گزشتہ روز میں نے ٹی وی آن کیا تو ایک نجی چینل پر آگے پیچھے دو خبریں نظر سے گزریں، ایک تھی سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، یہ خبر گزری تو دوسری خبر کا ٹکر چلنا شروع ہو گیا کہ لاہور میں چینی اور آٹے کا سنگین بحران۔ میں ان دو متضاد خبروں سے بہت حیران ہوا کہ ایک طرف گزشتہ کئی روز سے خبریں آ رہی ہیں کہ سٹاک ایکسچینج روز بروز تاریخ کے نئے سنگِ میل عبور کر رہی ہے لیکن جب ہم عوامی بہبود کی بات کرتے ہیں تو انہیں ریلیف اس حد تک میسر نہیں آ رہا ہے ان کی کسمپرسی ختم ہونے کو نہیں آ رہی ہے۔ یہ کیسی تیزی ہے جو صرف سٹاک ایکسچینج میں ہے جب کہ باقی تمام اطراف تنزلی ہی تنزلی ہے۔ اگرمعیشت میں بہتری ہو رہی ہے تو پھر اسے کون سی چیز گراس روٹ لیول تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔
کچھ دن قبل پلاننگ کمیشن کی اہم دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو 10 بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ معاشی ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔ توانائی کا شعبہ، غیر معیاری تعلیم و صحت، موسمیاتی تبدیلی ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملکی معیشت کو کم برآمدات، سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے فقدان کا سامنا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، ناساز گار کاروباری ماحول اور زیادہ آبادی بھی سنگین مسئلہ ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی و خوراک کی فراہمی پر اثر پڑ رہا ہے۔ تعلیم و صحت کے شعبوں سے معیشت کو مسائل درپیش ہیں، بڑھتی غربت کے باعث ملکی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پلاننگ کمیشن کی یہ رپورٹ پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پلاننگ کمیشن نے مسائل کی درست عکاسی کر دی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ نے بطورِ خاص ملکی معیشت کے جس دھندلائے چہرے کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے اس میں تو کہیں نہیں لگتا کہ ملکی معاملات درست سمت میں گامزن ہے یہ تو خطرے کا وہ الارم ہے جو ظاہر کر رہا ہے کہ حالات کی بہتری کی لئے کوشش نہ کی گئی تو مکمل تباہی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔
جب کہ دوسری طرف اگر ہم دیکھتے ہیں تو حالیہ دنوں میں اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے دعوے مسلسل منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ جس میں سب سے اہم سٹاک ایکسچینج کی تاریخی بڑھوتری ہے جو کہ ملک کی سو بڑی کمپنیوں کے حصص میں اضافے کی نشانی اور خریداروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اعداد و شمار اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں صنعتی ترقی اور روزگار یا برآمدات میں اضافہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں؟ اگر ملک میں چینی اور آٹے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ان اشیاء کی سپلائی وافر مقدار میں میسر بھی نہیں یعنی سنگین بحران ہے۔عوام کی کمر بجلی، گیس کے بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ نے توڑ کر رکھ دی ہے تو تو پھر عام عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے بیان کردہ تمام اشاریوں سے بظاہر ایک متحرک اور ترقی کی طرف گامزن ریاست کا تصور ابھرتا ہے۔ اگر ہم اوپر بیان کی گئی پلاننگ کمیشن کی رپورٹ اور دو خبروں کا موازنہ حکومتی دعووں سے کریں تو منفی ردِ عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی ترقی کی ایک ایسی تصویر دکھائی جا رہی ہے جس کا دوسرا رخ نہایت متضاد ہے۔ ملک میں غربت بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل تمام دعووں کی نفی کر رہے ہیں۔بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ، ظالمانہ ٹیکس پالیسیاں اور اشرافیہ کو دی گئیں مراعات پر عوام میں شدید غم و غصہ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ معاشی و سماجی تفاوت عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا کر رہی ہے کہ یہ کیسی ترقی ہے جس کا ثمر صرف چند لوگوں کو میسر آ رہا ہے۔ ملکی منظر نامے میں معاشی ترقی اور سماجی عدل کے مابین موجود تضاد ایک دیرپا اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگر ایک طرف ملکی معیشت کو دیوالیہ پن سے نکالنے کے اقدامات کیے گئے ہیں تو دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ ان اقدامات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ بجلی کی قیمتوں کا بے رحمانہ نظام، کرپشن کے خلاف غیر متوازن کارروائیاں اور ایلیٹ کلاس کو حاصل مراعات انصاف کے اس بنیادی تصور کو مجروح کرتی ہیں جو کسی پائیدار ریاستی نظام کی بنیاد ہیں۔ موجودہ پالیسیوں کا اگر فائدہ نچلے طبقے کو نہیں ہوتا، ان کی زندگی میں جو مشکلات ہیں ان میں کمی نہیں آتی تو ان پالیسیوں کی افادیت محض اعداد و شمار تک محدود سمجھی جائے گی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں چند لوگ کا شمار تو مراعات یافتہ طبقے میں کیا جائے جب کہ اکثریت بیچاری روٹی روزی کے مسائل میں الجھی رہے تو وہاں حقیقی خوشحالی کا تصور محال ہے۔
ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عوام کس طرح کی اذیت میں مبتلا ہیں۔ ناقابلِ یقین اور ناقابلِ برداشت مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے۔سرکاری دعووں، بیانات اورا علانات کے باوجود مہنگائی کا گراف نیچے نہیں آ رہا ۔ اگر عام آدمی بات کی جائے تو اسے صرف روزمرہ استعمال کی اشیائ، اجناس، سستی ادویات، سستا اور فوری علاج، امن و امان، عزتِ نفس، جان و مال کا تحفظ اور سستا و فوری انصاف چاہئے۔باعزت روزگار چاہئے جس میں وہ دو وقت کی روٹی عزت کے ساتھ کما سکے اور بچوں کو کھلا سکے۔ بچوں کو بہترین تعلیم دلا سکے۔ لیکن ہمارے حکمران ملک کا دفاع کرنے والوں کے نام پر اقتدار کے دوام کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ سراسر ناقابلِ فہم ہے، اپنی ناکامیوں کو ان کے سائے میں چھپانے کی کوشش ان اداروں کے وقار اور قوم کے دلوں میں ان کے لئے محبت مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے گریز کرنا چاہئے۔
دو متضاد خبریں
09:20 AM, 12 Sep, 2025