پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان کشیدگی ، طورخم بارڈر بند

12:46 PM, 12 Oct, 2025

پشاور: پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ اور کشیدہ صورتحال کے باعث طورخم بارڈر دونوں اطراف سے تجارتی سرگرمیوں اور مسافروں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بارڈر بند ہونے کے بعد نہ صرف تجارتی مال کی آمدورفت رک گئی ہے بلکہ پیدل سفر کرنے والے مسافر بھی سرحد پار نہیں کر پا رہے۔ تمام مال بردار گاڑیاں لنڈی کوتل منتقل کر دی گئی ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے دونوں طرف کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی میں بھی خلل پڑے گا۔ تاہم، موجودہ حالات میں سرحد کی بندش کا فیصلہ کشیدگی سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب طورخم بارڈر پر اس طرح کی کشیدگی دیکھنے کو ملی ہو۔ 21 فروری کو بھی دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان اختلافات کی وجہ سے سرحدی گزرگاہ بند کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد مارچ میں صورتحال مزید بگڑی جب دونوں افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 6 فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے قبائلی عمائدین نے بات چیت کے ذریعے حالات میں بہتری لانے کی کوشش کی تھی، اور اس کا کچھ حد تک مثبت نتیجہ نکلا تھا۔ مگر اب دوبارہ سرحد پر کشیدگی نے لوگوں کو دوبارہ مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

مزیدخبریں