ڈی جی کا پیغام، سہولت کاروں کے نام

09:20 AM, 12 Oct, 2025

اول وآخر ،سو باتوں کی ایک بات ،ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ دہشتگردوں کے سہولتکار اور ہمدردوں کے خاتمے کے بغیر کبھی ممکن نہیں ہوگا ۔فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اسی طرح مرتے رہنا ہے،لڑتے رہنا ہے فوجی جوان شہیدکرواتے رہنا ہے یا پھر ایک نارمل ملک کی طرح زندگی گزارنی ہے۔اس میں رتی برابر شک نہیں کہ مقامی سہولتکاری کے بغیر دہشتگردی کا امکان انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابررہ جاتا ہے ۔چودہ فروری دوہزار سترہ کو لاہور کے فیصل چوک پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک دھرنا جاری تھا ۔مال روڈ کئی روز سے بند تھا کہ ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ احمد مبین مظاہرین سے مذاکرات کرکے راستہ کلیئر کروانے کے لیے مال روڈ پر موجود تھے۔ان کے ساتھ لاہور کے ایس ایس پی آپریشن زاہد گوندل بھی پہنچ گئے۔جب پولیس افسر خود کسی جگہ موجود ہوں تو پھر ان کے درجنوں ماتحت بھی ساتھ ہوتے ہیں یہی موقع تھا جب خود کش دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا اور اس دھماکے میں ڈی آئی جی احمد مبین اور ایس ایس پی زاہد گوندل سمیت کئی پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
یہ پولیس پر ایک بڑا حملہ تھا ۔خود کش دہشتگرد اس حملے میں مارا جاچکا تھا ۔پولیس کی تفتیش کا رخ صرف اس حملہ آور کے سہولتکاروں اور ہمدردوں کی طرف تھا۔سیف سٹی کے کیمروں کی چھان بین شروع کردی گئی ۔پولیس کو کامیابی ملنا شروع ہوئی ۔خود کش حملہ آور کے لاہور میں داخلے کے شواہد ملے ۔اس کے روٹ اور نقل وحرکت کا کیمروں کی مدد سے پیچھا کیا گیا ۔سہولتکاری کا کھرُا بادامی باغ کے علاقے سے ملنا شرو ع ہوگیا ۔پولیس نے اپنے افسر کی شہادت کا کیس حل کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا۔دہشت گرد کے سہولتکار بھی کچھ ایسے ہی لوگ نکلے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے یہاں سے خود کش حملہ آور لاہور حملے کے لیے لایا گیا تھا۔پولیس نے اس دہشت گرد کو پناہ دینے والے،کھانا دینے والے۔رات گھر رکھنے والے اور اس کو لاہور میں سہولتکاری کرنے والے ایک ایک شخص کو چن چن کر گرفتار کرلیا۔پولیس مقابلے ہوئے اور دہشتگردوں کے سہولتکاربھی خود کش حملہ آور تک پہنچادیے گئے ۔لاہور میں ایسے تمام لوگ جو دہشتگردوں کو پناہ دینے کا سوچ رہے تھے۔جو دہشتگردوں سے ہمدردی کی وجہ سے ایسی سہولت فراہم کرنے کا سوچ رہے تھے ان تک ایسا پیغام پہنچا کہ سب لوگ توبہ تائب ہوگئے ۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ لاہور میں دہشتگردی کے بعد پولیس نے اس انداز میں سہولتکاروں کو پیغام دیا کہ اس کے بعد لاہور میں اس نوعیت کی دہشتگردی نہیں ہوئی ۔لاہور میں رہنے والے ہر شخص کومعلوم ہے کہ اس طرح کی حرکت کا انجام کیا ہوگا۔
ویسے بھی پنجاب اور سندھ کے لوگ ایسی امن دشمن روایات پر یقین نہیں رکھتے اور عمومی طوپر دہشت گردی کے خلاف ہیں ۔سہولتکاری اور ہمدردری سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں میں دہشت گردی کا وہ غلبہ نہیں ہے لیکن خیبرپختونخوا میں یہ نحوست بہت زیادہ ہے ۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پشاور پولیس لائن میں دھماکے کا سہولتکار بھی ایک پولیس کانسٹیبل ہی تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس سہولتکاری کیخلاف ایک اہم سنگ میل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہاں سیاسی مصلحتوں کو دہشت گردی کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ کہا اور نیشنل ایکشن پلان پر جس طرح عمل نہ ہونے کی بات کی اس کے ساتھ ساتھ سہولتکاروں کو واضح الفاظ میں پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے پاس صرف تین آپشن ہیں ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ایسے تمام لوگوں کو جوملک میں دہشت گردی کی سہولتکاری کرنا چاہتے ہیں ۔جن کو فتنہ الخوارج کے لوگ اس صوبے کے شہریوں کو مارنے کے لیے تیار کرکے ان کے ہی رشتہ داروں کے ہاں ٹھہراتے ہیں ایسے تمام لوگ اس سہولتکاری کو ختم کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خود حوالے کردیں۔ اگر ایسی ہمت نہیں کرسکتے یا مصلحت آڑے آرہی ہے تو پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ایسے عناصر سے لڑیں ۔تیسرا آپشن وہی ہے جو دہشت گردوں کے لیے ہے کہ پھر ریاست ان کے ساتھ لڑے گی ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کولیٹرل ڈیمج کے سوال کا جو جواب دیا وہ بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔انہوں نے بجا طورپر کہا کہ اگر یہ لوگ عام شہری اور کولیٹرل ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی جگہ پر کیوں موجود تھے یہاں دہشت گرد اپنا ٹھکانا بنائے بیٹھے تھے ۔یہاں اسلحے اور گولہ بارود کا ذخیرہ جمع کرکے اس کو پاک فوج اور عام شہریوں پر حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہو؟ یہ لوگ عام شہری تو تب تصور ہوں جب اپنے سامنے ایسے منصوبے بنتے دیکھ کر ریاست کو اطلاع دیں ۔خود کو اس جگہ سے ہی دور کرلیں لیکن ایسے لوگ دہشت گردوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔یہی سہولتکاری ہے اگر فوج کے حملے میں ایسے لوگ مرتے ہیں تو ان کا شمار دہشتگردوں میں ہونا چاہیے لیکن یہاں ان پر سیاست شروع کردی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو بارہوا ں سال ہے ۔اس پارٹی میں وہاں ہمیشہ دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی بات کی ۔ریاست نے نرمی دکھائی بھی ۔ہم نے طالبا ن سے سوات سے لے کر وزیرستان تک ہر جگہ مذاکرات کیے لیکن جب سامنے ریاست ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہوتی تھی تو پیچھے سے یہ لوگ ہمارے لوگوں کی گردنیں کاٹ رہے ہوتے تھے۔عمران خان صاحب کے کہنے پر نوازشریف کے حکومت میں آتے ہی چودھری نثار علی خان مذاکرات کی میز سجا کر نہیں بیٹھے تھے؟ ۔مولانا سمیع الحق کے مدرسے کی میزبانی میں اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر مذاکرات کے لیے جب وزیرستان جارہے تھے اسی وقت سامنے مذاکرات کی میز سجانے والے پیچھے سے پشاور اے پی ایس کے بچوں کا خون بہا رہے تھے۔ہم نے تو نیک محمد سے بھی مذاکرات کیے،حکیم اللہ محسود سے بھی مذاکرات ہی کیے،بیت اللہ محسود سے بھی مذاکرات کیے لیکن حاصل کیا ہوا؟ آپ کو یاد ہے کہ کس طرح صوفی محمد سے سوات میں صوبائی حکومت مذاکرات کے بعد ان سے معاہدے کررہی تھی اور پیچھے سے ان کا ہی داماد ملا فضل اللہ پورے سوات کو نوگوایریا بناچکاتھا؟۔
اس لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کی بات کرنا دہشت گردوں کو طاقتور کرنا ہے۔ مذاکرات وہاں ہو سکتے ہیں جہاں کوئی مسئلے کاحل نکالنا ہو۔ یہ مسئلہ ناقابل حل اور ناقابل فہم ہے۔جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سنٹر کے پولیس شہدا کی نمازجنازہ اداکی جارہی ہے تو پشاور حسن خیل کے تھانے پر دہشت گرد حملہ آور ہیں۔دودن پہلے گیارہ فوجی جوان شہیدکیے گئے ہیں ۔ان کا تومطالبہ ہی یہ ہے کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں ہمیں حکومت کرنے دیں ۔یہ آئین ٹھیک نہیں ہے یہ قانون درست نہیں ہے تو کیا ان کی یہ بات مان کر پاکستان کو ان کے حوالے کردیں؟ عمران خان صاحب ہمت کریں اپنی حکومت ان کو دے کر دیکھ لیں کیا ہوتا ہے ۔میری درخواست ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو عزم کیا ہے اس پر پہرا دیا جائے اور دہشت گردوں سے پہلے ان کے سہولتکاروں کو ختم کیا جائے ۔

مزیدخبریں