا اور 2025 میں سیلاب سے بچائو کا یہی نسخہ آزمایا جا رہا ہے تو پھر اس مالی امداد کا حساب کون دے گا جو سیلاب کی روک تھام اور متاثرین کی بحالی کے نام پر عالمی برادری سے لی جاتی رہی ہے۔

مزیدخبریں