پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر وہی تماشہ لگنے جا رہا ہے جو برسوں سے ہم دیکھتے آ رہے ہیں۔ اقتدار کے لالچ میں اندھے ہو کر بعض سیاستدان صرف اور صرف اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں چاہے اس چکر میں ملک کی بنیادیں ہی کیوں نہ ہل جائیں۔ دو روز قبل آئی ایس پی آر کی میڈیا ٹاک میں کہا جانے والا ایک سیدھا مگر معنی خیز جملہ پوری قوم کے کانوں میں گونج رہا ہے ، ’ایک شخص جو ریاست مخالف سوچ رکھتا ہو، وہ کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ کیسے بن سکتا ہے؟‘
بات اتنی سادہ ہے کہ سمجھنے کے لیے کسی فلسفے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے ہی گھر کے چراغ کو بجھانے کی ٹھان لے، تو پھر اسے مالک نہیں، دشمن کہلا یا جانا چاہیے۔ ریاست پاکستان کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں، یہ 25 کروڑ لوگوں کا گھر ہے اور جو اس گھر کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی خواہش رکھے گا یا منصوبہ بندی کرے گا، خواہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، وہ دشمن ہی گردانا جائے گا ۔
کوئی اس بات سے متفق ہو یا نہ ہو لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ عمران خان کا معاملہ اب ذاتی اختلاف یا پسند ناپسند سے بڑھ کر قومی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب نوجوان اسے’امید کی کرن‘سمجھتے تھے۔ وہ ایمانداری، انصاف، اور خودداری کی بات کرتا تھا۔ مگر جب وقت کا پہیہ گھوما تو ہم نے دیکھا کہ یہی عمران خان ایسے بیانات دیتے دکھائی دیے کہ جنہیں سن کر دشمن ملکوں کے سیاستدان، تجزیہ کار اور نیوز چینل تالیاں بجاتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ سیاست میں اختلاف رائے ضروری ہوتا ہے، لیکن کیا اختلاف رائے اور دشمنی میں فرق نہیں ہو نا چاہیے؟ دانستہ یا نادانستہ طور پرعمران خان اس لکیر کو پار کر چکا ہے۔ اداروں کے خلاف بیان بازی، فوج کو متنازع بنانا، عدالتوں پر الزامات لگانا اور ملکی دفاع اور اقتصادیات کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ایسے اقدامات ہیں کہ جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ زہر ہے جو قوم کے جسم میں آہستہ آہستہ سرایت کر رہا ہے۔ اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ قومی اتحاد کو کھا جا ئے گا اور قوم کو تقسیم کر دے گا۔
آئی ایس پی آر کا بیان کسی سیاسی جوابی وار کے طور پر نہیں بلکہ اسے ایک قومی درد کے اظہار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ فوج اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ہر مشکل وقت میں قوم کا ساتھ دیا۔ کبھی دہشت گردی کے خلاف لڑی، کبھی سیلاب یا زلزلے کے دوران امداد ، فوج ہمیشہ سب سے آگے رہی۔ اب اگر کوئی شخص انہی پر انگلی اٹھائے تو اسے کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟۔
یہ وہی بات ہے کہ،’جس تھالی میں کھاؤ، اسی میں چھید کرنا ۔‘ فوج، عدلیہ اور دیگر ادارے اسی ملک کے حصے ہیں جن کے کردار پر انگلی اٹھا کر عمران خان سیاست کررہا ہے۔جانے کیوں اسے اتنی بنیادی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب اداروں کی ساکھ پر حملہ ہوتا ہے تو اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے اور جب ملک کمزور ہو تو کوئی بھی لیڈر طاقتور نہیں رہ سکتا۔
عمران خان کے بیانات اور طرز سیاست سے یہ تاثربھی ملتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ فوج اس کی مرضی کے تابع ہو۔ لیکن فوج کسی سیاستدان کی جاگیر نہیں۔ وہ آئین کے تحت کام کرتی ہے ناکہ کسی فرد کے ۔
آئی ایس پی آر نے دراصل ایک بہت بنیادی اصول کی یاد دہانی کرائی ہے کہ ’ریاست سب سے پہلے‘۔سیاست، جماعتیں، لیڈر، سب بعد میں۔ کوئی شخص چاہے کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، اگر وہ ریاستی مفاد کے خلاف بولے گا تو وہ اپنے حلف، اپنے ایمان اور اپنی ذمہ داری سے غداری کرے گا۔
اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عمران خان کے بیانات دشمن کے بیانیے سے بہت زیادہ میل کھاتے ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور دیگر مخالف ممالک جب پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں تو وہ اکثر انہی جملوں کو دوہراتے ہیں جو عمران خان استعمال کرتا ہے۔ یہ محظ ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
عمران خان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ اسے چاہیے کہ سیاست کو ذاتی انتقام اور ضد کی بھینٹ نہ چڑھائے۔ایک سادہ سی منطق ہے کہ اگر ملک ہی نہ رہا تو اقتدار کا کیا فائدہ؟ آج پاکستان کو انتشار نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو اپنے طرزسیاست پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وہ اگر واقعی پاکستان کے لیے سیاست کر رہے ہیں تو پھر ان کا ہر قدم پاکستان کے حق میں ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے خلاف۔ آئی ایس پی آر کا یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ ،ریاست مخالف سوچ رکھنے والا وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتا۔ یہ ایک آئینی حقیقت ہے۔ یہ اصول صرف عمران خان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے ریاست کو کمزور کرتا ہے۔
ممکن ہے کہ عمران خان کے چاہنے والے لاکھوں میں ہوں ، مگر ایسی لیڈر شب کا کیا فائدہ جو اپنے چاہنے والوں کو نفرت سے باز رہنا نہ سکھا سکے اورجو انہیں یہ سکھائے کہ اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ان سے لڑنا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے بیانات نے نوجوانوں میں اداروں کے خلاف غصہ اور نفرت پیدا کی ہے۔ یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں کل فوج میں، پولیس میں یا بیوروکریسی میں شامل ہونا ہے۔ جب وہ اپنے ہی اداروں پر یقین کھو دیں گے تو ملک کیسے چلے گا؟۔
آئی ایس پی آر کا بیان دراصل ایک سخت مگر سچی بات ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ہر باپ اپنے نالائق بیٹے سے کرتا ہے کہ ،بیٹا، گھر جلاؤ گے تو رہو گے کہاں؟ عمران خان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر اس نے اپنا بیانیہ نہ بدلا تو وہ خودتو سیاست سے باہر ہو گا ہی لیکن ان حرکتوں کی وجہ سے قوم مزید تقسیم ہو جائے گی۔
پاکستان کے عوام اب سیاست کی لڑائیاں نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ روٹی، روزگار اور امن چاہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ایک لیڈر دوسرے پر غداری کا الزام لگائے اور دشمن اس پر تالیاں بجائیں۔ انہیں وہ پاکستان چاہیے جو متحد ہو، مضبوط ہو، اور جس میں کوئی سیاستدان ریاست سے بڑا نہ ہو۔
آئی ایس پی آر نے جو بات کہی ہے، دراصل وہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔’ ملک سب سے پہلے، سیاست بعد میں‘۔ اگر عمران خان اس بات کو سمجھ گیا تو وہ تاریخ میں عزت سے یاد کیا جائے گا ورنہ وہ بھی ان سیاستدانوںکی قطار میں کھڑا نظر آئے گا جو اقتدار کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنا وقار کھو بیٹھے۔
پاکستان ہمارا گھر ہے، اور گھر کو سنبھالا جاتا ہے، جلایا نہیں جاتا۔ جو اس گھر کے ستونوں کو کمزور کرے گا، وہ خود ملبے تلے دب جائے گا۔ عمران خان کو اب دشمنوں کے کھیل سے باہر آنا ہوگا۔ وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا اپنی ضد کے ساتھ۔
سب سے پہلے پاکستان!
09:21 AM, 12 Oct, 2025