کوہ ہمالیہ صدیوں سے عجب شان سے خاموش کھڑا ہے لیکن اس کے دامن میں موجود تین ریاستوں میں ہیجان کی سی کیفیت ہے۔ ایک ریاست بھوٹان ہے، یہاں رشتوں کی وہ پہچان نہیں جو دنیا کے دیگر ملکوں میں ہے۔ یہاں کچھ خاندانوں میں بہن اور بھائی کی شادی ہو سکتی ہے۔ ایک ریاست سکم کے نام سے جانی جاتی ہے جو زندگی کی شاہراہ پر شاید سو سال پیچھے ہے۔ تیسری ریاست نیپال ہے جہاں وہ سب کچھ دیکھنے ملتا ہے جو کسی ترقی پذیر ملک میں دیکھا جا سکتا ہے، یہاں تعلیم ہے، ٹیکنالوجی ہے، کلچر ہے، ہنر ہے، تینوں ریاستوں میں بھارت اور چین کا اثرو رسوخ ہے۔ تینوں ریاستوں میں ہندو ازم اور بدھا کی تعلیمات کے زیراثر زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔ نیپال اور نیپال کا دارالحکومت کھٹمنڈو آج دنیا کی توجہ کا مرکز ہے جہاں سہ روزہ عوامی احتجاج نے اس کے در و دیوار ہلا کے رکھ دیئے۔ حکومت بے بس ہو گئی، اسے بپھرے ہوئے لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کو تو بروقت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا لیکن حکومت کی دیگر اہم شخصیات کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر لینڈ نہ کر سکا۔ تشدد پر آمادہ ہجوم کے نرغے میں لاتعداد رہائش گاہوں کے سروں پر محو پرواز ہیلی کاپٹر فقط رسے لٹکا سکے، گھر کے مکینوں نے ان رسوں سے لٹک کر اپنی جانیں بچائیں۔ سوشل میڈیا پر ایک کلپ میں دیکھا گیا کہ ہیلی کاپٹر رسے سے لٹکنے میں کامیاب ہو جانے والے تین افراد کو ریسکیو کر رہا ہے۔ وہ ان تین افراد کو کسی محفوظ مقام پر چھوڑ کر واپس آیا تو وزراء کی اس کالونی میں ہر گھر سے بلند شعلے اٹھ رہے تھے جنہیں بپھرے ہوئے عوام نے گھیر رکھا تھا۔ انہوں نے گھروں سے ہر قیمتی شے نکال کر نذر آتش کر دی مگر پھر بھی ان کا غصہ کم نہ ہوا، انہوں نے گھر کے مکینوں کو نکال کر برہنہ کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ان میں بعض خواتین و مرد حکومت کا حصہ تھے اور چند روز قبل فرانس اور اٹلی کی سیر کے دوران وہاں کے نائٹ کلبوں میں محو رقص تھے، چند دنوں کے وقفے سے وہ ایسی جگہ پر تھے جہاں ان کے چاروں طرف موت رقص کر رہی تھی، وہ فرار ہونا چاہتے تھے لیکن شاید مہلت ختم ہو چکی تھی۔ فرار کی تمام راہیں مسدود ہو چکی تھیں۔ وہ عوام کے سامنے ہاتھ جوڑتے، معافیاں مانگتے رہے لیکن کسی نے ان پر رحم نہ کیا، جب وہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے کسی رحم مانگنے والے پر رحم نہ کیا تھا، پس کل کے مظلوموں نے اپنی عدالتیں سجا لیں اور سستا اور تیز ترین انصاف مہیا کرنا شروع کر دیا۔ کھٹمنڈو میں کچھ دل دہلا دینے والے منظر دیکھنے میں آئے، محروم ترین طبقے نے خوراک کے سرکاری گودام لوٹ لیے، جو شخص اپنے جسم کا بوجھ بمشکل اٹھائے ہوئے تھا، وہ سر پر اناج کے دو توڑے اٹھائے پوری رفتار سے چلا جا رہا تھا۔ لوگوں کے جم غفیر برینڈڈ سٹورز میں گھس گئے، پہلے تو انہوں نے توڑ پھوڑ شروع کی پھر کسی نے انہیں سمجھایا، آگ لگانے اور سب کچھ راکھ کرنے سے انہیں لوٹ لینا بہتر ہے۔ استحصال زدہ معاشرے کے باسیوں نے اس خیال سے اتفاق کیا، شاید انہیں اس خیال میں اپنی محرومیوں کا ازالہ نظر آیا۔ سٹور میں پڑی ہر چیز لوٹ لی گئی۔ یہ قیمتی اشیا عام زندگی میں ہر شخص شو کیسوں میں سجی دیکھتا تھا، اپنے اہل خانہ کے ساتھ ونڈو شاپنگ کیا کرتا تھا، خریدنے استطاعت نہ رکھتا تھا، آج اسے اپنی حسرتیں پوری کرنے کا موقع ملا تو اس نے کسی رعایت سے کام نہ لیا، قیمتی ملبوسات، سامان آرائش، گھریلو استعمال کی اشیائ، الیکٹرانک سامان، جیولری، جوتے، گھڑیاں، کمپیوٹر، سیل فون سب کچھ لوٹ لیا گیا، لوٹ مار کرنے والے بینکوں کے تالے توڑ کر اندر گھس گئے اور نوٹوں کے بنڈل اٹھا لائے۔ وہ یہ بنڈل اس طرح تقسیم کر رہے تھے، جیسے کچھ برس قبل متمول گھرانوں کے مکین اپنے گھروں کے باہر جمع ہونے والوں میں شیرینی تقسیم کیا کرتے تھے، نوٹوں کے بنڈل تقسیم کرنے والوں کے چہروں پر وہی خوشی نظر آئی جو کبھی ہم شیرینی تقسیم کرنے والوں کے چہروں پر دیکھتے تھے، مے نوشوں کے جتھے شراب کی دکانوں پر پل پڑے، انہوں نے قیمتی درآمد ہونے والی شراب کی ڈبہ بند بوتلیں اٹھائیں اور کشاں کشاں گھروں کو چل دیئے، ان کے لیے وہی سب کچھ تھا، انہوں نے جی بھر کے اپنی برسوں کی پیاس بجھائی، جیولری کی دکانیں لوٹنے والوں نے ’’لٹ دا مال‘‘ اپنی اپنی شریک حیات اور اپنی اپنی محبوبائوں کو پیش کیا، مال غنیمت جمع کرنے والے ہر گھر میں فتح کا جشن منایا گیا۔
نیپال میں جاری رہنے والے سہ روزہ معرکے میں پہلے روز انیس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، پانچ سو سے زائد نوجوان زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچے جہاں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہونے والے کی درست تعداد چھپائی جا رہی ہے لیکن محتاط اندازے کے مطابق اب ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ تمام افراد پولیس کے شدید لاٹھی چارج اور فائرنگ سے زخمی ہو کر پہلے روز ہسپتالوں میں پہنچے تھے بعدازاں پولیس پسپا ہو کر اپنی جانیں بچانے کی فکر کرنے لگی۔ انہوں نے حکمران اشرافیہ کو دو ٹوک لفظوں میں بتا دیا کہ ہم آپ کی زندگیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ اب تو ہمیں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگیوں کی فکر لاحق ہے۔ وزیراعظم نے فوج کو مظاہرین پر بے دریغ گولی چلانے کا حکم دیا لیکن فوجی سربراہ جان چکے تھے کہ فوج کی چلائی گئیں گولیاں بھی اب نوجوانوں کو روک نہ سکیں گی۔ شاید انہوں نے بنگلہ دیش کے عوامی انقلاب کا بغور مطالعہ کر رکھا تھا، انہی کی طرف سے ناامید ہو کر پھر انہی کے مشورے پر حکمران خاندان اور دیگر وزراء اور مشیروں نے حکومت سے علیحدگی اور ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے حالات کو سمجھنے میں دیر کی اور سوچتے رہے کہ وہ حالات پر قابو پا لیں گے۔ وہ المناک انجام سے دوچار ہوئے، نیپال کے پارلیمنٹ ہائوس، مرکزی ٹیلیفون ایکسچینج، مرکزی سیکرٹریٹ، وزراء کی رہائش گاہوں اور ان میں کھڑی سیکڑوں لگژری گاڑیوں کی راکھ سے آج کئی روز بعد بھی دھواں اٹھ رہا ہے، کہیں کہیں چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔
نیپال اس انجام سے کیوں دوچار ہوا، اس کا جواب ڈھونڈنا کچھ مشکل نہیں جہاں لوٹ مار کا کلچرل اشرافیہ کی رگ و پے میں شامل ہو جائے، انصاف ڈھونڈنے سے نہ ملے، پڑھی لکھی نوجوان نسل ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے دھکے کھانے لگے، ضرورت کی ہر چیز خریدار کی قوت خرید سے باہر ہو جائے۔ حکمران خاندان، اس کے وزراء اور ممبران پارلیمنٹ عیاشیوں اور خرمستیوں میں مصروف نظر آئیں، وہاں ایک نہ ایک روز یہ سانحہ ضرور رونما ہوتا ہے۔ بھوکے عوام کو کریڈٹ کارڈ خوشحالی، بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر، بلٹ ٹرین، موٹرویز اور معدنیات کے زیرزمین خزانوں کی خبروں سے زیادہ دیر تک نہیں بہلایا جا سکتا۔ بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی، سری لنکا، بنگلہ دیش کے بعد نیپال آپ دیکھ چکے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
09:19 AM, 12 Sep, 2025