’’گھر،سسرال اور رشتے‘‘

09:22 AM, 12 Oct, 2025

چپ سائیں کدھر ہیںبھائیو۔۔۔؟ شہزاد(فرضی) صاحب  نے چوپال میں آتے ہیں پریشانی کے عالم میں پوچھا۔۔۔ نتھو اور پھتو ایک دم چونک گئے۔۔۔ انہوں نے کہاکہ شہزاد بھائی آپ بیٹھیں تو سہی۔۔۔ پانی وانی پئیں۔۔ سائیں جی آتے ہی ہوںگے۔۔۔ شہزاد صاحب سے پھتو نے پوچھا بتائیں تو سہی مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔ یہ میں تم کونہیں بتاسکتا۔۔۔ بھائیو۔۔۔ شہزاد نے ڈگمگائی آواز میں کہا۔۔۔خیر کچھ دیر بعد چپ سائیں چوپال آگئے ۔۔ ان کو دیکھ کر شہزاد بھائی نے سکھ کا سانس لیا اور بولے۔۔۔ سائیں جی میں بہت پریشان ہوں۔۔ اورکافی دیر سے آپ کا منتظر ہوں۔۔ اس پر  سائیں جی نے کہاکہ بولو۔۔ بھائی مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔ شہزاد بھائی۔۔ وہ۔۔ وہ دراصل۔۔۔ چپ سائیں نے فورا کہا۔۔ بتائیں بتائیں مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔ اس پر شہزاد صاحب بولے۔۔ سائیں جی۔۔۔ ایک سال قبل بیٹے کی شادی کی تھی۔۔۔ لڑکی بھی بہت دیکھ بھال کے گھریلو سی لایا۔۔۔میری گھر والی تو ٹھہری بھلی مانس۔۔ خیر۔۔۔ وہ تو جاننے والے تھے۔۔۔ میں تو بیٹی بنا کر لایا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔ شہزاد بھائی۔۔بولتے بولتے غمگین ہوگئے۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔بھائی جی پھر کیا ہوا۔۔؟ ۔۔ سائیں جی۔۔ تین ماہ تو بہت اچھے گزرے۔۔ لیکن  پھر اس لڑکی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا۔۔۔ سائیں جی آپ تو جانتے ہیں کہ میری دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔۔۔ بیٹے کے بعد میری دو شہزادیاں بھی ہیں جو خیر سے اب  کافی سمجھدار ہوگئی ہیں۔۔۔ اگر یہ کہوں کہ ان شہزادیوں کوبہورانی نے خاصا سمجھدار کیا ہے۔۔ تو غلط نہ ہوگا۔۔۔ ہوا کیا؟ سائیں جی بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ وہی جوہوتا ہے۔۔روز روز کی بک بک سے تنگ آکر میں نے آخر بیٹے کو الگ کردیا۔۔۔ دل میرا خون کے آنسو پی کر رہ گیا۔۔۔ میں نے محنت مزدوری کرکے  بچوں کوپڑھایا لیکن۔۔ میرا گھر میری جنت مجھے ۔۔۔ کسی دوزخ سے کم نہیں لگنے لگا تھا۔۔۔ میں، میری بیٹیاں، میری گھر والی۔۔۔ سب اس گھر جس کو تنکا تنکا کرکے بنایا۔۔۔ جنت بسائی۔۔۔ روز عذاب لگتا تھا کہ گھر جائیں۔۔ ہمیں تو گھر میں سکون ہی نہیں تھا۔۔۔ یوں سمجھئے کہ ۔۔زیادہ وقت گھر سے باہر گزرتا اور تو اور میری شہزادیاں بھی گھر سے باہر خالہ اور ماموں کے گھر رہنا پسند کرتیں۔۔ میں نے تنگ آکر ۔۔۔ بالآخر بیٹے اور بہو کو الگ کردیا۔۔۔ بات کرتے کرتے۔۔۔ شہزاد بھائی۔۔ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔ چپ سائیں نے نتھو کو پانی کا گلاس دینے کا کہا۔۔۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھائیو۔۔۔ پتہ نہیں۔۔۔ آج کل کی بچیوں کو کیا ہوگیا ہے۔۔ وہ چاہتی ہیں کہ جس گھر بیاہ کر جائیں ۔۔۔وہاں پر وہ بھی اکیلی ہوں اور ان کا صاحب یعنی گھر والا بھی بس اکیلا ہی ہو۔۔۔ بیٹیاں تو سفیر ہوتی ہیں۔۔ ان کو سفیر وں جیسا ہی ہونا چاہئے۔۔۔ تاکہ وہ لوگوںکا گھر بسائیں اور اس کو جنت بنائیں۔۔ نہ کہ یہ کریں کہ ’’میں وی کلی تے تو وی کلا‘‘ ۔۔۔ اور گھر کے دیگر بسنے والے خصوصی طور پر اس گھر کی بچیاں ذہنی اذیت کا شکار ہو جائیں اور گھر میں رہنے کی بجائے۔۔ دوسروں کے گھر بسیرا کرنے کا سوچیں۔۔
صاحبو!گھر وہ جگہ ہے جہاں دل کو سکون کی امید ہوتی ہے، ایک پناہ گاہ، جہاں باہر کی دنیا کی تلخیاں دروازے کی دہلیز پر رک جائیں۔ مگر جب باہر کی فضا مسلسل خوف، ناانصافی اور بے یقینی سے لبریز ہو، تو وہ سکون، جو ہم دیواروں کے اندر تلاش کرتے ہیں، دھیرے دھیرے بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہ خونی رشتے اینٹوں کے  مکان کو گھر بناتے ہیں اور اسی گھر کو تنکا تنکا کرکے اینٹوں تک محدود کردیتے ہیں۔۔۔ دوستو! کیونکہ سکون صرف چار دیواری سے نہیں آتا، بلکہ اس معاشرے سے جڑا ہوتا ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں کی طرح بنا لیا ہے محفوظ، مضبوط، اور خاموش۔ مگر ۔۔۔ جب گھر میں بے سکونی کی کیفیت ہو اور گھر سے باہر جانے کو دل کریں تو وہ خوابوں کامحل کس کام کا؟۔۔۔ صاحبو!۔۔۔سکون ایک اجتماعی تصور ہے، ذاتی نہیں۔ اگر میرے ہمسائے کا بچہ خوف میں سوتا ہے، تو میرے گھر کا پرسکون کمرہ مجھے چین نہیں دے سکتا۔ انسان ہمیشہ سے سکون کا متلاشی رہا ، وہ گھر بناتا ہے، دیواریں کھڑی کرتا ہے، دروازے بند کرتا ہے، تاکہ خود کو بے چینی، شور، اور خطرات سے محفوظ رکھ سکے۔ مگر کیا صرف دروازے بند کر لینے سے سکون حاصل ہو جاتا ہے؟نہیں ہر گز نہیں۔۔۔ٹوٹ پھوٹ اندر سے ہی شروع ہوتی ہے اور پھر۔۔۔خدا کی پناہ۔۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
کسی بھی معاشرے کا امن صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر قائم ہوتاہے۔دوستو! میں آج کی مائوں کو یہ پیغام دوں گا۔۔۔ وہ اپنی بیٹیوںکو اپنے گھر میں بے شک ہر سہولت اور خوشی دیں لیکن  یہ سبق بھی دیں کہ جب وہ والدین کا گھر چھوڑ کر سسرال جائیں تو۔۔۔  اس کو ہی اپنا گھر سمجھیں اور اس کو جنت بنائیں۔۔ چاہے وہاں پر دولت کی فراوانی نہ ہو لیکن اتنا سکون ہو کہ اس گھر کے افراد کی زبان پر اس بچی کا ہی نام ہو۔۔۔ لیکن یہ بھی کہوں گا کہ بھائیو آنے والی کو تھوڑا وقت دو۔۔ اس کو سمجھو اور سمجھائو کہ گھر گھرہستی کیا ہے؟۔۔ لیکن یہ کام بیٹے پر چھوڑو اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرو۔۔۔ تاکہ گھر جنت بن سکے نہ کہ دوز خ کی مانند۔۔۔لڑکیاں سسرال کو جنت بنائیں اور رشتوں کو جوڑیں نہ کہ توڑیں۔۔۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ خواتین اگر چاہیں تو گھر کا ماحول محبت بھرا، پرسکون اور خوشگوار بنا سکتی ہیں، لیکن اس بات کا دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔۔۔صرف لڑکی پر یہ ذمہ داری ڈال دینا کہ وہ رشتے جوڑے، سسرال کو جنت بنائے، یہ غیر منصفانہ ہے۔ سب کا رویہ اور کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا بہو کا۔دونوں طرف کی تربیت اہم ہے، بیٹوں کو بھی سکھانا چاہیے کہ رشتے نبھانے اور عزت دینے ہیں۔صاحبو''لڑکیاں اور لڑکے دونوں اپنے سسرال و سسرالی رشتوں کو محبت، صبر اور سمجھداری سے نبھائیں، تاکہ گھر واقعی جنت بن سکے۔۔۔اس حقیقت سے منہ نہیں پھیراجاسکتا کہ گھر تب  ہی جنت بنتا ہے جب سب ایک دوسرے کو عزت دیں، برداشت کریں اور رشتے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کریں  چاہے وہ بہو ہو یا ساس، شوہر ہو یا بیوی۔۔۔۔ گھر اینٹ گارے کا نام نہیں۔۔ بہو کو بھی سسرال میں بہو نہیں بیٹی بن کر رہنا چاہئے اور ایسی مثال قائم کرنی چاہیے کہ ۔۔۔ سب کہیں واقعی ۔۔ ماں باپ نے بہترین تربیت کی ہے اور ۔۔۔بچی تو واقعی ہیرا ہے ہیرا۔۔۔ لیکن اسی ہیرے کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماند نہ پڑے بلکہ وہ انتہائی قیمتی ہوکر بے مول ہوجائے۔۔ اللہ آسانی تقسیم کرنے کی توفیق دے ۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں