زمانہ گزرا غالباً یونیورسٹی کے ایام کی بات ہے کہ پرانی کتابوں سے ایک کتاب خریدی جس کا نام The Invisible Government تھا۔ کتاب امریکی طرز حکومت پر مصنف ڈیوڈ وایز نے 1964 میں لکھی تھی۔ جس میں امریکی مصنف نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ امریکہ میں دو طرح کی حکومتیں ہیں۔ پہلی وہ جو ہماری سوکس کی کتابوں میں ہے اور ہمیں امریکی آئین میں نظر آتی ہے جسے ہم امریکہ کا صدارتی نظام کہتے ہیں۔ دوسری امریکی حکومت سی آئی اے کی وہ چھپی ہوئی مشنری ہے جو امریکہ کے سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ 2004ء میں جان پرنکز کی کتاب Confessions of an Economic Hit Man نظر سے گزری تو میں دیر تک سوچتا رہا کہ اس زمین کا نظام کون چلا رہا ہے؟ ایک بات تو ہمیشہ کیلئے ذہن نشین کر لیں کہ زمین پر طاقت ور اور کمزور کے درمیان امن اور بھائی چارے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا۔ ہر معاہدہ طاقتور کی خوشنودی تک قائم رہتا ہے۔ کمزور بھی طاقتور ہونے کیلئے ذلت آمیز معاہدے کرتے ہیں اور طاقتور ہوتے ساتھ ہی اپنے معاہدے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ یہی انسانی تاریح اور طاقت کا زمین پر توازن ہے۔ بدقسمت تو وہ قومیں ہوتی ہیں جو بار بار ذلت آمیز معاہدے کرتی ہیں اور معاہد ہ کرنے کے بعد اُس ذلت کو بھول جاتی ہیں۔ مجھے اس بارے کوئی ابہام نہیں کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں سب نے اپنی اپنی ذہانت کے مطابق حصہ ڈالا۔ ہم نے دفاع مضبوط کر لیا لیکن معیشت کرپٹ ہاتھوں میں دیدی۔ آج تک یہ بات ہی سمجھ نہیں آئی کہ حقیقی مجرم کون ہیں؟ سقراط کا خیال ہے کہ جو عادل بننے کی خواہش ظاہر کرے وہ کبھی عدل کرنے کے لائق نہیں ہوتا لیکن اپنے ہاں تو ججوں کا معیار یہ ہے کہ چیمبرز اور صدر پاکستان کی خوش آمد انہیں جج بناتی ہے۔ اُن کے پاس دس سالہ تجربہ اور مضبوط چیمبر ہے تو پھر انصاف کرنے والے بھی وہاں سے آئیں گے جہاں کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے۔ سول جج کو کرپشن میں سزا ہو سکتی ہے لیکن کبھی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج وزیر اعظم کو پریشر میں پھانسی لگانے کے بعد اپنی قبر میں علامتی سزا کے طور پر سزا بھگتنے کیلئے تیار نہیں لیکن اُس عوامی غصے کا کیا کیا جائے گا جو بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان نوجوانوں کے حوالے سے خود کفیل ملک ہے لیکن غیر تربیت یافتہ نوجوان کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ اس کا تجربہ عمران نیازی کو نوجوانوں کا لیڈر بنا کر اقتدار میں لانے والوں کو ہو چکا ہو گا۔ میں نے کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، بیڈمنٹن اور ایسے بہت سی کھیلوں میں سفارشی بھرتی ہوتے دیکھے ہیں لیکن میں نے آج تک ایک بھی ماں باپ ایسا نہیں دیکھا جو باکسنگ یا ریسلنگ میں اپنے بیٹوں کی سفارش کیلئے دربدر ہوتا دیکھا ہو۔ زندگی کی سختیوں سے بھاگنے والے مشکل کھیلیں کھیل ہی نہیں سکتے اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہزاریوں سے ایسا ہی چل رہا ہے۔ اب ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دو سپر پاور چین اور روس ہمارے پڑوس میں ہیں اور دور بیٹھا امریکہ اپنی نظر نہ آنے والی ریاست کے ذریعے دنیا بھر میں مداخلت کر رہا ہے۔ چین اور بھارت کے اردگرد ریاستوں میں کھیل شروع ہو چکا ہے جس کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے بنگلہ دیش، نیپال اور قطر میں مذاکرتی ٹیم پر ہونے والا حملہ ہے۔ ٹرمپ اگر بائیبل سر پر رکھ کر بھی کہے کہ یہ سب کچھ اُس کی مرضی کے بغیر ہوا ہے تو مانا نہیں جا سکتا۔ گو کہ ٹرمپ نے اس واقعہ پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ ناراضی پولیس کے ساتھ مل کر جوا کرانے والوں کی ناراضی جیسی ہے جو ہمیشہ جوا کے خلاف تقریریں کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ نے جاپان کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کے بعد ذلت آمیز معاہدہ کیا اور اپنی فوج بھی ختم کر کے امریکی فوج رکھ لی لیکن جاپان نے امریکہ کو معاشی محاذ پر بدترین شکست دی اور 1946ء کی ختم کی ہوئی فوج پچاس سال بعد 1996ء میں دوبار رکھ لی لیکن جاپان ان پچاس سال میں کبھی بھی اُس ذلت آمیز معاہدے کو نہیں بھولا تھا۔ بلاشبہ پاکستان ایک بڑے سیلاب کی زد میں ہے لیکن میں یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ کونسی ایمرجنسی ہے جو آپ سیلاب میں فوج کی مدد لیے بغیر لگا رہے ہیں؟ لاکھوں پاکستانی اپنے بچوں سمیت بے سرو سامانی کے عالم میں سٹرکوں پر بھوکے پیاسے بیٹھے ہیں اور جعلی عقل مند بیوروکریٹس اُن کے ساتھ وہ ذلت آمیز سلوک کر رہے ہیں جن کو وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔ اتحادی حکومت کے علم میں ہونا چاہیے کہ اگر عمران نیازی کی بے رحم سپاہ اور اُن کے درمیان کوئی کھڑا ہے تو وہ صرف پاکستان کی فوج ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی پاکستان آرمی نے بنیان مرصوص کھڑی کر دی ہے جو بھارت کو ایک عرصہ تک کسی جنگی جنون سے دور رکھے گی۔ فتنہ الخوارج کے مدمقابل بھی ہمار ے بہادر جوان ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر قربانی دے رہے ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سامنے بھی یہی دیوار کھڑی ہے لیکن یہ سول حکومت کیا کر رہی ہے؟ ابھی تو سیلاب کے بعد حقیقی بھوک اور ننگ کا بھی ایک سیلاب ہے جس کا سامنا ریاست کو کرنا پڑے گا۔ لوگ بڑے شہروں کا رخ کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں زندگی کیسے سہل ہے اور پھر نفرت کا یہ سیلاب بہت کچھ بہا لے جانے کیلئے مچل رہا ہو گا۔ سیلاب روکنا یقینا حکومت کے بس میں نہیں تھا لیکن گودام توآپ بچا سکتے تھے۔ عوام کو درپیش مشکلات میں خانیوال کا گودام سیلاب کی نذر ہو جانا بدترین غفلت ہے لیکن ہمیں
یاد رکھنا چاہیے کہ اگر جرم حاکم کی مرضی سے ہو رہا ہے تو وہ ظالم ہے اور اگر جرم حکمران کے علم میں نہیں تو وہ غافل ہے۔ ظالم اور غافل دیر تک کبھی اقتدار میں نہیں رہتے۔ مجھے معلوم نہیں کہ پاکستان کے عقلمند نیپال اور بنگلہ دیش کی سیاسی تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں لیکن میں صاف دیکھ رہا ہوں کہ یہ مستقبل قریب کے امریکی اڈے ہیں جن کو بھارت کی حمایت میں پاکستان کیخلاف استعمال کیا جائے گا یا پھر چین کے خلاف کیونکہ نیپالی وزیر اعظم کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ر سم و راہ امریکہ کو کسی صورت قابل قبول نہیں تھے اور آج صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ امریکہ ایک بدمعاش ریاست ہے اور سایوں کے ساتھ دنیا میں حکومت کرتی ہے اس کے سائے صاف دکھائی دے رہے ہیں لیکن آپ سایوں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے اس کے لیے آپ کو اپنے سائے گہرے کرنا ہوں گے ورنہ 48 گھنٹوں میں انقلاب نہیں سازش کامیاب ہوتی ہے۔ آپ سایوں کے خلاف بولیں گے تو آپ کا سایہ ختم کر دیا جائے گا لیکن پاکستان کی سالمیت کیلئے بولنا اور لکھنا ہی تو زندگی ہے۔
سی آئی اے ۔ حقیقی امریکی ریاست
09:19 AM, 12 Sep, 2025