مشرقِ وسطیٰ کی فضائیں آج بھی دھوئیں اور خون سے بھری ہیں۔ فلسطین پر اسرائیلی کی مسلسل بمباری اور فلسطینیوں کی نسل کشی، شام اور یمن پر اسرائیلی جارحیت، یمن و فلسطین میں بھوک اور موت، یہ سب کچھ دنیا روز دیکھتی ہے۔ اور عرب حکمران؟ وہ یا تو اپنے محلات کی چکا چوند میں گم ہیں یا پھر امریکی و یورپی اسلحے کے اشتہاروں اور خریداری میں کھوئے ہوئے ہیں۔ عوام چیخ رہے ہیں، بچے مر رہے ہیں، مگر ان کے حکمرانوں کی آنکھوں پر واشنگٹن و یورپ کی پٹی بندھی ہے۔
دمشق پر اسرائیلی طیارے بم برساتے ہیں اور اطمینان سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ نئی شامی حکومت کے پاس بس تماشا دیکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ یمن پہلے ہی خانہ جنگی اور بھوک کی آگ میں جل رہا ہے، اب اسرائیلی حملے اس پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ فلسطینی تو پچھلی کئی دہائیوں سے اسرائیلی ظلم و بربریت کا شکار ہیں جو اب اپنی انتہا یعنی ان کی نسل کشی تک پہنچ گئی ہے۔ قطر کا حال بھی دلچسپ ہے اربوں ڈالر کا اسلحہ لیکن ایک گولی تک اسرائیل کے خلاف نہیں چل سکتی۔ کیا یہ دفاع ہے یا دکھاوا؟۔
قطر جیسا امیر ملک اربوں ڈالر کے جنگی جہاز اور میزائل خرید کر خوش ہے، لیکن جب اسرائیل ان پر حملہ کرے تو اس اسلحے کی حیثیت کھلونوں سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسرائیل کے خلاف زبان کھولنا بھی گویا جرم ہے۔ یہ ہے عرب دفاعی خودمختاری کا اصل حال ، کاغذی طاقت اور عملی بے بسی۔
اصل بیماری وہی پرانی ہے امریکہ و یورپ پر اندھا دفاعی انحصار۔ امریکہ سے ہتھیار خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ ساتھ میں ’’شرائط‘‘ بھی خریدی جائیں۔ یعنی اسلحہ صرف اندرونی بغاوت کے لیے، یا زیادہ سے زیادہ ہمسائے کے خلاف استعمال ہو گا۔ مگر اسرائیل کے لیے؟ وہاں ہتھیار بند، زبان بند اور ہاتھ بند! حقیقتاً عربوں کا اربوں ڈالر کا اسلحہ صرف شو روم کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔
لیکن کیا دنیا میں متبادل نہیں؟ بالکل ہے۔ پاکستان اور ترکی۔ یہ دو برادر ممالک آج جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں۔ ترکی کے ڈرونز نے آذربائیجان میں نگورنو کاراباخ جنگ کا نقشہ پلٹ دیا۔ آرمینیا کے جدید دفاعی نظام ترک ڈرونز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ یہی ڈرون لیبیا اور شام میں بھی کامیابی سے استعمال ہوئے، جہاں انہوں نے زمینی جنگ کو یکسر بدل ڈالا۔
پاکستان کا حال بھی مختلف نہیں۔ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اس کے میزائل دنیا کے بہترین میزائلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کا جنگی جہاز جے ایف17 دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔ مئی 2025 کی چار روزہ پاک بھارت جنگ نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستانی دفاع صرف بیانات نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بھارت نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کو دبانے کی کوشش کی، مگر جواب میں پاکستان نے اپنی بھرپور صلاحیت دکھائی۔ پاکستانی فضائیہ نے نہ صرف بھارت کے زیر استعمال مہنگے ترین یورپی طیارے گرا دیئے بلکہ میزائل حملوں کے ذریعے بھارت کے کئی فضائی اڈے اور دنیا کے بہترین ایس 400 راڈار سسٹم بھی ناکارہ کر دئیے۔ پاکستان کے شاہین اور فتح سیریز کے میزائلوں نے بھارتی دفاعی حصار میں دراڑ ڈال دی۔ صرف چار دن میں بھارت جیسی بڑی طاقت پسپا ہو گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے مان لیا کہ پاکستان کا دفاعی نظام کسی بھی بڑے دشمن کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر عرب دنیا پاکستان کے میزائل سسٹمز، جنگی جہاز اور ترکی کے ڈرونز و میزائل ڈیفنس سسٹم سے فائدہ اٹھائے تو وہ اسرائیلی جارحیت کے آگے نا صرف کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ اسے اپنی حدود میں رہنے پہ مجبور کر سکتی ہے۔ یہ صرف خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے، بشرطیکہ عرب حکمران خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔ لیکن افسوس کہ اربوں ڈالر امریکی اسلحے پر لٹانے والے حکمران اپنے عوام اور ممالک کو محفوظ رکھنے سے بھی قاصر ہیں۔
سوال وہی ہے کہ عرب دنیا کب جاگے گی؟ کب تک اسرائیل کے ہر حملے کے بعد صرف رسمی بیانات اور اجلاسوں پر اکتفا کیا جائے گا؟ کب تک یہ بے بسی تاریخ کا حصہ بنتی رہے گی؟ اگر یہ روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں ان حکمرانوں کو صرف اس جملے سے یاد کریں گی: ’’یہ وہ لوگ تھے جو اربوں ڈالر کے اسلحے کے باوجود اپنی زمین اور عوام کا دفاع نہ کر سکے۔ کیونکہ ان کا اسلحہ اسرائیل جیسے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے قاصر تھا‘‘۔
عرب حکمرانوں۔ آنکھیں کھولو، اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ دفاع کے لئے پاکستان، ترکی اور چین پہ انحصار کر کے دیکھ لو۔ اسرائیل کبھی تمہاری طرف آنکھ نہیں اٹھائے گا؟۔
عرب دفاعی بے بسی اور ممکنہ حل
09:19 AM, 12 Sep, 2025